شاعری

گر اقتدار سکوں اقتدار وحشت ہے

گر اقتدار سکوں اقتدار وحشت ہے تو پھر دیار محبت دیار وحشت ہے دراز ہو رہے امکاں بھی اب عبادت کے حصار بندگی گویا حصار وحشت ہے ہر ایک شخص ہے تصویر کامراں خود میں انا کی آب ہوا میں خمار وحشت ہے دوام پائے گا اک روز حق زمانے میں یہ انتظار نہیں انتظار وحشت ہے گلوں میں حسن نہیں اور چمن ...

مزید پڑھیے

بس رنج کی ہے داستاں عنوان ہزاروں

بس رنج کی ہے داستاں عنوان ہزاروں جینے کے لئے مر گئے انسان ہزاروں وہ جس نے مری روح کو درد آشنا رکھا ہیں مجھ پہ اسی زخم کے احسان ہزاروں جس خاک سے کہتے ہو وفا ہم نہیں کرتے سوئے ہیں اسی خاک میں سلطان ہزاروں اک رسم تکبر ہے سو اس دور کے انساں جیبوں میں لئے پھرتے ہیں پہچان ...

مزید پڑھیے

تسبیح قمری سرو صنوبر سمیٹ لو

تسبیح قمری سرو صنوبر سمیٹ لو جانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لو پرواز کامیابی کی بس اتنی شرط ہے چاہت حصار نفس کے اندر سمیٹ لو اس اشک کی تڑپ کے مقابل میں کچھ نہیں اب چاہے چشم نم میں سمندر سمیٹ لو طاقت پہ پہلے اپنی تو راضی خدا کرو پھر بازوؤں میں تم در خیبر سمیٹ لو میرا مکاں نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

یہ کم نہیں کے وہی شام کا ستارہ ہے

یہ کم نہیں کے وہی شام کا ستارہ ہے جسے فضیلت تنہائی نے ابھارا ہے کہیں سراغ نہیں ہے کسی بھی قاتل کا لہولہان مگر شہر کا نظارہ ہے میں جا رہا ہوں مکمل وجود پانے کو مجھے بھی صورت امکاں نے اب پکارا ہے وہ ہنس کے ہر شب‌ ظلمات کاٹ دیتے ہیں وہ جن کے سینے میں افلاک کا سپارا ہے چراغ جلتا ...

مزید پڑھیے

خوابوں کا انتخاب بدلتا دکھائی دے

خوابوں کا انتخاب بدلتا دکھائی دے کاش اب کہ اختیار سنورتا دکھائی دے صیاد کے ہنر کی ستائش نہیں ہو اب جس کو ہے پر نصیب وہ اڑتا دکھائی دے اتنی نہ انتشار کی حدت ہو روبرو انساں غم حیات میں جلتا دکھائی دے کیا وہ حساب درس میں رکھے گا کائنات جس کا یہاں وجود شکستہ دکھائی دے

مزید پڑھیے

شہر کو آتش رنجش کے دھواں تک دیکھوں

شہر کو آتش رنجش کے دھواں تک دیکھوں مقتل زیست کو آخر میں کہاں تک دیکھوں پھر یہ مانوں گا خموشی پہ زوال آیا ہے دل دھڑکنے کی صدا جب میں زباں تک دیکھوں یہ تمنا ہے خدا عالم ہستی میں ترے میں عیاں دیکھنا چاہوں تو نہاں تک دیکھوں جب کہ اب رابطہ رکھنے کا بہت ہے امکاں پھر بھی ویرانیاں ...

مزید پڑھیے

کون ہے قوم کا معمار چلو دیکھیں گے

کون ہے قوم کا معمار چلو دیکھیں گے کس میں ہے جذبۂ ایثار چلو دیکھیں گے جن کے سائے میں بڑا دل کو سکوں ملتا تھا کیا سلامت ہیں وہ اشجار چلو دیکھیں گے وقت کی دھند میں ممکن ہے بچھڑ جائے گا آدمی جو ہے ملنسار چلو دیکھیں گے قدرداں اس کے ہنر کے ہیں ہزاروں پھر بھی کیوں پریشان ہے فنکار چلو ...

مزید پڑھیے

پیار ہے تو گلہ ضروری ہے

پیار ہے تو گلہ ضروری ہے تلخ و شیریں مزہ ضروری ہے بے اصولی میں اطمینان کہاں زیست میں ضابطہ ضروری ہے حل مسائل کا ڈھونڈنے کے لئے باہمی مشورہ ضروری ہے دوسروں کو سمجھنے سے پہلے خود کو ہی جاننا ضروری ہے شر سے بچنے کے واسطے یارو خیر کا راستہ ضروری ہے لوگ ملتے ہیں سب محبت سے دوستی ...

مزید پڑھیے

بے وفا پائے گئے حسن کے پیکر کتنے

بے وفا پائے گئے حسن کے پیکر کتنے پھر بھی وابستہ رہے ان سے مقدر کتنے اٹھ گئے محفل دنیا سے سخنور کتنے ان میں گزرے ہیں صداقت کے پیمبر کتنے آج بن بیٹھے ہیں بت خانوں کی عظمت کے نشاں میرے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھر کتنے غیر ممکن نہیں تسخیر زمانہ لیکن آپ کے پاس ہیں اخلاق کے زیور ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے خار ہیں ہم لوگ

کون کہتا ہے خار ہیں ہم لوگ گلستاں کی بہار ہیں ہم لوگ خاکساری ہمارا شیوہ ہے اصل میں تاجدار ہیں ہم لوگ ہم کو ہتھیار کی ضرورت کیا جب محبت شعار ہیں ہم لوگ تخت والے تو ہو گئے معزول برسر اقتدار ہیں ہم لوگ سائلوں کی دعائیں لیتے ہیں کس قدر مال دار ہیں ہم لوگ حال و ماضی ہمارے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3771 سے 4657