شاعری

میں جو ٹھہرا ٹھہرتا چلا جاؤں گا

میں جو ٹھہرا ٹھہرتا چلا جاؤں گا یا زمیں میں اترتا چلا جاؤں گا جس جگہ نور کی بارشیں تھم گئیں وہ جگہ تجھ سے بھرتا چلا جاؤں گا درمیاں میں اگر موت آ بھی گئی اس کے سر سے گزرتا چلا جاؤں گا تیرے قدموں کے آثار جس جا ملے اس ہتھیلی پہ دھرتا چلا جاؤں گا دور ہوتا چلا جاؤں گا دور تک پاس ہی ...

مزید پڑھیے

قلب گہہ میں ذرا ذرا سا کچھ

قلب گہہ میں ذرا ذرا سا کچھ زخم جیسا چمک رہا تھا کچھ یوں تو وہ لوگ مجھ ہی جیسے تھے ان کی آنکھوں میں اور ہی تھا کچھ تھا سر جسم اک چراغاں سا روشنی میں نظر نہ آیا کچھ ہم زمیں کی طرف جب آئے تھے آسمانوں میں رہ گیا تھا کچھ دوسروں کی نظر سے دیکھیں گے دیکھنا کچھ تھا ہم نے دیکھا کچھ کچھ ...

مزید پڑھیے

تو بھی تو ایک لفظ ہے اک دن مرے بیاں میں آ

تو بھی تو ایک لفظ ہے اک دن مرے بیاں میں آ میرے یقیں میں گشت کر میری حد گماں میں آ نیندوں میں دوڑتا ہوا تیری طرف نکل گیا تو بھی تو ایک دن کبھی میرے حصار جاں میں آ اک شب ہمارے ساتھ بھی خنجر کی نوک پر کبھی لرزیدہ چشم نم میں چل جلتے ہوئے مکاں میں آ نرغے میں دوستوں کے تو کب تک رہے گا ...

مزید پڑھیے

آسماں کا ستارہ نہ مہتاب ہے

آسماں کا ستارہ نہ مہتاب ہے قلب گہہ میں جو اک جنس نایاب ہے آئینہ آئینہ تیرتا کوئی عکس اور ہر خواب میں دوسرا خواب ہے اور ہے شمع کے بطن میں روشنی تیرے آئینے میں اور ہی آب ہے یہ چراغ اور ہے وہ ستارہ ہے اور اور آگے جو اک ہجر کا باب ہے اور پھیلی ہوئی ہے جو اک دھند سی اور عقب میں جو اک ...

مزید پڑھیے

کر کے خواب آنکھ میں پہلے تو وہ لائے خود کو

کر کے خواب آنکھ میں پہلے تو وہ لائے خود کو اور پھر مجھ کو جگانے کو ستائے خود کو ہے یہ لازم کہ ملائک بھی بشر ہو جائیں اب جو انسان فرشتہ نظر آئے خود کو آخری مرحلہ آیا ہے محبت کا اب اب دیا خود ہی بجھا کر بھی دکھائے خود کو وہ پذیرائی کہیں عشق میں ملتی ہی نہیں جو بھی روٹھا ہے وہ اب ...

مزید پڑھیے

درمیان گناہ و ثواب آدمی

درمیان گناہ و ثواب آدمی ہے خود اپنے لئے ہی عذاب آدمی یہ زمیں جس خطا کی بنی تھی سزا میں وہی تو ہوں خانہ خراب آدمی حل معمے کا جیسے معما کوئی بس کہ ہے آدمی کا جواب آدمی دیکھ بے ساختہ عکس گھبرا گیا شیشے کے سامنے بے حجاب آدمی فلسفہ بھی خودی فلسفی بھی خودی آپ طالب ہے آپ ہی کتاب ...

مزید پڑھیے

دے کے خود خون کا منظر مجھ کو

دے کے خود خون کا منظر مجھ کو آج کہتا ہے وہ خنجر مجھ کو کب رہا کوئی ٹھکانہ اپنا اب کہ ڈھونڈھو مرے اندر مجھ کو دیکھ کر میرا شکستہ ہونا کہتا ہے پیر سکندر مجھ کو زخم جاں اور تبسم شیوہ کر گیا وقت قلندر مجھ کو مجھ کو صحرا سا ملا تھا جو کبھی کر گیا وہ ہی سمندر مجھ کو

مزید پڑھیے

پہلے تو نیزے خواب میں بویا کریں گے رات دن

پہلے تو نیزے خواب میں بویا کریں گے رات دن آنکھوں سے اپنی خون پھر دھویا کریں گے رات دن ہم تتلیوں کے پنکھ پہ دھاریں لگا کے نیند کی اک شہر نو کے خواب میں چھوڑا کریں گے رات دن بے دار رہ کر بھی ہمیں خواری ملی سو طے کیا موت آ نہ جائے جب تلک سویا کریں گے رات دن تم اک جواب مختصر کا ہم سے ...

مزید پڑھیے

میں انسان نوع ہوں میں عیسیٰ نفس ہوں (ردیف .. ا)

میں انسان نوع ہوں میں عیسیٰ نفس ہوں زمیں سے تمہاری میں پھر کل اٹھوں گا میں آدم ہوں بے جاں سا پتھر نہیں ہوں بھنور سا ہوں صحرا میں پل پل اٹھوں گا ہوں دریا کا پانی کہ جب بھی مروں گا سمندر کی بن کے میں ہلچل اٹھوں گا کبھی کی جو سورج نے وعدہ خلافی یہ ہے میرا وعدہ کے میں جل اٹھوں ...

مزید پڑھیے

میں اپنی خاک کو جب آئنہ بناتا ہوں

میں اپنی خاک کو جب آئنہ بناتا ہوں تو اس کے واسطے دل بھی نیا بناتا ہوں ہر اک پرند رہے تا ابد یہاں شاداب اسی لئے میں شجر بھی ہرا بناتا ہوں بھٹک نہ جائے کہیں شہر غم میں اپنا دل سو تیرے خواب کو میں رہنما بناتا ہوں کرے نہ کیوں یہ ترے دل میں گھر مرے ہمدم میں اپنے شعر کو درد آشنا بناتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3855 سے 4657