ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا
ترے بعد کوئی بھی غم اثر نہیں کر سکا کوئی سانحہ مری آنکھ تر نہیں کر سکا مجھے علم تھا مجھے کم پڑے گی یہ روشنی سو میں انحصار چراغ پر نہیں کر سکا مجھے جھوٹ کے وہ جواز پیش کیے گئے کسی بات پر میں اگر مگر نہیں کر سکا مجھے چال چلنے میں دیر ہو گئی اور میں کوئی ایک مہرہ ادھرادھر نہیں کر ...