لمحات غم عشق کے بے باک بہت تھے
لمحات غم عشق کے بے باک بہت تھے قصے میری چاہت کے خطرناک بہت تھے میں خون کے دھاگوں سے انہیں سی نہیں پایا زخموں کے گریبان مرے چاک بہت تھے آئی ہے بلا ایک فلک سے گمان تھا جب غور کیا میں نے تو افلاک بہت تھے آ جاتا ہے خود موت کو رہ رہ کے پسینہ تیور میری ہستی کے غضب ناک بہت تھے دنیا تو ...