شاعری

آپ نا آشنا ہو گئے

آپ نا آشنا ہو گئے یعنی ہم سے خفا ہو گئے زندگی مرحلہ بن گئی حادثے سلسلہ ہو گئے اب شکایت نہیں ہے کوئی شکوے سب برملا ہو گئے آدمی آدمی کے لیے توبہ توبہ خدا ہو گئے درد حد سے کچھ اتنے بڑھے آپ اپنی دوا ہو گئے اتفاقا وہ مانوس ہوئے احتیاطاً خفا ہو گئے زندگی کشمکش ہی رہی درد جس کا صلہ ...

مزید پڑھیے

بدل کے دیکھ لیے زاویے اڑانوں کے

بدل کے دیکھ لیے زاویے اڑانوں کے خرد سے طے نہ ہوئے فاصلے زمانوں کے سمندروں کے تموج، نہنگ، وسعتیں، خوف کہاں پہ حوصلے ٹوٹے ہیں بادبانوں کے فلک سے روز اترتے ہیں روشنی کے خطوط مگر نہ چمکے مقدر غریب خانوں کے خزاں کا زہر سرایت ہوا ہے رگ رگ میں گلاب چہرے ہوئے زرد گلستانوں کے طلوع ...

مزید پڑھیے

گل خورشید کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

گل خورشید کھلاؤں گا چلا جاؤں گا صبح سے ہاتھ ملاؤں گا چلا جاؤں گا اب تو چلنا ہے کسی اور ہی رفتار کے ساتھ جسم بستر پہ گراؤں گا چلا جاؤں گا آبلہ پائی ہے رسوائی ہے رات آئی ہے دامن ایک اک سے چھڑاؤں گا چلا جاؤں گا ہجر صدیوں کے تحیر کی گرہ کھولے گا اک زمانے کو رلاؤں گا چلا جاؤں گا بس ...

مزید پڑھیے

بسیط دشت کی حرمت کو بام و در دے دے

بسیط دشت کی حرمت کو بام و در دے دے مرے خدایا مجھے بھی تو ایک گھر دے دے بشارتوں کے صحیفے اتار آنکھوں پر طلسم شب کے کلس توڑ کر سحر دے دے میں تیرا نام لکھوں گا ردائے کعبہ پر قلم نصیب ہے، الفاظ معتبر دے دے رکے ہوئے ہیں کھلے پانیوں پہ برسوں سے ہوائیں کھول دے اور طاقت سفر دے دے ہر ایک ...

مزید پڑھیے

رونق ترے کوچے کی بڑھانے چلے آئے

رونق ترے کوچے کی بڑھانے چلے آئے ارباب جنوں حشر اٹھانے چلے آئے اب اور نمائندگیٔ شب نہ کرو تم ہم پرچم خورشید اڑانے چلے آئے جب گرمیٔ شبنم سے بدن جلنے لگا ہے ہم آگ کے دریا میں نہانے چلے آئے جو لوگ مرا نقش قدم چوم رہے تھے اب وہ بھی مجھے راہ دکھانے چلے آئے جن سے مجھے پھولوں کی تھی ...

مزید پڑھیے

اک شخص اپنے ہاتھ کی تحریر دے گیا

اک شخص اپنے ہاتھ کی تحریر دے گیا جیسے مرا نوشتۂ تقدیر دے گیا اک دوست میرے قلب کی تالیف کے لیے کچھ زہر میں بجھائے ہوئے تیر دے گیا برسوں کے بعد اس سے ملاقات جب ہوئی بیتے دنوں کی چند تصاویر دے گیا گھیرے ہوئے تھی مجھ کو شب غم کی تیرگی وہ مسکرا کے صبح کی تنویر دے گیا چپکے سے رات آ کے ...

مزید پڑھیے

دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیں

دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیں دشت میں ناقۂ لیلیٰ کا گزر ہے کہ نہیں وا اگر چشم نہ ہو اس کو نہ کہنا پی اشک یہ خدا جانے صدف بیچ گہر ہے کہ نہیں ایک نے مجھ کو ترے در کے اپر دیکھ کہا غیر اس در کے تجھے اور بھی در ہے کہ نہیں آخر اس منزل ہستی سے سفر کرنا ہے اے مسافر تجھے چلنے کی خبر ...

مزید پڑھیے

عبث عبث تجھے مجھ سے حجاب آتا ہے

عبث عبث تجھے مجھ سے حجاب آتا ہے ترے لیے کوئی خانہ خراب آتا ہے پلک کے مارتے ہستی تمام ہوتی ہے عبث کو بحر عدم سے حباب آتا ہے خدا ہی جانے جلایا ہے کس ستم گر نے جگر تو چشم سے ہو کر کباب آتا ہے شب فراق میں اکثر میں لے کے آئینہ یہ دیکھتا ہوں کہ آنکھوں میں خواب آتا ہے نظر کروں ہوں تو ...

مزید پڑھیے

اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا

اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا مر گیا آخر کو یہ طالب ترے دیدار کا کیا بنائے خانۂ عشاق بے بنیاد ہے ڈھل گیا سر سے مرے سایہ تری دیوار کا روز بہ ہوتا نظر آتا نہیں یہ زخم دل دیکھیے کیا ہو خدا حافظ ہے اس بیمار کا نو ملازم لعل لب کو لے گئے تنخواہ میں بے طلب رہتا ہے یہ نوکر تری سرکار ...

مزید پڑھیے

عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہے

عکس بھی کب شب ہجراں کا تماشائی ہے ایک میں آپ ہوں یا گوشۂ تنہائی ہے دل تو رکتا ہے اگر بند قبا باز نہ ہو چاک کرتا ہوں گریباں کو تو رسوائی ہے طاقت ضبط کہاں اب تو جگر جلتا ہے آہ سینہ سے نکل لب پہ مرے آئی ہے میں تو وہ ہوں کہ مرے لاکھ خریدار ہیں اب لیک اس دل سے دھڑکتا ہوں کہ سودائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3932 سے 4657