شاعری

جیسے خوشبو کو سلیقے سے صبا لے جائے

جیسے خوشبو کو سلیقے سے صبا لے جائے کوئی ایسے ہی مجھے مجھ سے چھڑا لے جائے مرحلہ وار بکھرتی ہی گئی ہوں خود میں اب جدھر چاہے ہوا مجھ کو اڑا لے جائے جاذبیت ہے بڑی رونق دنیا تجھ میں اک غزال آئے مجھے سب سے بچا لے جائے ہائے وہ گرمیٔ بازار منا کہ مجھے ہر طلب خواب کے ناکے پہ بٹھا لے ...

مزید پڑھیے

فضا میں زہر گھولا ہم نے خود اب دم نکلتا ہے

فضا میں زہر گھولا ہم نے خود اب دم نکلتا ہے اجل کا پیرہن اوڑھے ہر اک موسم نکلتا ہے بھٹکتے کیوں ہیں مرہم کے لئے ہم دشت و صحرا میں ہمارے زخم کے اندر ہی سے مرہم نکلتا ہے ہمارے جسم کے اندر بسے ہیں سیکڑوں عالم ہر اک عالم کے اندر اک نیا عالم نکلتا ہے ہماری کامرانی نے کیا سورج کو بھی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں تیری نور سحر چھوڑ جاؤں گا

آنکھوں میں تیری نور سحر چھوڑ جاؤں گا میں ظلمتوں میں شمس و قمر چھوڑ جاؤں گا مجھ کو تلاش کرتی رہے تجھ میں کائنات یادوں کا اپنی ایسا اثر چھوڑ جاؤں گا دیکھے گا تو ہر ایک کو میری نگاہ سے تیری نظر میں اپنی نظر چھوڑ جاؤں گا مجھ کو نہ کر سکے گا فراموش تو کبھی جینے کا میں تو مر کے ہنر ...

مزید پڑھیے

پیکر خاکی یہ مانا موت سے دو چار ہے

پیکر خاکی یہ مانا موت سے دو چار ہے زندگی تیرا مگر رستہ بہت دشوار ہے جو ہے مفلس وہ زمانے میں ذلیل و خوار ہے مال و زر ہو پاس جس کے صاحب کردار ہے رس رہا ہے خوں بدن سے بھیگتا ہے پیرہن زخم ہے میرے جگر کا یا کہ لالہ زار ہے خون دل سے میں نے سینچا ہے تجھے اے زندگی میرے ہی دم سے تو یہ چہرا ...

مزید پڑھیے

آہ زخمی ہے دل شکستہ ہے

آہ زخمی ہے دل شکستہ ہے ہائے آنکھوں سے خوں برستا ہے ہو گئی ہیں لہو لہو سانسیں روح کو آ کے کوئی ڈستا ہے آ گیا ہے تو جا نہیں سکتا دل کی دنیا میں کوئی بستا ہے فرق کوئی نہیں ہے دونوں میں زندگی موت ہی کا رستہ ہے ساری دنیا میں مہنگا ہے پانی خوں زمانے میں آج سستا ہے لاش اپنی لئے بھٹکتا ...

مزید پڑھیے

زندگی تجھ سے بہت آج میں شرمندہ ہوں

زندگی تجھ سے بہت آج میں شرمندہ ہوں موت ہر سانس میں آتی ہے مگر زندہ ہوں جب کوئی راگ میں چھیڑوں تو برستا ہے لہو جس کا ہر ساز شکستہ ہے وہ سازندہ ہوں جھوٹ ہوتا نہ جو سچ بھی نہ جہاں میں ہوتا تیرگی ساتھ ہے اس واسطے تابندہ ہوں مجھ کو آتا نہیں دنیا کی غلامی کرنا اپنے جذبات و خیالات کا ...

مزید پڑھیے

زمیں پر سرنگوں بیٹھا ہوا ہوں

زمیں پر سرنگوں بیٹھا ہوا ہوں اور اپنا ریزہ ریزہ چن رہا ہوں اگر الجھن نہیں کوئی تو کیوں میں مسلسل سوچتا ہوں جاگتا ہوں اسیر روز و شب ہے زندگانی میں اس تکرار سے اکتا گیا ہوں مری عریانیوں پر شور کیوں ہے اگر اندھوں میں ننگا ہو گیا ہوں تم اپنی روشنی محفوظ رکھنا تمہارے واسطے میں ...

مزید پڑھیے

ہر عکس میں جس کا مجھے جلوہ نظر آیا

ہر عکس میں جس کا مجھے جلوہ نظر آیا وہ آئنہ خانے میں اکیلا نظر آیہ جب دھیان گیا اپنی طرف خود پہ نظر کی صحرا بھی ہمیں خاک کا ذرہ نظر آیا تھا محو سفر اپنی ہی تکمیل کی جانب جو نقش بھی دیکھا وہ ادھورا نظر آیا اک روز اچانک اسے دیکھا تھا سفر میں پھر دور تلک دشت میں دریا نظر آیا اب شہر ...

مزید پڑھیے

کون ہے نیک کون بد ہے یہاں

کون ہے نیک کون بد ہے یہاں کس کے ہاتھوں میں یہ سند ہے یہاں کھلتے جاتے ہیں کائنات کے بھید جو ازل ہے وہی ابد ہے یہاں جو نظر آئے وہ حقیقت ہے جو کہا جائے مستند ہے یہاں کتنی مدت سے دیکھتا ہوں میں اک تماشائے خال و خد ہے یہاں جو کسی طور جل نہیں پائے ان چراغوں کی کوئی حد ہے یہاں اپنی ...

مزید پڑھیے

یہ کیسی صبح ہوئی کیسا یہ سویرا ہے

یہ کیسی صبح ہوئی کیسا یہ سویرا ہے ہمارے گھر میں ابھی تک وہی اندھیرا ہے نہ جانے اب کے برس ہاریوں پہ کیا گزرے پکی ہے فصل تو بادل بہت گھنیرا ہے کٹے شجر کو نئی رت کا حال کیا معلوم کہ واسطہ تو یہاں موسموں سے میرا ہے پرند کیوں نہ اڑیں اس درخت سے زلفیؔ کمان بن گئیں شاخیں جہاں بسیرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 395 سے 4657