شاعری

پیلا تھا چاند اور شجر بے لباس تھے

پیلا تھا چاند اور شجر بے لباس تھے تجھ سے بچھڑ کے گاؤں میں سارے اداس تھے سوچا تو تو مگن تھا فقط میری ذات میں دیکھا تو کتنے لوگ ترے آس پاس تھے جب ہم نہ مل سکے تو ہمیں ماننا پڑا بستی کے لوگ کتنے ستارہ شناس تھے دل اس پہ مطمئن تھا کہ ہم ایک ہو گئے لیکن کئی گماں مری سوچوں کے پاس تھے وہ ...

مزید پڑھیے

طائروں کی اڑان میں ہم ہیں

طائروں کی اڑان میں ہم ہیں اس کھلے آسمان میں ہم ہیں آخر کار ہجر ختم ہوا اور پس ماندگان میں ہم ہیں کیوں نہ ہو خوف انہدام دل اسی خستہ مکان میں ہم ہیں ہم فقط تیری گفتگو میں نہیں ہر سخن ہر زبان میں ہم ہیں اور کوئی نظر نہیں آتا اس زمین آسمان میں ہم ہیں کیا دعا کی قبولیت اشفاقؔ سب کے ...

مزید پڑھیے

رنج جو دیدۂ نمناک میں دیکھا گیا ہے

رنج جو دیدۂ نمناک میں دیکھا گیا ہے یہ فقط سینۂ صد چاک میں دیکھا گیا ہے اس سے آگے ہے میاں منتظروں کی بستی اک دیا جلتا ہوا طاق میں دیکھا گیا ہے اے جنوں اس کی کہانی بھی سناؤں گا تجھے یہ جو پیوند مرے چاک میں دیکھا گیا ہے یعنی اک آنکھ ابھی ڈھونڈھتی پھرتی ہے مجھے یعنی اک تیر مری تاک ...

مزید پڑھیے

میں سیکھتا رہا اک عمر ہاؤ ہو کرنا

میں سیکھتا رہا اک عمر ہاؤ ہو کرنا یوں ہی نہیں مجھے آیا یہ گفتگو کرنا ابھی طلب نے جھمیلوں میں ڈال رکھا ہے ابھی تو سیکھنا ہے تیری آرزو کرنا ہمیں چراغوں سے ڈر کر یہ رات بیت گئی ہمارا ذکر سر شام کو بہ کو کرنا بھلا یہ کس نے کہا تھا حیات بخش ہے یہ عشق کبھی ملے تو اسے مرے رو بہ رو ...

مزید پڑھیے

رگھوپتی راگھو راجا رام

رگھوپتی راگھو راجا رام پتیت پاون سیتا رام تلسی کی راماین کے رام کی لیلا والے رام بچپن میں تھے دوست مرے اور لڑکپن میں ہم جام قصبے قصبے نگر نگر جہاں بھی لے پہنچے ایام نام تمہارا چلتا تھا بن جاتے تھے بگڑے کام دیس تو کیا پردیس میں بھی ہم راہی تھے تم ہر گام ملے جکارتا میں بھی ...

مزید پڑھیے

راہ غم سے حیات گزری ہے

راہ غم سے حیات گزری ہے مضمحل سی برات گزری ہے ہائے یہ کس طرح گزرنی تھی بن کے جو حادثات گزری ہے ضبط غم ہو کہ شدت غم ہو حد سے ہر ایک بات گزری ہے دے گئے ساتھ زندگی کا غم عمر کیا غم کی رات گزری ہے دل پہ ایسی گزر گئی ہمدم جیسے اک واردات گزری ہے چھوڑ کر جا رہا ہے کیوں اے غم زندگی تیرے ...

مزید پڑھیے

ستاؤ نہ ہم کو ستائے ہوئے ہیں

ستاؤ نہ ہم کو ستائے ہوئے ہیں چراغ سحر ہیں بجھائے ہوئے ہیں جو غم کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں وہ سینے میں شعلے چھپائے ہوئے ہیں سناؤ یہ مژدے غموں کے اے لوگو یہ نغمے سنے اور سنائے ہوئے ہیں گنوائے ہوئے ہیں وہ سب کچھ ہی اپنا جو شعلوں سے دامن جلائے ہوئے ہیں ہمیں آزمائے ہوئے ہے ...

مزید پڑھیے

پشیمانیاں ہی پشیمانیاں ہیں

پشیمانیاں ہی پشیمانیاں ہیں کسی مہرباں کی مہربانیاں ہیں میں ہوں اور میری یہ تنہائیاں ہیں بھری انجمن میں یہ ویرانیاں ہیں مقدر مرا جیسے دشواریاں ہوں مرے واسطے کتنی آسانیاں ہیں مرے حال پر ہنس رہا ہے زمانہ نہ جانے یہ کس کی مہربانیاں ہیں بھلا کر تجھے اے دل و جاں کے ...

مزید پڑھیے

کیسے جلے ہیں بال و پر یہ تو شرر سے پوچھئے

کیسے جلے ہیں بال و پر یہ تو شرر سے پوچھئے میرے جنوں کا واقعہ میرے جگر سے پوچھئے دل کو سکوں نہ مل سکا تیرے بغیر عمر بھر تیر نظر کی بات ہے ذوق نظر سے پوچھئے میرا تو دل نکال کر جیسے حیات رکھ گئی میں نے کیا تھا اس کا کیا اس کے ہی شر سے پوچھئے ہائے وہ اک مقام پر رہبر جہاں پہ رو دیا اہل ...

مزید پڑھیے

آپ کا اعتبار کرتا ہوں

آپ کا اعتبار کرتا ہوں یہ خطا بار بار کرتا ہوں بے تعلق سا اک تعلق ہے جس تعلق کو پیار کرتا ہوں ہم ہیں اور جستجوئے منزل ہے مدتوں انتظار کرتا ہوں کارواں زندگی کا گزرا ہے انتظار غبار کرتا ہوں موت نا معتبر سی لگتی ہے عمر کا اعتبار کرتا ہوں بات جب ہے کہ شرم رہ جائے توبہ یوں تو ہزار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3931 سے 4657