صورت زنجیر موج خوں میں اک آہنگ ہے
صورت زنجیر موج خوں میں اک آہنگ ہے آگہی کی حد پہ اک خواب جنوں کی جنگ ہے جانے کن چہروں کی لو تھی جانے کس منظر کی آگ نیند کا ریشم دھواں ہے خواب شعلہ رنگ ہے اک جنوں خانے میں خود کو ڈھونڈھتا ہے آدمی خود طوافی میں بھی خود سے سینکڑوں فرسنگ ہے کرم خوردہ کشتیاں بینائی کی ہیں تہہ نشیں نم ...