شاعری

اداس اداس طبیعت جو تھی بہلنے لگی

اداس اداس طبیعت جو تھی بہلنے لگی ابھی میں رو ہی رہا تھا کہ رت بدلنے لگی پڑوس والو! دریچوں کو مت کھلا چھوڑو تمہارے گھر سے بہت روشنی نکلنے لگی ذرا تھمے تھے کہ پھر ہو گئے رواں آنسو جو رک گئی تھی وہ غم کی برات چلنے لگی بھلا ہو شہر کے لوگوں کی خوش لباسی کا کہ بے کسی بھی مرا پیرہن ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں کا نئی رت کی ہے ارادہ کیا

حقیقتوں کا نئی رت کی ہے ارادہ کیا کہانیوں ہی میں لے سانس شاہزادہ کیا یہ رنگ زار ہے اپنا پروں پہ تتلی کے دھنک ہو خود میں تو پھولوں سے استفادہ کیا محبتوں میں یہ رسوائیاں تو ہوتی ہیں شرافتیں تری کیا میرا خانوادہ کیا اگر وہ پھینک دے کشکول اپنے ورثے کا تو اس جہاں میں کرے بھی فقیر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے نہ جانے شہر میں کس کس سے جھوٹ بولوں گا میں گھر کے پھولوں کو شاداب دیکھنے کے لیے اسی لیے میں کسی اور کا نہ ہو جاؤں مجھے وہ دے گیا اک خواب دیکھنے کے لیے کسی نظر میں تو رہ جائے آخری منظر کوئی تو ہو مجھے غرقاب ...

مزید پڑھیے

تمام شخصیت اس کی حسیں نظر آئی

تمام شخصیت اس کی حسیں نظر آئی جب اس کے قتل کی اخبار میں خبر آئی شریف لوگ چڑھے جب نہیں ہیں کوٹھوں پر تو کس کے ساتھ یہ تہذیب بام پر آئی گزر کے مجھ کو خد و خال کے سرابوں سے تمام شہر میں بے چہرگی نظر آئی خموش کیا ہوئی بڑھیا سفید بالوں کی کہانیوں کی کوئی رات پھر نہ گھر آئی عجیب شخص ...

مزید پڑھیے

شروع عشق میں لوگوں نے اتنی شدت کی

شروع عشق میں لوگوں نے اتنی شدت کی کہ رفتہ رفتہ کمی ہو گئی محبت کی یہ کارگاہ ذہانت ہے اس میں چھوٹے کیا بڑے بڑوں نے یہاں پر بڑی حماقت کی جہاں سے علم کا ہم کو غرور ہوتا ہے وہیں سے ہوتی ہے بس ابتدا جہالت کی جو آدمی ہے تلاش سکوں میں صدیوں سے اسی نے کر دی یہاں انتہا بھی وحشت کی پرانے ...

مزید پڑھیے

گھر کا رستہ جو بھول جاتا ہوں

گھر کا رستہ جو بھول جاتا ہوں کیا بتاؤں کہاں سے آتا ہوں ذہن میں خواب کے محل کی طرح خود ہی بنتا ہوں ٹوٹ جاتا ہوں آج بھی شام غم! اداس نہ ہو مانگ کر میں چراغ لاتا ہوں میں تو اے شہر کے حسیں رستو گھر سے ہی قتل ہو کے آتا ہوں روز آتی ہے ایک شخص کی یاد روز اک پھول توڑ لاتا ہوں ہائے ...

مزید پڑھیے

چلتے چلتے سال کتنے ہو گئے

چلتے چلتے سال کتنے ہو گئے پیڑ بھی رستے کے بوڑھے ہو گئے انگلیاں مضبوط ہاتھوں سے چھٹیں بھیڑ میں بچے اکیلے ہو گئے حادثہ کل آئنہ پر کیا ہوا ریزہ ریزہ عکس میرے ہو گئے ڈھونڈیئے تو دھوپ میں ملتے نہیں مجرموں کی طرح سائے ہو گئے میری خاموشی پہ تھے جو طعنہ زن شور میں اپنے ہی بہرے ہو ...

مزید پڑھیے

ہم نے جو قصیدوں کو مناسب نہیں سمجھا

ہم نے جو قصیدوں کو مناسب نہیں سمجھا شہ نے بھی ہمیں اپنا مصاحب نہیں سمجھا کانٹے بھی کچھ اس رت میں طرحدار نہیں تھے کچھ ہم نے الجھنا بھی مناسب نہیں سمجھا خود قاتل اقدار شرافت ہے زمانہ الزام ہے میں حفظ مراتب نہیں سمجھا ہم عصروں میں یہ چھیڑ چلی آئی ہے اظہرؔ یاں ذوقؔ نے غالبؔ کو بھی ...

مزید پڑھیے

جب تک سفید آندھی کے جھونکے چلے نہ تھے

جب تک سفید آندھی کے جھونکے چلے نہ تھے اتنے گھنے درختوں سے پتے گرے نہ تھے اظہار پر تو پہلے بھی پابندیاں نہ تھیں لیکن بڑوں کے سامنے ہم بولتے نہ تھے ان کے بھی اپنے خواب تھے اپنی ضرورتیں ہم سایے کا مگر وہ گلا کاٹتے نہ تھے پہلے بھی لوگ ملتے تھے لیکن تعلقات انگڑائی کی طرح تو کبھی ...

مزید پڑھیے

ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا

ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا نقش روشن ہے مگر نقش ہے دھندلائے گا گھر سے کس طرح میں نکلوں کہ یہ مدھم سا چراغ میں نہیں ہوں گا تو تنہائی میں بجھ جائے گا اب مرے بعد کوئی سر بھی نہیں ہوگا طلوع اب کسی سمت سے پتھر بھی نہیں آئے گا میری قسمت تو یہی ہے کہ بھٹکنا ہے مجھے راستے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3799 سے 4657