شاعری

ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا

ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا کوئی سانحہ مری آنکھ تر نہیں کر سکا مجھے علم تھا مجھے کم پڑے گی یہ روشنی سو میں انحصار چراغ پر نہیں کر سکا مجھے جھوٹ کے وہ جواز پیش کیے گئے کسی بات پر میں اگر مگر نہیں کر سکا مجھے چال چلنے میں دیر ہو گئی اور میں کوئی ایک مہرہ ادھرادھر نہیں کر ...

مزید پڑھیے

باغ سے جھولے اتر گئے

باغ سے جھولے اتر گئے سندر چہرے اتر گئے لٹک گئے دیوار سے ہم سیڑھی والے اتر گئے گھر میں کس کا پاؤں پڑا چھت کے جالے اتر گئے بھینٹ چڑھے تم عجلت کی پیڑ سے کچے اتر گئے وصل کے ایک ہی جھونکے میں کان سے بالے اتر گئے بھاگوں والی بستی تھی جہاں پرندے اتر گئے اک دن ایسا ہوش آیا سارے نشے ...

مزید پڑھیے

ہنسنے ہنسانے پڑھنے پڑھانے کی عمر ہے

ہنسنے ہنسانے پڑھنے پڑھانے کی عمر ہے یہ عمر کب ہمارے کمانے کی عمر ہے لے آئی چھت پہ کیوں مجھے بے وقت کی گھٹن تیری تو خیر بام پہ آنے کی عمر ہے تجھ سے بچھڑ کے بھی تجھے ملتا رہوں گا میں مجھ سے طویل میرے زمانے کی عمر ہے اولاد کی طرح ہے محبت کا مجھ پہ حق جب تک کسی کا بوجھ اٹھانے کی عمر ...

مزید پڑھیے

ورنہ زخمی کوئی رہ گیر نہیں ہو سکتا

ورنہ زخمی کوئی رہ گیر نہیں ہو سکتا اس کماندار کا یہ تیر نہیں ہو سکتا سایہ داری کی روایت کا اگر پاس رکھیں پھر کھجوروں کا تو شہتیر نہیں ہو سکتا دفن ہیں ہاتھ ہمارے اسی ملبے میں کہیں یہ خرابہ کبھی تعمیر نہیں ہو سکتا کیا ستم ہے کہ بچھڑ کر ترا پھر سے ملنا وجہ تبدیلیٔ تقدیر نہیں ہو ...

مزید پڑھیے

اک جیسا برتاؤ ہو کیسے کچے سچ اور جھوٹ کے ساتھ

اک جیسا برتاؤ ہو کیسے کچے سچ اور جھوٹ کے ساتھ کوئی قطار میں لگ کر آیا کوئی پیراشوٹ کے ساتھ اس نے بھی کم وقت لگایا آج اپنی تیاری میں میں بھی میچ نہیں کر پایا ٹائی اس کے سوٹ کے ساتھ میرا عشق تو خیر مری محرومی کا پروردہ تھا کیا معلوم تھا وہ بھی دے گا میرا اتنا ٹوٹ کے ساتھ ہوتے ہوتے ...

مزید پڑھیے

بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے

بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے کسی بدن کی سیاحت نڈھال کرتی ہے کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے نشست کے تو طلب گار ہی نہیں ہم لوگ ہمارے پاؤں سے کیوں پائیدان کھینچتا ہے بدل کے دیکھ چکی ہے رعایا صاحب تخت جو سر قلم نہیں کرتا زبان ...

مزید پڑھیے

جو بچ گئے ہیں چراغ ان کو بچائے رکھو

جو بچ گئے ہیں چراغ ان کو بچائے رکھو میں جانتا ہوں ہوا سے رشتہ بنائے رکھو ضرور اترے گا آسماں سے کوئی ستارا زمین والو زمیں پہ پلکیں بچھائے رکھو ابھی وہیں سے کسی کے غم کی صدا اٹھے گی اسی دریچے پہ کان اپنے لگائے رکھو ہمیشہ خود سے بھی پر تکلف رہو تو اچھا خود اپنے اندر بھی ایک دیوار ...

مزید پڑھیے

مسلسل ہنس رہا ہوں گا رہا ہوں

مسلسل ہنس رہا ہوں گا رہا ہوں تری یادوں سے دل بہلا رہا ہوں تری یادوں کی بیلیں جل گئیں سب میں پھولوں کی طرح مرجھا رہا ہوں اے میری وحشتو صحرا کی جانب مجھے آواز دو میں آ رہا ہوں کنارے میری جانب بڑھ رہے ہیں مگر میں ہوں کہ ڈوبا جا رہا ہوں یہاں جھوٹوں کے تمغے مل رہے ہیں میں سچا ہوں تو ...

مزید پڑھیے

گھر میں چاندی کے کوئی سونے کے در رکھ جائے گا

گھر میں چاندی کے کوئی سونے کے در رکھ جائے گا وہ مرے چشمے میں جب اپنی نظر رکھ جائے گا قید کر لے جائے گا نیندوں کی ساری کائنات ہاں مگر پلکوں پہ کچھ سچے گہر رکھ جائے گا سارے دکھ سو جائیں گے لیکن اک ایسا غم بھی ہے جو مرے بستر پہ صدیوں کا سفر رکھ جائے گا جگمگاتے جاگتے رشتوں کے سر کٹ ...

مزید پڑھیے

خستہ جانی میں کوئی شاخ ہری چاہتے ہیں

خستہ جانی میں کوئی شاخ ہری چاہتے ہیں ترے بیمار تری چارہ گری چاہتے ہیں روشنی بن کے اتر شام کے محرابوں پر اب ترے لوگ تری جلوہ گری چاہتے ہیں چاک دامانی سے دکھتے ہیں تعلق اپنا عشق میں ہم بھی کہاں بخیہ گری چاہتے ہیں کس قدر دشت سے مانوس ہوئے ہیں شرفا چھوڑ کر عیش و طرب در بہ دری چاہتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3808 سے 4657