سمند شوق پہ خط اس کا تازیانہ ہوا
سمند شوق پہ خط اس کا تازیانہ ہوا ملے ہوئے بھی تو اس سے ہمیں زمانہ ہوا یہ سوچتا ہوں کہ آخر وہ مصلحت کیا تھی کہ جس سے ترک تعلق کا اک بہانہ ہوا اب آ بھی جاؤ کہ اک دوسرے میں گم ہو جائیں وصال و ہجر کا قصہ بہت پرانا ہوا وہ جس سے ملنے کی دل میں تڑپ زیادہ ہے ہمارا اس سے تعارف بھی غائبانہ ...