شاعری

آئی ہے جانے کیسے علاقوں سے روشنی

آئی ہے جانے کیسے علاقوں سے روشنی اور ڈھونڈھتی ہے کس کو زمانوں سے روشنی ہو کر رہی وہ ایک زمانے پہ منکشف دیوار سے رکی نہ دریچوں سے روشنی موج یقیں کے ہاتھ نہ آئی تمام عمر وہ لو جسے ملی ہے گمانوں سے روشنی کرتے ہیں آج اس پہ مہ و آفتاب رشک آنکھوں کو جو ملی ترے خوابوں سے روشنی مہکی ...

مزید پڑھیے

میں اپنی سوچوں میں ایک دریا بنا رہا تھا

میں اپنی سوچوں میں ایک دریا بنا رہا تھا جو ٹوٹی پھوٹی سی کشتیوں کو چلا رہا تھا تمہارے جانے کے بعد بالکل ہنسا نہیں میں شکستہ پا ہو کے اپنے اندر کو کھا رہا تھا وہ بند کمرے میں میری یادیں پرو رہی تھی میں بزم امکاں سے خواب جس کے اٹھا رہا تھا مری نگہ میں یہ ایک منظر رکا ہوا ہے کہ ایک ...

مزید پڑھیے

شجر سے مل کے جو رونے لگا تھا

شجر سے مل کے جو رونے لگا تھا پرندہ ڈار سے بچھڑا ہوا تھا ٹھہرتا ہی نہ تھا دریا کہیں پر مگر تصویر میں دیکھا گیا تھا میں تشنہ لب اگرچہ لوٹ آیا مگر دریا کو یہ مہنگا پڑا تھا درون دل خلش ایسی کھلی تھی کہ جس کا رنگ چہرے پر اڑا تھا میں جب نکلا تمنا کے سفر پر مرے رستے میں اک صحرا پڑا ...

مزید پڑھیے

کھلے ہیں پھول اسی رنگ کی ستائش میں

کھلے ہیں پھول اسی رنگ کی ستائش میں جو بے مثال رہا آپ اپنی تابش میں وہ ایک دن ہی مری زندگی کا حاصل ہے کہ میرے پاس کوئی رک گیا تھا بارش میں بس ایک جھیل ہے اور پیڑ کا گھنا سایا سلگ رہے ہیں کئی لوگ جن کی خواہش میں کبھی ہوا جو کہیں پر غزل سرا میں بھی تو میرے یار جلے ہیں حسد کی آتش ...

مزید پڑھیے

بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں تھا

بہت دن سے تمہیں دیکھا نہیں تھا بدن اتنا کبھی سونا نہیں تھا وہ کیسی شب تھی جو کالی نہیں تھی وہ کیسا دن تھا جو اجلا نہیں تھا یہ ویرانہ نہ تھا ویران اتنا یہ صحرا اس قدر صحرا نہیں تھا وہ سب کچھ سوچنا اب پڑ رہا ہے ترے بارے میں جو سوچا نہیں تھا کسی اک زخم کے لب کھل گئے تھے میں اتنی ...

مزید پڑھیے

جو نظر آنا سکیں ایسے بھی منظر دیکھیں

جو نظر آنا سکیں ایسے بھی منظر دیکھیں دیکھنے والے کبھی اپنے بھی اندر دیکھیں رنگ کے جسم چھوئیں نور کے پیکر دیکھیں خواب کی شہر پناہوں میں اتر کر دیکھیں وقت نے سب سے بڑا وار کیا ہے ہم پر کس بلندی سے گراتا ہے مقدر دیکھیں دیکھنا یہ ہے کہ کیا رد عمل ہوتا ہے اپنے ہم زاد کو پہلو سے جھٹک ...

مزید پڑھیے

تیرا ہی نشان پا رہا ہوں میں

تیرا ہی نشان پا رہا ہوں میں یہ پہاڑ جو اٹھا رہا ہوں میں ایک عمر کی منافرت کے بعد اب تجھے سمجھ میں آ رہا ہوں میں تو ادھر سے آ جدھر رکے ہیں سب دوسری طرف سے آ رہا ہوں میں ایک پل کبھی تو تھم مرے لیے ساری عمر دوڑتا رہا ہوں میں میری نا رسائیوں کی حد ہے یہ اپنے سامنے سے آ رہا ہوں میں

مزید پڑھیے

کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا

کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا یہاں چراغ وہاں پر ستارہ دھرنا تھا وہ رات نیند کی دہلیز پر تمام ہوئی ابھی تو خواب پہ اک اور خواب دھرنا تھا متاع چشم تمنا یہ اشک اور یہ خاک رگ خیال سے اس کو طلوع کرنا تھا نگاہ اور چراغ اور یہ اثاثۂ جاں تمام ہوتی ہوئی شب کے نام کرنا تھا گریز ...

مزید پڑھیے

میں چھپا رہوں گا نگاہ و زخم کی اوٹ میں (ردیف .. ا)

میں چھپا رہوں گا نگاہ و زخم کی اوٹ میں کسی اور شخص سے دل لگا کے بھی دیکھنا سر شاخ دل کوئی زخم ہے کہ گلاب ہے مری جاں کی رگ کے قریب آ کے بھی دیکھنا کوئی تارہ چپکے سے رکھنا اس کی ہتھیلی پر وہ اداس ہے تو اسے ہنسا کے بھی دیکھنا وہ جو شام تیری پلک پہ آ کے ٹھہر گئی مری روشنی کی حدوں میں ...

مزید پڑھیے

کیسۂ درویش میں جو بھی ہے زر اتنا ہی ہے

کیسۂ درویش میں جو بھی ہے زر اتنا ہی ہے اور دیکھا جائے تو مجھ کو خطر اتنا ہی ہے پاؤں رکھنے کے لیے کوئی جگہ تو چاہیئے شہر کے اس باب میں میرا گزر اتنا ہی ہے میں جہاں پہنچا نہیں ایسے بھی ویرانے بتا دوست اپنا رشتۂ دیوار و در اتنا ہی ہے ایک مشت خاک یہ اور وہ ہوائے تند و تیز اور ترا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3856 سے 4657