شاعری

ان کی ٹھوکر میں شرارت ہوگی

ان کی ٹھوکر میں شرارت ہوگی فتنے اٹھیں گے قیامت ہوگی کج ادائی کی تلافی کیوں ہو مہربانی تو مصیبت ہوگی میری فرصت کا ٹھکانا کیا ہے آپ کو بھی کبھی فرصت ہوگی وہ نہ ہوں گے تو نہ ہوگا کچھ بھی دیکھنے کے لئے جنت ہوگی کیا خبر تھی دم رخصت یہ عزیزؔ شکر کے بدلے شکایت ہوگی

مزید پڑھیے

شوخی اف رے تری نظر کی

شوخی اف رے تری نظر کی یہ پھانس بنی مرے جگر کی زلفوں نے وہیں بلائیں لے لیں رخ سے جو ذرا نقاب سرکی کیا پوچھتے ہو شب جدائی جس طرح سے بن پڑی بسر کی دل دے کے انہیں میں دیکھتا ہوں یہ میری خطا ہے یا نظر کی نکلیں بھی تو یہ عزیزؔ دل سے نالوں میں کمی نہیں اثر کی

مزید پڑھیے

نگاہ ناز میں حیا بھی ہے

نگاہ ناز میں حیا بھی ہے اس بناوٹ کی انتہا بھی ہے بے سر و پا نہیں ہے یہ دنیا ابتدا بھی ہے انتہا بھی ہے شب فرقت میں کیا کرے کوئی کچھ اندھیرے میں سوجھتا بھی ہے میری اک مشت خاک کے پیچھے باد صرصر بھی ہے صبا بھی ہے بزم رنداں میں رند بھی ہے عزیزؔ پارساؤں میں پارسا بھی ہے

مزید پڑھیے

کبھی قریب کبھی دور ہو کے روتے ہیں

کبھی قریب کبھی دور ہو کے روتے ہیں محبتوں کے بھی موسم عجیب ہوتے ہیں ذہانتوں کو کہاں وقت خوں بہانے کا ہمارے شہر میں کردار قتل ہوتے ہیں فضا میں ہم ہی بناتے ہیں آگ کے منظر سمندروں میں ہمیں کشتیاں ڈبوتے ہیں پلٹ چلیں کہ غلط آ گئے ہمیں شاید رئیس لوگوں سے ملنے کے وقت ہوتے ہیں میں اس ...

مزید پڑھیے

میسر ہو جو لمحہ دیکھنے کو

میسر ہو جو لمحہ دیکھنے کو کتابوں میں ہے کیا کیا دیکھنے کو ہزاروں قد آدم آئنے ہیں مگر ترسوگے چہرہ دیکھنے کو ابھی ہیں کچھ پرانی یادگاریں تم آنا شہر میرا دیکھنے کو پھر اس کے بعد تھا خاموش پانی کہ لوگ آئے تھے دریا دیکھنے کو ہوا سے ہی کھلتا تھا اکثر مجھے بھی اک دریچہ دیکھنے ...

مزید پڑھیے

اس راستے میں جب کوئی سایہ نہ پائے گا

اس راستے میں جب کوئی سایہ نہ پائے گا یہ آخری درخت بہت یاد آئے گا بچھڑے ہوؤں کی یاد تو آئے گی جیتے جی موسم رفاقتوں کا پلٹ کر نہ آئے گا تخلیق اور شکست کا دیکھیں گے لوگ فن دریا حباب سطح پہ جب تک بنائے گا ہر ہر قدم پہ آئنہ بردار ہے نظر بے چہرگی کو کوئی کہاں تک چھپائے گا میری صدا کا ...

مزید پڑھیے

اس بلندی پہ کہاں تھے پہلے

اس بلندی پہ کہاں تھے پہلے اب جو بادل ہیں دھواں تھے پہلے نقش مٹتے ہیں تو آتا ہے خیال ریت پر ہم بھی کہاں تھے پہلے اب ہر اک شخص ہے اعزاز طلب شہر میں چند مکاں تھے پہلے آج شہروں میں ہیں جتنے خطرے جنگلوں میں بھی کہاں تھے پہلے لوگ یوں کہتے ہیں اپنے قصے جیسے وہ شاہ جہاں تھے پہلے ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے

وہ تازہ دم ہیں نئے شعبدے دکھاتے ہوئے عوام تھکنے لگے تالیاں بجاتے ہوئے سنبھل کے چلنے کا سارا غرور ٹوٹ گیا اک ایسی بات کہی اس نے لڑکھڑاتے ہوئے ابھارتی ہوئی جذبات کو یہ تصویریں یہ انقلاب ہمارے گھروں میں آتے ہوئے اسی لیے کہ کہیں ان کا قد نہ گھٹ جائے سلام کو بھی وہ ڈرتے ہیں ہاتھ ...

مزید پڑھیے

ترے تقاضوں پہ چہرہ بدل رہا ہوں میں

ترے تقاضوں پہ چہرہ بدل رہا ہوں میں نئے زمانے ترے ساتھ چل رہا ہوں میں چراغ آخر شب ہوں مگر ابھی سورج سکون سے تو نکلنا کہ جل رہا ہوں میں یہ چاہتا ہوں کی ہر رخ سے دیکھ لوں دنیا یہ زاویے جو نظر کے بدل رہا ہوں میں نئی ہوائیں ابھی سب گھروں تک آئی نہیں ابھی تو ہاتھ کا پنکھا ہی جھل رہا ...

مزید پڑھیے

یہ کیا کہ رنگ ہاتھوں سے اپنے چھڑائیں ہم

یہ کیا کہ رنگ ہاتھوں سے اپنے چھڑائیں ہم الزام تتلیوں کے پروں پر لگائیں ہم ہوتی ہیں روز روز کہاں ایسی بارشیں آؤ کہ سر سے پاؤں تلک بھیگ جائیں ہم اکتا گیا ہے ساتھ کے ان قہقہوں سے دل کچھ روز کو بچھڑ کے اب آنسو بہائیں ہم کب تک فضول لوگوں پر ہم تجربے کریں کاغذ کے یہ جہاز کہاں تک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3797 سے 4657