شاعری

اپنی غزلوں کو رسالوں سے الگ رکھتا ہوں

اپنی غزلوں کو رسالوں سے الگ رکھتا ہوں یعنی یہ پھول کتابوں سے الگ رکھتا ہوں ہاں بزرگوں سے عقیدت تو مجھے ہے لیکن مشکلیں اپنی مزاروں سے الگ رکھتا ہوں منزلیں آ کے میرے پاؤں میں گر جاتی ہیں حوصلہ جب میں تھکانوں سے الگ رکھتا ہوں ان کی آمد کا پتہ دیتی ہے خوشبو ان کی اس گھڑی خود کو ...

مزید پڑھیے

تری نظر کے اشارہ بدل بھی سکتے ہیں

تری نظر کے اشارہ بدل بھی سکتے ہیں میرے نصیب کے تارے بدل بھی سکتے ہیں میں اپنی ناؤ بھنور سے نکال لایہ ہوں مگر یہ ڈر ہے کنارے بدل بھی سکتے ہیں امیر شہر کی تقریر ہونے والی ہے سحر تلک یہ نظارے بدل بھی سکتے ہیں یہ دور وہ ہے کہ غیروں کا کیا کہیں صاحب ہمارے حق میں ہمارے بدل بھی سکتے ...

مزید پڑھیے

سرد مہری سے تری دل جو تپاں رکھتے ہیں

سرد مہری سے تری دل جو تپاں رکھتے ہیں ہمہ تن برف ہیں آہوں میں دھواں رکھتے ہیں سیل غم آنکھ کے پردے میں نہاں رکھتے ہیں ناتواں بھی ترے کیا تاب و تواں رکھتے ہیں فرش رہ کس کے لئے ہم دل و جاں رکھتے ہیں خوبرو پاؤں زمیں پر ہی کہاں رکھتے ہیں بات میں بات اسی کی ہے سنو تم جس کی یوں تو کہنے کو ...

مزید پڑھیے

محتسب نے جو نکالا ہمیں میخانے سے

محتسب نے جو نکالا ہمیں میخانے سے دور تک آنکھ ملاتے گئے پیمانے سے آج تو خم ہی لگا دے مرے منہ سے ساقی میری نیت نہیں بھرتی ترے پیمانے سے آپ اتنا تو ذرا حضرت ناصح سمجھیں جو نہ سمجھے اسے کیا فائدہ سمجھانے سے میں نے چکھی تھی تو ساقی نے کہا جوڑ کے ہاتھ آپ للہ چلے جائیے میخانے سے تم ...

مزید پڑھیے

میں با وفا ہی رہا رہ کے بے وفاؤں میں

میں با وفا ہی رہا رہ کے بے وفاؤں میں گل بہار کی صورت کھلا خزاؤں میں بھری بہار میں دیکھے جو پھول جلتے ہوئے رکے نہ اشکوں کے دریا مری گھٹاؤں میں ہمارے ہاتھوں سے جب وقت کی گرہ نہ کھلی تو لوگ سمجھے کہ ہم خوش ہیں ابتلاؤں میں ترے حضور رہی قہقہوں پہ پابندی رہا ہے خوف بھی رقصاں مری ...

مزید پڑھیے

اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی

اس کی جدائی کیسے کمالات کر گئی وہ خواب بن کے مجھ سے ملاقات کر گئی دیکھا اسے جو میں نے تو کچھ بھی نہ سن سکا کیا بات کر رہی تھی وہ کیا بات کر گئی نادیدہ منزلوں کے لیے راستوں کی دھول جب کہکشاں بنی تو کرامات کر گئی راتوں سے چھین کر وہ چراغوں کی روشنی جب صبح ہو گئی تو اسے رات کر ...

مزید پڑھیے

ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہا

ان سے ملا تو پھر میں کسی کا نہیں رہا اور جب بچھڑ گیا تو خود اپنا نہیں رہا دیوار ٹوٹنے کا عجب سلسلہ چلا سایوں کے سر پہ اب کوئی سایہ نہیں رہا ہر اک مکاں سے نام کی تختی اتر گئی دل کی فصیل پہ کوئی پہرہ نہیں رہا رہبر بدل گئے کبھی رہزن بدل گئے اور ہم سفر بھی کوئی پرانا نہیں رہا اب اس ...

مزید پڑھیے

دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں

دے آیا اپنی جان بھی دربار عشق میں پھر بھی نہ بن سکا خبر اخبار‌ عشق میں جب مل نہ پایا اس سے مجھے اذن گفتگو میں اک کتاب بن گیا اظہار عشق میں قیمت لگا سکا نہ خریدار پھر بھی میں جنس وفا بنا رہا بازار عشق میں شاید یہی تھی اس کی محبت کی انتہا مجھ کو بھی اس نے چن دیا دیوار عشق میں تہہ ...

مزید پڑھیے

تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا

تھیں زمینیں گم شدہ اور آسماں ملتا نہ تھا سر پہ سورج تھا مرے پر سائباں ملتا نہ تھا بے نتیجہ ہی رہی ہے ہر سفر کی جستجو ڈھونڈنے نکلے تھے جس کو وہ جہاں ملتا نہ تھا منزلیں آسان تھیں اور راستے مخدوش تھے کشتیاں موجود تھیں پر بادباں ملتا نہ تھا گھونسلے خالی پڑے ہیں اور وہیں پر آس ...

مزید پڑھیے

زمیں پر نیم جاں یاری پڑی ہے

زمیں پر نیم جاں یاری پڑی ہے ادھر خنجر ادھر عاری پڑی ہے میرے ہی سر پہ ہیں الزام سارے بڑی مہنگی وفا داری پڑی ہے عجب سا خوف پھیلا ہے وطن میں ہوا کے ہاتھ چنگاری پڑی ہے بچھڑ کر ہو گیا برباد وہ بھی ہمیں بھی چوٹ یہ کاری پڑی ہے سمندر سے کوئی رشتہ ہے اس کا ندی کس واسطے کھاری پڑی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 3929 سے 4657