خون آنسو بن گیا آنکھوں میں بھر جانے کے بعد
خون آنسو بن گیا آنکھوں میں بھر جانے کے بعد آپ آئے تو مگر طوفاں گزر جانے کے بعد چاند کا دکھ بانٹنے نکلے ہیں اب اہل وفا روشنی کا سارا شیرازہ بکھر جانے کے بعد ہوش کیا آیا مسلسل جل رہا ہوں ہجر میں اک سنہری رات کا نشہ اتر جانے کے بعد زخم جو تم نے دیا وہ اس لیے رکھا ہرا زندگی میں کیا ...