اپنی غزلوں کو رسالوں سے الگ رکھتا ہوں
اپنی غزلوں کو رسالوں سے الگ رکھتا ہوں یعنی یہ پھول کتابوں سے الگ رکھتا ہوں ہاں بزرگوں سے عقیدت تو مجھے ہے لیکن مشکلیں اپنی مزاروں سے الگ رکھتا ہوں منزلیں آ کے میرے پاؤں میں گر جاتی ہیں حوصلہ جب میں تھکانوں سے الگ رکھتا ہوں ان کی آمد کا پتہ دیتی ہے خوشبو ان کی اس گھڑی خود کو ...