آئی ہے جانے کیسے علاقوں سے روشنی
آئی ہے جانے کیسے علاقوں سے روشنی اور ڈھونڈھتی ہے کس کو زمانوں سے روشنی ہو کر رہی وہ ایک زمانے پہ منکشف دیوار سے رکی نہ دریچوں سے روشنی موج یقیں کے ہاتھ نہ آئی تمام عمر وہ لو جسے ملی ہے گمانوں سے روشنی کرتے ہیں آج اس پہ مہ و آفتاب رشک آنکھوں کو جو ملی ترے خوابوں سے روشنی مہکی ...