شاعری

کچھ عارضی اجالے بچائے ہوئے ہیں لوگ

کچھ عارضی اجالے بچائے ہوئے ہیں لوگ مٹھی میں جگنوؤں کو چھپائے ہوئے ہیں لوگ اس شخص کو تو قتل ہوئے دیر ہو گئی اب کس لیے یہ بھیڑ لگائے ہوئے ہیں لوگ برسوں پرانے درد نہ اٹکھیلیاں کریں اب تو نئے غموں کے ستائے ہوئے ہیں لوگ آنکھیں اجڑ چکی ہیں مگر رنگ رنگ کے خوابوں کی اب بھی فصل لگائے ...

مزید پڑھیے

فکر میں ہیں ہمیں بجھانے کی

فکر میں ہیں ہمیں بجھانے کی آندھیاں میرؔ کے زمانے کی میرا گھر ہے پرانے وقتوں کا اس کی آنکھیں نئے زمانے کی اب کوئی بات بھولتا ہی نہیں ہائے وہ عمر بھول جانے کی اپنے اندر کا شور کم تو ہوا خامشی میں کتاب خانے کی ایک منظر تھا یاد رکھنے کا ایک تصویر تھی بنانے کی

مزید پڑھیے

اپنے آنچل میں چھپا کر مرے آنسو لے جا

اپنے آنچل میں چھپا کر مرے آنسو لے جا یاد رکھنے کو ملاقات کے جگنو لے جا میں جسے ڈھونڈنے نکلا تھا اسے پا نہ سکا اب جدھر جی ترا چاہے مجھے خوشبو لے جا آ ذرا دیر کو اور مجھ سے ملاقات کے بعد سوچنے کے لیے روشن کوئی پہلو لے جا حادثے اونچی اڑانوں میں بہت ہوتے ہیں تجربہ تجھ کو نہیں ہے مرے ...

مزید پڑھیے

گھر تو ہمارا شعلوں کے نرغے میں آ گیا

گھر تو ہمارا شعلوں کے نرغے میں آ گیا لیکن تمام شہر اجالے میں آ گیا یہ بھی رہا ہے کوچۂ جاناں میں اپنا رنگ آہٹ ہوئی تو چاند دریچے میں آ گیا ہونٹوں پہ غیبتوں کی خراشیں لیے ہوئے یہ کون آئنوں کے قبیلے میں آ گیا آندھی بھی بچپنے کی حدوں سے گزر گئی مجھ کو بھی لطف شمع جلانے میں آ ...

مزید پڑھیے

اس نے مرے مرنے کے لیے آج دعا کی

اس نے مرے مرنے کے لیے آج دعا کی یا رب کہیں نیت نہ بدل جائے قضا کی آنکھوں میں ہے جادو تری زلفوں میں ہے خوشبو اب مجھ کو ضرورت نہ دوا کی نہ دعا کی اک مرشد بر حق سے ہے دیرینہ تعلق پرواہ نہیں مجھ کو سزا کی نہ جزا کی دونوں ہی برابر ہیں رہ عشق و وفا میں جب تم نے وفا کی ہے تو ہم نے بھی وفا ...

مزید پڑھیے

تری محفل میں فرق کفر و ایماں کون دیکھے گا

تری محفل میں فرق کفر و ایماں کون دیکھے گا فسانہ ہی نہیں کوئی تو عنواں کون دیکھے گا یہاں تو ایک لیلیٰ کے نہ جانے کتنے مجنوں ہیں یہاں اپنا گریباں اپنا داماں کون دیکھے گا بہت نکلے ہیں لیکن پھر بھی کچھ ارمان ہیں دل میں بجز تیرے مرا یہ سوز پنہاں کون دیکھے گا اگر پردے کی جنبش سے ...

مزید پڑھیے

شیشہ لب سے جدا نہیں ہوتا

شیشہ لب سے جدا نہیں ہوتا نشہ پھر بھی سوا نہیں ہوتا درد دل جب سوا نہیں ہوتا عشق میں کچھ مزا نہیں ہوتا ہر نظر سرمگیں تو ہوتی ہے ہر حسیں دل ربا نہیں ہوتا ہاں یہ دنیا برا بناتی ہے ورنہ انساں برا نہیں ہوتا عصر حاضر ہے جب قیامت خیز حشر پھر کیوں بپا نہیں ہوتا پارسا رند ہو تو سکتا ...

مزید پڑھیے

یوں تو ہے دہر میں ہر درد کا ہر غم کا علاج

یوں تو ہے دہر میں ہر درد کا ہر غم کا علاج کاش ہو جائے مری کاہش پیہم کا علاج امن ساحل ہے جو طغیانی برہم کا علاج پھر تو مشکل نہیں انساں کے کسی غم کا علاج زندگی چھیننے والے تری قدرت کی قسم تیرے ہاتھوں میں تھا بیمار شب غم کا علاج ہاں وہی پھول جو شبنم کی بدولت مہکے ان سے بھی ہو نہ سکا ...

مزید پڑھیے

نہ لطیف شام کی جستجو نہ حسیں سحر کی تلاش ہے

نہ لطیف شام کی جستجو نہ حسیں سحر کی تلاش ہے جو نظر نظر کو نواز دے مجھے اس نظر کی تلاش ہے مرے ہم سفر تجھے کیا خبر یہ نظر نظر کی تلاش ہے مری راہبر کو ہے جستجو تجھے راہبر کی تلاش ہے جو اجل کو جانے حیات نو جو حیات نو کو اجل کہے مجھے رہ گزار حیات میں اسی ہم سفر کی تلاش ہے نہ ہو فرق دیر و ...

مزید پڑھیے

ابر چھائے گا تو برسات بھی ہو جائے گی

ابر چھائے گا تو برسات بھی ہو جائے گی دید ہوگی تو ملاقات بھی ہو جائے گی اے دل حسن طلب مشق تصور تو بڑھا پھر جو چاہے گا وہی بات بھی ہو جائے گی سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہو عبث بادہ کشو جام اٹھاؤ گے تو برسات بھی ہو جائے گی آج اس نے نئے انداز سے دیکھا ہے مجھے غالباً آج کوئی بات بھی ہو جائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3800 سے 4657