شاعری

صورت زنجیر موج خوں میں اک آہنگ ہے

صورت زنجیر موج خوں میں اک آہنگ ہے آگہی کی حد پہ اک خواب جنوں کی جنگ ہے جانے کن چہروں کی لو تھی جانے کس منظر کی آگ نیند کا ریشم دھواں ہے خواب شعلہ رنگ ہے اک جنوں خانے میں خود کو ڈھونڈھتا ہے آدمی خود طوافی میں بھی خود سے سینکڑوں فرسنگ ہے کرم خوردہ کشتیاں بینائی کی ہیں تہہ نشیں نم ...

مزید پڑھیے

جی دارو! دوزخ کی ہوا میں کس کی محبت جلتی ہے

جی دارو! دوزخ کی ہوا میں کس کی محبت جلتی ہے تیز دہکتی آگ زمیں پر خندق خندق چلتی ہے آسیبی سی شمعیں لے کر سیاروں میں گھوم گئی کوئی ہوا ایسی ہے کہ دنیا نیند میں اٹھ کر چلتی ہے کہساروں کی برف پگھل کر دریاؤں میں جا نکلی کچھ تو پاس آب رواں کر نبض جنوں کیا چلتی ہے رات کی رات ٹھہرنے والے ...

مزید پڑھیے

اک خواب آتشیں کا وہ محرم سا رہ گیا

اک خواب آتشیں کا وہ محرم سا رہ گیا دیوار و در میں شعلہ‌ٔ برہم سا رہ گیا شیر‌ وطن کے پیالے پہ تھیں کل ضیافتیں آیا جو تا بہ لب تو فقط سم سا رہ گیا مانا وفا برائے وفا اتفاق تھی تم سا رہا کوئی نہ کوئی ہم سا رہ گیا اک لا تعلقی کی فضا درمیاں رہی جب دو دلوں میں فرق بہت کم سا رہ گیا اس ...

مزید پڑھیے

سنبھل نہ پائے تو تقصیر واقعی بھی نہیں

سنبھل نہ پائے تو تقصیر واقعی بھی نہیں ہر اک پہ سہل کچھ آداب میکشی بھی نہیں ادھر ادھر سے حدیث غم جہاں کہہ کر تری ہی بات کی اور تیری بات کی بھی نہیں وفائے وعدہ پہ دل نکتہ چیں ہے وہ خاموش حدیث مہر و وفا آج گفتنی بھی نہیں بکھر کے حسن جہاں کا نظام کیا ہوگا یہ برہمی تری زلفوں کی برہمی ...

مزید پڑھیے

انشاؔ جی ہے نام انہی کا چاہو تو تم سے ملوائیں

انشاؔ جی ہے نام انہی کا چاہو تو تم سے ملوائیں ان کی روح دہکتا لاوا ہم تو ان کے پاس نہ جائیں یہ جو لوگ بنوں میں پھرتے جوگی بیراگی کہلائیں ان کے ہاتھ ادب سے چومیں ان کے آگے سیس نوائیں نا یہ لال جٹائیں راکھیں نا یہ انگ بھبوت رمائیں نا یہ گیرو رنگ فقیری چولا پہن پہن اترائیں بستی سے ...

مزید پڑھیے

ایک ہی شہر میں رہتے بستے کالے کوسوں دور رہا

ایک ہی شہر میں رہتے بستے کالے کوسوں دور رہا اس غم سے ہم اور بھی ہارے وہ بھی تو مجبور رہا کال تھا اشکوں کا آنکھوں میں لیکن تیری یاد نہ پوچھ کیا کیا موتی میں بھی فراہم کرنے پر مجبور رہا وہ اور اتنا پریشاں خاطر ربط غیر کی بات نہیں لیکن اس کے چپ رہنے سے دل کو وہم ضرور رہا ہم ایسے ...

مزید پڑھیے

نثار یوں تو ہوا تجھ پہ نقد جاں کیا کیا

نثار یوں تو ہوا تجھ پہ نقد جاں کیا کیا مگر رہا بھی ترا حسن سرگراں کیا کیا الگ الگ بھی بہت دل فریب نکلے گی کہیں گے لوگ ابھی تیری داستاں کیا کیا حساب مے ہے حریفان بادہ پیما سے اٹھے گا اب کے رگ تاک سے دھواں کیا کیا نفس کی رو میں کوئی پیچ و تاب دریا تھا گیا ہے وادیٔ جاں سے رواں دواں ...

مزید پڑھیے

مری آنکھیں گواہ طلعت آتش ہوئیں جل کر

مری آنکھیں گواہ طلعت آتش ہوئیں جل کر پہاڑوں پر چمکتی بجلیاں نکلیں ادھر چل کر زباں کا ذائقہ بگڑا ہوا ہے مے پلا ساقی سموم دشت نے سب رکھ دئے کام و دہن تل کر رموز زندگی سیکھے ہیں میرے شوق وحشت نے کئی صاحب نظر زندانیوں کے بیچ میں پل کر یہ کس ذوق نمو کو آج دہرانے بہار آئی لہو ہم ...

مزید پڑھیے

کیا ہوئے باد بیاباں کے پکارے ہوئے لوگ

کیا ہوئے باد بیاباں کے پکارے ہوئے لوگ چاک در چاک گریباں کو سنوارے ہوئے لوگ خوں ہوا دل کہ پشیمان صداقت ہے وفا خوش ہوا جی کہ چلو آج تمہارے ہوئے لوگ یہ بھی کیا رنگ ہے اے نرگس خواب آلودہ شہر میں سب ترے جادو کے ہیں مارے ہوئے لوگ خط معزولئ ارباب ستم کھینچ گئے یہ رسن بستہ صلیبوں سے ...

مزید پڑھیے

گل کا وہ رخ بہار کے آغاز سے اٹھا

گل کا وہ رخ بہار کے آغاز سے اٹھا شعلہ سا عندلیب کی آواز سے اٹھا نو دست زخمہ ور نے مٹا دی حد کمال پردے جلے تمام دھواں ساز سے اٹھا جیسے دعائے نیم شبی کا سرود ہو اک شور میکدے میں اس انداز سے اٹھا محضر لیے جنوں میں سوال و جواب کا پردہ سا ایک دیدۂ غماز سے اٹھا باقی ابھی ہے تنگی و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3778 سے 4657