شاعری

لمحات غم عشق کے بے باک بہت تھے

لمحات غم عشق کے بے باک بہت تھے قصے میری چاہت کے خطرناک بہت تھے میں خون کے دھاگوں سے انہیں سی نہیں پایا زخموں کے گریبان مرے چاک بہت تھے آئی ہے بلا ایک فلک سے گمان تھا جب غور کیا میں نے تو افلاک بہت تھے آ جاتا ہے خود موت کو رہ رہ کے پسینہ تیور میری ہستی کے غضب ناک بہت تھے دنیا تو ...

مزید پڑھیے

اب خانہ بدوشوں کا پتہ ہے نہ خبر ہے

اب خانہ بدوشوں کا پتہ ہے نہ خبر ہے کوئی ہے نظر بند کوئی شہر بدر ہے پھر فصل بہار آئی پرندے نہیں آئے ویران ابھی تک مرے آنگن کا شجر ہے قامت ہی میسر ہے اسے اور نہ چہرہ یہ کون سی مخلوق ہے کیسا یہ نگر ہے میں دھوپ اٹھائے ہوئے چپ چاپ کھڑا ہوں اس دشت میں ہستی مری مانند شجر ہے پھر دیکھنا ...

مزید پڑھیے

خواب پہلے لے گیا پھر رت جگا بھی لے گیا

خواب پہلے لے گیا پھر رت جگا بھی لے گیا جاتے جاتے وہ مرے گھر کا دیا بھی لے گیا دھوپ ہے اب اور نہ بادل ہے نہ خوشبو اور نہ پھول سارے موسم لے گیا آب و ہوا بھی لے گیا زندگی اے زندگی طے ہو مسافت کس طرح سمت منزل لے گیا وہ راستہ بھی لے گیا ایک مدت ہو گئی بیٹھا ہوں سنگ میل پر راستوں کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

کسی دیار کسی دشت میں صبا لے چل

کسی دیار کسی دشت میں صبا لے چل کہیں قیام نہ کر مجھ کو جا بہ جا لے چل میں اپنی آنکھیں بھی رکھ آؤں اس کی چوکھٹ پر یہ سارے خواب مرے اور رت جگا لے چل میں اپنی راکھ اڑاؤں گا جل بجھوں گا وہیں مجھے بھی اس کی گلی میں ذرا ہوا لے چل ہتھیلیوں کی لکیروں میں اس کا چہرا ہے یہ میرے ہاتھ لیے جا ...

مزید پڑھیے

جیسے کشتی اور اس پر بادباں پھیلے ہوئے

جیسے کشتی اور اس پر بادباں پھیلے ہوئے میرے سر پر اس طرح ہیں آسماں پھیلے ہوئے چل رہے ہیں دھوپ سے تپتی ہوئی سڑکوں پہ لوگ اور سائے سائباں در سائباں پھیلے ہوئے دیکھیے کب تک رہے تنہا پرندے کی اڑان ہیں سمندر ہی سمندر بے کراں پھیلے ہوئے جاگتی آنکھوں کے خواب اور تیرے بالوں کے ...

مزید پڑھیے

نظر نظر سے ملا کر شراب پیتے ہیں

نظر نظر سے ملا کر شراب پیتے ہیں ہم ان کو پاس بیٹھا کر شراب پیتے ہیں اسی لیے تو اندھیرا ہے مے کدہ میں بہت یہاں گھروں کو جلا کر شراب پیتے ہیں ہمیں تمہارے سوا کچھ نظر نہیں آتا تمہیں نظر میں سجا کر شراب پیتے ہیں انہیں کے حصہ میں آتی ہے پیاس بھی اکثر جو دوسروں کو پلا کر شراب پیتے ...

مزید پڑھیے

عکس زنجیر پہ جاں دینے کے پہلو دوں گا

عکس زنجیر پہ جاں دینے کے پہلو دوں گا کچھ سزا تجھ کو بھی اے شاہد گیسو دوں گا اپنے گھر سے تجھے جانے نہیں دوں گا خالی مجھ کو ہیرے نہیں حاصل ہیں تو جگنو دوں گا زندگی تجھ سے یہ سمجھوتہ کیا ہے میں نے بیڑیاں تو مجھے دے میں تجھے گھنگھرو دوں گا مجھ کو دنیا کی تجارت میں یہی ہاتھ آیا میں نے ...

مزید پڑھیے

پھر ترے ہجر کے جذبات نے انگڑائی لی

پھر ترے ہجر کے جذبات نے انگڑائی لی تھک کے دن ڈوب گیا رات نے انگڑائی لی جیسے اک پھول میں خوشبو کا دیا جلتا ہے اس کے ہونٹوں پہ شکایات نے انگڑائی لی سرخ ہی سرخ ہے اس شہر کا منظر نامہ امن ہوتے ہی فسادات نے انگڑائی لی ہم بھی اس جنگ میں فی الحال کیے لیتے ہیں صلح دیکھا جائے گا جو حالات ...

مزید پڑھیے

صدیوں لہو سے دل کی حکایت لکھی گئی

صدیوں لہو سے دل کی حکایت لکھی گئی میری وفا گئی نہ تری بے رخی گئی دل دے کے اس کو چھوٹ گئے اپنے آپ سے اس سے چھٹے تو ہاتھ سے دنیا چلی گئی یاد آئی اپنی خانہ خرابی بہت مجھے دیوار جب بھی شہر میں کوئی چنی گئی اس کو بھی چھیڑ چھاڑ کا انداز آ گیا دیکھا مجھے تو جان کے انگڑائی لی گئی ناخن کے ...

مزید پڑھیے

دل وہ جس کے آئینے میں عکس آئندہ رہا

دل وہ جس کے آئینے میں عکس آئندہ رہا تیرہ دامن منزلوں میں بھی درخشندہ رہا آہ آوارہ کی صورت روح‌ گل پیاسی رہی پھول خوشبو بن کے شبنم کے لئے زندہ رہا ہائے وہ اک مفلس و بے خانما جو عمر بھر سایۂ دیوار اہل زر کا باشندہ رہا کون ہم سے چھین سکتا ہے محبت کا مزاج پتھروں میں رہ کے بھی یہ نقش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 396 سے 4657