شاعری

وہ مجھ سے میرا تعارف کرانے آیا تھا

وہ مجھ سے میرا تعارف کرانے آیا تھا ابھی گزر جو گیا اک عظیم لمحہ تھا سنا ہے میں نے یہاں سرخ گھاس آ گئی تھی وہ بادشاہ یہیں اپنی جنگ ہارا تھا ہماری رات سے بہتر تھی اگلے وقت کی رات ہر ایک گھر میں دیا صبح تک تو جلتا تھا عزیز مجھ کو بھی تھے نقش اپنے ماضی کے اسے بھی شوق پرانی عمارتوں کا ...

مزید پڑھیے

اس کو آداب بچھڑنے کے سکھاتا ہوا میں

اس کو آداب بچھڑنے کے سکھاتا ہوا میں جاتے جاتے اسے سینہ سے لگاتا ہوا میں بڑھ گئے مجھ سے بھی کچھ ہاتھ ملانے والے اس سے دیکھا گیا جب ہاتھ ملاتا ہوا میں احتجاجوں کا مرے عشق سے آغاز تو ہو اس کے کوچے میں چلوں شور مچاتا ہوا میں

مزید پڑھیے

نظر کی زد میں سر کوئی نہیں ہے

نظر کی زد میں سر کوئی نہیں ہے فصیل شہر پر کوئی نہیں ہے بہت مخلص ہیں اس کے گاؤں والے پڑھا لکھا مگر کوئی نہیں ہے خبر اک گھر کے جلنے کی ہے لیکن بچا بستی میں گھر کوئی نہیں ہے کہیں جائیں کسی بھی وقت آئیں بڑوں کا دل میں ڈر کوئی نہیں ہے مجھے خود ٹوٹ کر وہ چاہتا ہے مرا اس میں ہنر کوئی ...

مزید پڑھیے

جانے آیا تھا کیوں مکان سے میں

جانے آیا تھا کیوں مکان سے میں کیا خریدوں گا اس دکان سے میں ہو گیا اپنی ہی انا سے ہلاک دب گیا اپنی ہی چٹان سے میں ایک رنگین سی بغاوت پر کٹ گیا سارے خاندان سے میں روز باتوں کے تیر چھوڑتا ہوں اپنے اجداد کی کمان سے میں مانگتا ہوں کبھی لرز کے دعا کبھی لڑتا ہوں آسمان سے میں اے مرے ...

مزید پڑھیے

غموں سے یوں وہ فرار اختیار کرتا تھا

غموں سے یوں وہ فرار اختیار کرتا تھا فضا میں اڑتے پرندے شمار کرتا تھا بیان کرتا تھا دریا کے پار کے قصے یہ اور بات وہ دریا نہ پار کرتا تھا بچھڑ کے ایک ہی بستی میں دونوں زندہ ہیں میں اس سے عشق تو وہ مجھ سے پیار کرتا تھا یوں ہی تھا شہر کی شخصیتوں کو رنج اس سے کہ وہ ضدیں بھی بڑی پر ...

مزید پڑھیے

بنائے ذہن پرندوں کی یہ قطار مرا

بنائے ذہن پرندوں کی یہ قطار مرا اسی نظارے سے کچھ کم ہو انتشار مرا جو میں بھی آگ میں ہجرت کا تجربہ کرتا مہاجروں ہی میں ہوتا وہاں شمار مرا پھر اپنی آنکھیں سجائے ہوئے میں گھر آیا سفر اک اور رہا اب کے خوش گوار مرا تمام عمر تو خوابوں میں کٹ نہیں سکتی بہت دنوں تو کیا اس نے انتظار ...

مزید پڑھیے

میں سمندر تھا مجھے چین سے رہنے نہ دیا

میں سمندر تھا مجھے چین سے رہنے نہ دیا خامشی سے کبھی دریاؤں نے بہنے نہ دیا اپنے بچپن میں جسے سن کے میں سو جاتا تھا میرے بچوں نے وہ قصہ مجھے کہنے نہ دیا کچھ طبیعت میں تھی آوارہ مزاجی شامل کچھ بزرگوں نے بھی گھر میں مجھے رہنے نہ دیا سربلندی نے مری شہر شکستہ میں کبھی کسی دیوار کو سر ...

مزید پڑھیے

اس بار ان سے مل کے جدا ہم جو ہو گئے

اس بار ان سے مل کے جدا ہم جو ہو گئے ان کی سہیلیوں کے بھی آنچل بھگو گئے چوراہوں کا تو حسن بڑھا شہر کے مگر جو لوگ نامور تھے وہ پتھر کے ہو گئے سب دیکھ کر گزر گئے اک پل میں اور ہم دیوار پر بنے ہوئے منظر میں کھو گئے مجھ کو بھی جاگنے کی اذیت سے دے نجات اے رات اب تو گھر کے در و بام سو ...

مزید پڑھیے

خط اس کے اپنے ہاتھ کا آتا نہیں کوئی

خط اس کے اپنے ہاتھ کا آتا نہیں کوئی کیا حادثہ ہوا ہے بتاتا نہیں کوئی گڑیاں جوان کیا ہوئیں میرے پڑوس کی آنچل میں جگنوؤں کو چھپاتا نہیں کوئی جب سے بتا دیا ہے نجومی نے میرا نام اپنی ہتھیلیوں کو دکھاتا نہیں کوئی کچھ اتنی تیز دھوپ نئے موسموں کی ہے بیتی ہوئی رتوں کو بھلاتا نہیں ...

مزید پڑھیے

ہر آنکھ میں مستی ہے کہیے بھی تو کیا کہیے

ہر آنکھ میں مستی ہے کہیے بھی تو کیا کہیے اور آپ کی بستی ہے کہیے بھی تو کیا کہیے ہر شے سے کنارہ بھی اور انجمن آرا بھی کیا آپ کی ہستی ہے کہیے بھی تو کیا کہیے بت خانے میں دن کاٹا میخانے میں شب گزری نشہ ہے نہ مستی ہے کہیے بھی تو کیا کہیے یہ دور صنم پرور ہر شخص یہاں آذر صحرا ہے نہ بستی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3798 سے 4657