شاعری

تیرے آنے کا گماں ہوتا ہے

تیرے آنے کا گماں ہوتا ہے کس زمانے کا گماں ہوتا ہے سنگ ریزوں پہ بھی اب چڑیوں کو دانے دانے کا گماں ہوتا ہے میں کھنڈر ہوں تو جہاں کو مجھ میں اک خزانے کا گماں ہوتا ہے ایک تصویر ہوں غم کی جس پر مسکرانے کا گماں ہوتا ہے پیڑ کٹتے ہیں تو ہر تنکے پر آشیانے کا گماں ہوتا ہے دل کہاں اب تو ...

مزید پڑھیے

دریا نہیں سراب ہے میں نے کہا نہ تھا

دریا نہیں سراب ہے میں نے کہا نہ تھا دنیا طلسم خواب ہے میں نے کہا نہ تھا چھونا اسے عذاب ہے میں نے کہا نہ تھا اس کا بدن رباب ہے میں نے کہا نہ تھا پھر بھی تو اس میں بوئے وفا ڈھونڈھتا رہا وہ کاغذی گلاب ہے میں نے کہا نہ تھا جو تیرے ارد گرد ہوائیں ہیں ان کے پاس ہر سانس کا حساب ہے میں نے ...

مزید پڑھیے

برف شعلہ ہے آگ پانی ہے

برف شعلہ ہے آگ پانی ہے یہ سیاست کی مہربانی ہے نفرتوں سے کہو نکل جائیں دل محبت کی راجدھانی ہے اس پہ بھی ہے نظر زمانے کی میرے پرکھوں کی جو نشانی ہے دور رہنے لگی تھکن مجھ سے جب سے صحرا کی بات مانی ہے وہ بھی ہم راہ ہیں میرے اشرفؔ اور موسم بھی زعفرانی ہے

مزید پڑھیے

بھڑک جانے کی خواہش کچھ تو چنگاری میں رہتی ہے

بھڑک جانے کی خواہش کچھ تو چنگاری میں رہتی ہے ہوا بھی اس کو شہہ دینے کی تیاری میں رہتی ہے اسے معلوم ہے بچے بگڑ جاتے ہیں شوخی میں مگر ماں ہے کہ بچوں کی طرف داری میں رہتی ہے رقم کرتا ہے جو انسان تنہائی کے سائے میں کہانی ہر کسی کے دل کی الماری میں رہتی ہے وفا کے معنی و مطلب سے کل نا ...

مزید پڑھیے

عشق میں جو نہیں برباد وہ رانجھا کیا ہے

عشق میں جو نہیں برباد وہ رانجھا کیا ہے ناؤ ڈوبی نہ کبھی جس میں وہ دریا کیا ہے اس حقیقت کی طرف اور دکھانا کیا ہے تیس کے چاند میں اے دوستو رکھا کیا ہے پھینک کر دیکھ لو سکہ کبھی اک چاندی کا جال میں آدمی پھنستا ہے پرندہ کیا ہے چھت سے پھینکی ہوئی لڑکی سے یہ کیا پوچھتے ہو ہم سے پوچھو ...

مزید پڑھیے

نہ دے وہ صبح مجھ کو جو اسیر شام ہو جائے

نہ دے وہ صبح مجھ کو جو اسیر شام ہو جائے عطا کر وہ سحر جو نور کا پیغام ہو جائے وہ سورج آسماں پر سر اٹھا کر اگ نہیں سکتا کہ جس کی روشنی کی آبرو نیلام ہو جائے قلم کاغذ لئے پھرتا ہوں اپنی جیب میں ہر دم نہ جانے کب کہاں اشعار کا الہام ہو جائے سمجھ لو تم بلائے ناگہانی آنے والی ہے پرندہ ...

مزید پڑھیے

وہاں ہر ایک اسی نشۂ انا میں ہے

وہاں ہر ایک اسی نشۂ انا میں ہے کہ خاک رہ گزر یار بھی ہوا میں ہے الف سے نام ترا تیرے نام سے میں الف الٰہی میرا ہر اک درد اس دعا میں ہے وہی کسیلی سی لذت وہی سیاہ مزہ جو صرف ہوش میں تھا حرف ناروا میں ہے وہ کوئی تھا جو ابھی اٹھ کے درمیاں سے گیا حساب کیجے تو ہر ایک اپنی جا میں ہے نمی ...

مزید پڑھیے

دل کی دھڑکن اب رگ جاں کے بہت نزدیک ہے

دل کی دھڑکن اب رگ جاں کے بہت نزدیک ہے رات بے آواز بے انداز بے تحریک ہے جم گئی ہیں تاروں کی آنکھوں پہ بادل کی تہیں ڈوب جاؤ ذات کے اندر فلک تاریک ہے کل کے لمحے آج کے لمحوں میں مدغم ہو گئے دیکھنا آنکھوں میں اب جلوہ نما تحریک ہے تم مرے کمرے کے اندر جھانکنے آئے ہو کیوں سو رہا ہوں چین ...

مزید پڑھیے

کوشش ہے گر اس کی کہ پریشان کرے گا

کوشش ہے گر اس کی کہ پریشان کرے گا وہ دشمن جاں درد کو آسان کرے گا ہم اس کو جوابوں سے پشیمان کریں گے وہ ہم کو سوالوں سے پشیمان کرے گا پہلو تہی کرتے ہوئے دزدیدہ جو دیکھے چہرے کے تأثر سے وہ حیران کرے گا تو چھپ کے ہی آئے کہ برافگندہ نقاب آئے دل کی یہی عادت ہے کہ نقصان کرے گا قزاقوں ...

مزید پڑھیے

تمام کھیل تماشوں کے درمیان وہی

تمام کھیل تماشوں کے درمیان وہی وہ میرا دشمن جاں یعنی مہربان وہی ہزار راستے بدلے ہزار سوانگ رچے مگر ہے رقص میں سر پر اک آسمان وہی سبھی کو اس کی اذیت کا ہے یقین مگر ہمارے شہر میں ہے رسم امتحان وہی تمہارے درد سے جاگے تو ان کی قدر کھلی وگرنہ پہلے بھی اپنے تھے جسم و جان وہی وہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3921 سے 4657