شاعری

ساری رات کے بکھرے ہوئے شیرازے پر رکھی ہیں

ساری رات کے بکھرے ہوئے شیرازے پر رکھی ہیں پیار کی جھوٹی امیدیں خمیازے پر رکھی ہیں کوئی تو اپنا وعدہ ہی آسانی سے بھول گیا اور کسی کی دو آنکھیں دروازے پر رکھی ہیں اس کے خواب حقیقت ہیں اس کی ذات مکمل ہے اور ہماری سب خوشیاں اندازے پر رکھی ہیں

مزید پڑھیے

روح کے زخم بھر رہا ہے کون

روح کے زخم بھر رہا ہے کون میرے اندر اتر رہا ہے کون میں تو زندہ ہوں اپنے لہجے میں لمحہ لمحہ یہ مر رہا ہے کون لوگ شیشہ صفت نہیں ہیں مگر ریزہ ریزہ بکھر رہا ہے کون پتھروں کے کلیجے پھٹنے لگے صبح دم آہ بھر رہا ہے کون سب چراغوں کے سر سلامت ہیں پھر اندھیروں سے ڈر رہا ہے کون دہریے صرف ...

مزید پڑھیے

شب کی آغوش میں مہتاب اتارا اس نے

شب کی آغوش میں مہتاب اتارا اس نے میری آنکھوں میں کوئی خواب اتارا اس نے سلسلہ ٹوٹا نہیں موم صفت لوگوں کا پتھروں میں دل بے تاب اتارا اس نے ہم سمجھتے تھے کہ اب کوئی نہ آئے گا یہاں دل کے صحرا میں بھی اسباب اتارا اس نے بزم میں خوب لٹائے گئے چاہت کے گلاب اس طرح صدقۂ احباب اتارا اس ...

مزید پڑھیے

اجالا جب شب‌ ظلمات پر اترتا ہے

اجالا جب شب‌ ظلمات پر اترتا ہے وہ حرف حرف مری ذات پر اترتا ہے اس ایک رنگ پہ قربان دل کے سب موسم جو رنگ شدت جذبات پر اترتا ہے وہ خواب گاہ کی رونق وہ چاند جیسا بدن کبھی حیات کبھی ذات پر اترتا ہے سخن وران کہن اس پہ رشک کرتے ہیں جو درد پرچۂ ابیات پر اترتا ہے کبھی کبھار تو سقراط کی ...

مزید پڑھیے

اگر دشت طلب سے دشت امکانی میں آ جاتے

اگر دشت طلب سے دشت امکانی میں آ جاتے محبت کرنے والے دل پریشانی میں آ جاتے حصار صبر سے جس روز میں باہر نکل آتا سمندر خود مری آنکھوں کی ویرانی میں آ جاتے اگر سائے سے جل جانے کا اتنا خوف تھا تو پھر سحر ہوتے ہی سورج کی نگہبانی میں آ جاتے جنوں کی عظمتوں سے آشنائی ہی نہ تھی ورنہ جو ...

مزید پڑھیے

تیرگی میں صبح کی تنویر بن جائیں گے ہم

تیرگی میں صبح کی تنویر بن جائیں گے ہم خواب تم دیکھو گے اور تعبیر بن جائیں گے ہم اب کے یہ سوچا ہے گر آزاد تم نے کر دیا خود ہی اپنے پاؤں کی زنجیر بن جائیں گے ہم آنسوؤں سے لکھ رہے ہیں بے بسی کی داستاں لگ رہا ہے درد کی تصویر بن جائیں گے ہم لکھ نہ پائے جو کسی کی نیم باز آنکھوں کا راز وہ ...

مزید پڑھیے

دریدہ پیرہنوں میں شمار ہم بھی ہیں

دریدہ پیرہنوں میں شمار ہم بھی ہیں بہت دنوں سے انا کے شکار ہم بھی ہیں فقط تمہیں کو نہیں عشق میں یہ در بدری تمہاری چاہ میں گرد و غبار ہم بھی ہیں چڑھی جو دھوپ تو ہوش و حواس کھو بیٹھے جو کہہ رہے تھے شجر سایہ دار ہم بھی ہیں بلندیوں کے نشاں تک نہ چھو سکے وہ لوگ جنہیں گماں تھا ہوا پہ ...

مزید پڑھیے

چاہتا یہ ہوں کہ بے نام و نشاں ہو جاؤں

چاہتا یہ ہوں کہ بے نام و نشاں ہو جاؤں شمع کی طرح جلوں اور دھواں ہو جاؤں پہلے دہلیز پہ روشن کروں آنکھوں کے چراغ اور پھر خود کسی پردے میں نہاں ہو جاؤں توڑ کر پھینک دوں یہ فرقہ پرستی کے محل اور پیشانی پہ سجدے کا نشاں ہو جاؤں دل سے پھر درد مہکنے کی صدائیں اٹھیں کاش ایسا ہو میں تیری ...

مزید پڑھیے

جتنا تیرا حکم تھا اتنی سنواری زندگی

جتنا تیرا حکم تھا اتنی سنواری زندگی اپنی مرضی سے کہاں ہم نے گزاری زندگی میرے اندر اک نیا غم روز رکھ جاتا ہے کون رفتہ رفتہ ہو رہی ہے اور بھاری زندگی روح کی تسکین کے سارے دریچے کھل گئے درد کے پہلو میں جب آئی ہماری زندگی صرف تھی خانہ بدوشی یا محبت کا جنوں ہجرتیں کرتا رہا اک شخص ...

مزید پڑھیے

دروازۂ ہستی سے نہ املاک سے نکلا

دروازۂ ہستی سے نہ املاک سے نکلا پیغام وفا خوشبوئے ادراک سے نکلا پھر آج کریدی گئی وہ خاک نشیمن پھر گوہر مقصود اسی خاک سے نکلا ہر بار مجھے میرے مقدر نے صدا دی جب بھی کوئی تارہ در افلاک سے نکلا اس بار تو مجنوں کا بھرم بھی نہیں رکھا یوں میرا جنوں پیرہن چاک سے نکلا دنیا کی زبانوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3809 سے 4657