شاعری

قبول ہوتی ہوئی بد دعا سے ڈرتے ہیں

قبول ہوتی ہوئی بد دعا سے ڈرتے ہیں وگرنہ لوگ کہاں یہ خدا سے ڈرتے ہیں چلو کہ فیصلہ آخر یہاں تمام ہوا یہ کم نصیب تری خاک پا سے ڈرتے ہیں سبھی سے کہتے ہیں بس خیر کی دعا مانگو کبھی کبھی تو ہم اتنا خدا سے ڈرتے ہیں یہی برائی ہے بجھتے ہوئے چراغوں میں یہ خشک پتوں کی صورت ہوا سے ڈرتے ...

مزید پڑھیے

دوسرا رخ نہیں جس کا اسی تصویر کا ہے

دوسرا رخ نہیں جس کا اسی تصویر کا ہے مسئلہ بھولے ہوئے خواب کی تعبیر کا ہے چند قدموں سے زیادہ نہیں چلنے پاتے جس کو دیکھو وہی قیدی کسی زنجیر کا ہے جو بھی کرنا ہے فقط دل کی تسلی کے لئے وقت تحریر کا ہے اور نہ تدبیر کا ہے تم محبت کا اسے نام بھی دے لو لیکن یہ تو قصہ کسی ہاری ہوئی تقدیر ...

مزید پڑھیے

یہ خزانے کا کوئی سانپ بنا ہوتا ہے

یہ خزانے کا کوئی سانپ بنا ہوتا ہے آدمی عشق میں دنیا سے برا ہوتا ہے کام آتا نہیں بالکل کوئی رونا دھونا جانے والا تو کہیں دور گیا ہوتا ہے جھونک کر دھول نگاہوں میں جہاں والوں کی وہ ہمیشہ کی طرح میرا ہوا ہوتا ہے لکھ دی ہوتی ہے مقدر میں بلندی جس کے صورت خاک وہ قدموں میں پڑا ہوتا ...

مزید پڑھیے

کچھ بھولنے کے جیسے علاوہ بھلا دیا

کچھ بھولنے کے جیسے علاوہ بھلا دیا آپس میں مل کے رستوں نے رستہ بھلا دیا قصہ سنایا بوڑھے نے اپنے زمانے کا قصہ سنا کے سب کو زمانہ بھلا دیا جاتے ہوئے بھی جیت لیا اس نے ہارا عشق رویا وہ اس قدر مجھے رونا بھلا دیا اتنا عجیب حسن تھا اس حسن ناز کا آنکھوں کو دیکھنے کا طریقہ بھلا دیا تب ...

مزید پڑھیے

حرم کا آئینہ برسوں سے دھندلا بھی ہے حیراں بھی

حرم کا آئینہ برسوں سے دھندلا بھی ہے حیراں بھی اک افسون برہمن ہے کہ پیدا بھی ہے پنہاں بھی نہ جا اے ناخدا دریا کی آہستہ خرامی پر اسی دریا میں خوابیدہ ہے موج تند جولاں بھی کمال‌ جانثاری ہو گئی ہے خاک پروانہ اسے اکسیر بھی کہتے ہیں اور خاک پریشاں بھی وداع شب بھی ہے اور شمع پر اک ...

مزید پڑھیے

غلط بیاں یہ فضا مہر و کیں دروغ دروغ

غلط بیاں یہ فضا مہر و کیں دروغ دروغ شراب لاؤ غم کفر و دیں دروغ دروغ ہزار نخل گماں ہیں ابھی نمود آثار ازل کے دن سے ہے کشت یقیں دروغ دروغ حدیث رشک رقیباں ہوئی ہے جس کی نظر میں اور اس کی لگن ہم نشیں دروغ دروغ خود اپنی مستیٔ پنہاں سے ہاتھ آتا ہے شکار نافۂ آہوئے چیں دروغ دروغ میں ...

مزید پڑھیے

جویان تازہ کاریٔ گفتار کچھ کہو

جویان تازہ کاریٔ گفتار کچھ کہو تم بھی ہوئے ہو کاشف اسرار کچھ کہو شیشہ کہیں سے لاؤ شراب فرنگ کا باقی جو تھی حکایت دل دار کچھ کہو جانے بھی دو تغیر عالم کی داستاں کس حال میں ہے نرگس بیمار کچھ کہو بادل اٹھے ہیں چشمک برق و شرار ہے منہ دیکھتے ہو صورت دیوار کچھ کہو مطرب کو تازہ بیت ...

مزید پڑھیے

زنجیر پا سے آہن شمشیر ہے طلب

زنجیر پا سے آہن شمشیر ہے طلب شاید تری گلی میں نہ پہنچے یہ شور اب آخر جھلک اٹھی وہ گریباں کے چاک سے جس انتظار صبح میں گزری تھی میری شب یاد آئی دل کو تیرے در نیم وا کی رات رکنے لگے قدم جو سر راہ بے سبب یہ شان دلبری ہے کہ وہ جب بھی مل گیا پایا مزاج دوست کو آسودۂ طرب اس تازہ دم ہوا ...

مزید پڑھیے

وہ ساعت صورت چقماق جس سے لو نکلتی ہے

وہ ساعت صورت چقماق جس سے لو نکلتی ہے تلاش آدمی کے زاویے کیا کیا بدلتی ہے کبھی اک لو سے ششدر ہے کبھی اک ضو سے حیراں ہے زمیں کس انکشاف‌ نار سے یا رب پگھلتی ہے تغیر کی صدی ہے آتشیں خوابوں کی پیکاریں رصد گاہوں کے آئینوں میں اک تعبیر ڈھلتی ہے نظر کو اک افق تازہ رخی سے تیری ملتا ...

مزید پڑھیے

تلخ تر اور ذرا بادۂ صافی ساقی

تلخ تر اور ذرا بادۂ صافی ساقی میرے سینے میں خس و خار ہیں کافی ساقی ظلمت و نور کو پیالوں میں سمو دیتی ہے شام پڑتے ہی تری چشم غلافی ساقی زہر کا جام ہی دے زہر بھی ہے آب حیات خشک سالی کی تو ہو جائے تلافی ساقی نشۂ مے سے ذرا زخم کے ٹانکے ٹوٹے تا ابد سلسلۂ سینہ شگافی ساقی زندگانی کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3777 سے 4657