شاعری

سمند شوق پہ خط اس کا تازیانہ ہوا

سمند شوق پہ خط اس کا تازیانہ ہوا ملے ہوئے بھی تو اس سے ہمیں زمانہ ہوا یہ سوچتا ہوں کہ آخر وہ مصلحت کیا تھی کہ جس سے ترک تعلق کا اک بہانہ ہوا اب آ بھی جاؤ کہ اک دوسرے میں گم ہو جائیں وصال و ہجر کا قصہ بہت پرانا ہوا وہ جس سے ملنے کی دل میں تڑپ زیادہ ہے ہمارا اس سے تعارف بھی غائبانہ ...

مزید پڑھیے

ہمارے حال سے کوئی جو با خبر رہتا

ہمارے حال سے کوئی جو با خبر رہتا خیال اس کا ہمیں بھی تو عمر بھر رہتا جسے بھی خواہش دیوار و در ہو صحرا میں وہ کم نصیب تو اچھا تھا اپنے گھر رہتا ہوا سے ٹوٹ کے گرنا مرا مقدر تھا کہ زرد پتا تھا کیونکر میں شاخ پر رہتا جو دیکھتا ہوں زمانے کی نا شناسی کو یہ سوچتا ہوں کہ اچھا تھا بے ہنر ...

مزید پڑھیے

کسے دماغ کہ الجھے طلسم ذات کے ساتھ

کسے دماغ کہ الجھے طلسم ذات کے ساتھ الجھ رہا ہوں ابھی تیری کائنات کے ساتھ میں دید بان ازل سے جدھر بھی دیکھتا تھا شکستہ جام پڑا ہے عجائبات کے ساتھ نکل گیا تھا میں اک روز خاک داں کی طرف گزر رہی ہے شب و روز حادثات کے ساتھ میں ڈوب ڈوب گیا بے نشاں بھنور میں کہیں خلا میں رقص کناں ...

مزید پڑھیے

طلسم شب سے بہت بے خبر چلے آئے

طلسم شب سے بہت بے خبر چلے آئے یہ کیا کہ شام ڈھلے یار گھر چلے آئے کشش کچھ ایسی تھی مٹی کی باس میں ہم لوگ قضا کا دام بچھا تھا مگر چلے آئے عجب ہے کیا جو ملے وہ ہمیں دوبارہ بھی ہم ایک خواب میں بار دگر چلے آئے خرام کرتی ہواؤں پہ تیرتے نشے چلا وہ شوخ جدھر کو ادھر چلے آئے کھلی جو آنکھ ...

مزید پڑھیے

ہم کو معلوم ہے باتوں کی صداقت تیری

ہم کو معلوم ہے باتوں کی صداقت تیری لوگ کیا کیا نہیں کرتے ہیں شکایت تیری ملکۂ حسن نہیں پھر بھی تو اے جان وفا اچھی لگتی ہے بہت ہی مجھے صورت تیری کوئی مشکل بھی ہو خاطر میں نہ لاتے تھے کبھی حوصلہ کتنا بڑھاتی تھی رفاقت تیری تو ہی بتلا کہ بھلا تجھ کو بھلائیں کیوں کر سامنے آنکھوں کے آ ...

مزید پڑھیے

خود اپنی یاد دلا کے رلا دیا ہے مجھے

خود اپنی یاد دلا کے رلا دیا ہے مجھے وہ ایک شخص کہ جس نے بھلا دیا ہے مجھے ترے کرم کا سزاوار میں رہا جب تک غم حیات نے بھی راستہ دیا ہے مجھے ہوائے شوق نے تیری تلاش میں اکثر مثال برگ شکستہ اڑا دیا ہے مجھے ذرا سی آنکھ لگی تھی جو اپنی آخر شب ہوائے صبح نے آ کر جگا دیا ہے مجھے چمن میں تو ...

مزید پڑھیے

کٹا نہ کوہ الم ہم سے کوہ کن کی طرح

کٹا نہ کوہ الم ہم سے کوہ کن کی طرح بدل سکا نہ زمانہ ترے چلن کی طرح ہزار بار کیا خون آرزو ہم نے جبین دہر پہ پھر بھی رہے شکن کی طرح سواد شب کی یہ تنہائیاں بھی ڈستی ہیں یہ چاندنی بھی نظر آتی ہے کفن کی طرح تمام شہر ہے بیگانہ لوگ نا مانوس وطن میں اپنے ہیں ہم ایک بے وطن کی طرح خیال ...

مزید پڑھیے

رات آنگن میں چاند اترا تھا

رات آنگن میں چاند اترا تھا تم ملے تھے کہ خواب دیکھا تھا اب کہ خود ہیں حصار ذات میں بند ورنہ اپنا بھی زور چلتا تھا شیشۂ دل پہ ایسی چوٹ پڑی ایک لمحے میں ریزہ ریزہ تھا اس کے کوچے کے ہو لیے ورنہ راستہ ہر طرف نکلتا تھا رت جو بدلی تو یہ بھی دیکھ لیا پتہ پتہ زمیں پہ بکھرا تھا ایک ...

مزید پڑھیے

دل میں یوں چاہ کا ارماں نہ ہوا تھا سو ہوا

دل میں یوں چاہ کا ارماں نہ ہوا تھا سو ہوا جس کی خاطر میں پریشاں نہ ہوا تھا سو ہوا وہ بھی کیا دن تھے کہ جب راحت جاں تھا کوئی وقت بھی مجھ سے گریزاں نہ ہوا تھا سو ہوا کس کو ہے تاب نگاہی ترا جلوہ دیکھے آئنہ خود بھی تو حیراں نہ ہوا تھا سو ہوا غم گساری کے لئے اب نہیں آتا ہے کوئی زخم بھر ...

مزید پڑھیے

کبھی سکوں تو کبھی اضطراب جیسا ہے

کبھی سکوں تو کبھی اضطراب جیسا ہے اب اس کا ملنا ملانا بھی خواب جیسا ہے یہ تشنگئ محبت نہ بجھ سکے گی کبھی یہ مت کہو کہ یہ دریا سراب جیسا ہے غموں کی دھوپ میں امید کے بھی سائے ہوں تو زندگی میں یہی انقلاب جیسا ہے کبھی خیال سے باہر کبھی خیال میں ہے وہ ایک چہرہ جو دل میں گلاب جیسا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3851 سے 4657