شاعری

دیے اپنی ضو پہ جو اترا رہے ہیں

دیے اپنی ضو پہ جو اترا رہے ہیں اندھیرے محافظ ہوئے جا رہے ہیں جو ہم دل کے دل میں ہی دفنا رہے ہیں وہ اسرار خود ہی کھلے جا رہے ہیں انہیں بھولنا اتنا آساں نہ ہوگا مری زندگی جو ہوئے جا رہے ہیں تمہاری صداقت کی ہے یہ ہی قیمت ہم الزام سر پہ لیے جا رہے ہیں ہمی سے ہے غافل ہمارا مسیحا ادھر ...

مزید پڑھیے

وہ بات جس سے یہ ڈر تھا کھلی تو جاں لے گی

وہ بات جس سے یہ ڈر تھا کھلی تو جاں لے گی سو اب یہ دیکھیے جا کے وہ دم کہاں لے گی ملے گی جلنے سے فرصت ہمیں تو سوچیں گے پناہ راکھ ہماری کہاں کہاں لے گی یہ آگ جس نے جلائے ہیں شہروں جنگل سب کبھی بجھے گی تو یہ صورت خزاں لے گی یہ دن جو تھا یہ رہا ہیں گواہ وعدوں کا یہ شب جو ہے ترے دعووں کا ...

مزید پڑھیے

جو تکبر سے بھٹکتی ہے زباں

جو تکبر سے بھٹکتی ہے زباں آگے آگے پھر بہکتی ہے زباں ہو گیا ناسور ہر اک لفظ ہے بولتا ہوں پکنے لگتی ہے زباں جلد سے چھن چھن کے بہتے ہیں خیال اور آنکھوں سے چھلکتی ہے زباں نام جاں کتنا گراں ہے جان پہ حلق گلتا ہے پگھلتی ہے زباں معجزہ ہے یہ بھی اس کے قول کا بوند بن کر جو برستی ہے ...

مزید پڑھیے

ایک وہ ہی شخص مجھ کو اب گوارہ بھی نہیں

ایک وہ ہی شخص مجھ کو اب گوارہ بھی نہیں جبر یہ اس کے سوا اپنا گزارہ بھی نہیں شکل ہجرت رنگ لائیں آخرش سب کوششیں ہم اگر لوٹے نہیں اس نے پکارا بھی نہیں جس پہ تم خاموش ہو بس اک ذرا سی بات تھی بات بھی ایسی کہ جس میں کچھ خسارہ بھی نہیں ہیں عجب دریا میں ہم جو درمیاں سے خشک ہے اور عجب تو ...

مزید پڑھیے

عشق پاگل پن میں سنجیدہ نہ ہو جائے کہیں

عشق پاگل پن میں سنجیدہ نہ ہو جائے کہیں مجھ کو ڈر ہے تو میرے جیسا نہ ہو جائے کہیں فصل گل میں ہے شجر کو فکر نے تنہا کیا فصل گل کے باد وہ تنہا نہ ہو جائے کہیں تتلیوں سے ہم ریا کاری گلوں کی کہہ تو دیں ڈر یہی ہے شوخ پھر سادہ نہ ہو جائے کہیں ہم مداوا اپنے غم کا اس لئے کرتے نہیں خود مسیحا ...

مزید پڑھیے

دنیا سے ہوئے بیٹھے ہو روپوش اے جانا

دنیا سے ہوئے بیٹھے ہو روپوش اے جانا جلوہ بھی سر عام ہے پرجوش اے جانا دن دشت میں اچھے سے گزر جاتا ہے اکثر جب آتا ہے یاد عالم آغوش اے جانا یہ لوگ شب ہجر بلکھتے تھے جو بے حد محشر سے گزر آئے ہے خاموش اے جانا کل رات تو تم بھی تھے ہمیں یاد بہ ترتیب آج اٹھے ہیں خود سے ہی فراموش اے ...

مزید پڑھیے

دم بہ دم بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا شہر والو سنو

دم بہ دم بڑھ رہی ہے یہ کیسی صدا شہر والو سنو جیسے آئے دبے پاؤں سیل بلا شہر والو سنو خاک اڑاتی نہ تھی اس طرح تو ہوا اس کو کیا ہو گیا دیکھو آواز دیتا ہے اک سانحہ شہر والو سنو یہ جو راتوں میں پھرتا ہے تنہا بہت ہے اکیلا بہت ہو سکے تو کبھی اس کا بھی ماجرا شہر والو سنو یہ ہمیں میں سے ہے ...

مزید پڑھیے

فرزانوں کی اس بستی میں ایک عجب سودائی ہے

فرزانوں کی اس بستی میں ایک عجب سودائی ہے کس کے لیے یہ حال ہے اس کا کون ایسا ہرجائی ہے کس کے لیے پھرتا ہے اکیلا شہر کے ہنگاموں سے دور کون ہے جس کی خاطر اس کو تنہائی راس آئی ہے کس کے لب و رخسار کی باتیں ڈھل جاتی ہیں غزلوں میں کس کے خم کاکل کی کہانی وجہ سخن آرائی ہے کون ہے جس کی ...

مزید پڑھیے

پس دیوار حجت کس لئے ہے

پس دیوار حجت کس لئے ہے دریچے سے یہ وحشت کس لئے ہے نہ میں اپنا نہ میں تیرا ہوں دنیا تو پھر جینے کی حسرت کس لئے ہے اگر سود و زیاں کے ہم ہیں قائل جنوں سے اپنی قربت کس لئے ہے جفا ہی جب تری پہچان ٹھہری وفا میں مجھ کو لذت کس لئے ہے مری آنکھوں پہ جو پہرہ ہے تیرا تو آئینے سے رغبت کس لئے ...

مزید پڑھیے

جاگتے ہی نظر اخبار میں کھو جاتی ہے

جاگتے ہی نظر اخبار میں کھو جاتی ہے زندگی درد کے انبار میں کھو جاتی ہے نا خدا عقل کے پتوار اٹھاتا ہے کہ جب کشتئ دل مری منجدھار میں کھو جاتی ہے بے سبب سوچنے والے کبھی سوچا تو نے آگہی کثرت افکار میں کھو جاتی ہے اڑتے رہتے ہیں خیالات کے جگنو پھر بھی بات کیوں پردۂ اظہار میں کھو جاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3857 سے 4657