شاعری

جو جہاں کے آئنہ ہیں دل انہوں کے سادہ ہیں

جو جہاں کے آئنہ ہیں دل انہوں کے سادہ ہیں دل میں جا دینے کو وہ ہر ایک کے آمادہ ہیں قتل سے عاشق کے تو نے اب تو کھائی ہے قسم آخر اے قاتل یہ باتیں پیش پا افتادہ ہیں کل کے دن جو گرد مے خانے کے پھرتے تھے خراب آج مسجد میں جو دیکھا صاحب سجادہ ہیں بند میں مطلق جو مجھ کو خطرۂ صیاد ہو ہوں ...

مزید پڑھیے

مجھے تو عشق میں اب عیش و غم برابر ہے

مجھے تو عشق میں اب عیش و غم برابر ہے بہ رنگ سایہ وجود و عدم برابر ہے نہ کچھ ہے عیش سے بالیدگی نہ غم سے گداز ہمارے کام میں سب نوش و سم برابر ہے چلا ہے قافلہ پر ہم سے نا توانوں کو ہزار گام سے اب اک قدم برابر ہے بہ چشم مردم روشن ضمیر گر پوچھو تو قدر جام مے و جام جم برابر ہے خزاں کے ...

مزید پڑھیے

جو تم اور صبح اور گلنار خنداں ہو کے مل بیٹھے

جو تم اور صبح اور گلنار خنداں ہو کے مل بیٹھے تو ہم بھی ان میں با چاک گریباں ہو کے مل بیٹھے نہیں کھلتے جو لوں اس شہد لب سے بوسۂ ثانی یہ لب یوں بوسۂ اول میں چسپاں ہو کے مل بیٹھے اڑا دوں دھجیاں دل کی اگر ان میں سے کوئی بھی قبائے سرخ میں تیری گریباں ہو کے مل بیٹھے یہ جزو ہم دگر ہیں ...

مزید پڑھیے

چشم تر جام دل بادہ کشاں ہے شیشہ

چشم تر جام دل بادہ کشاں ہے شیشہ محتسب آج کدھر جام کہاں ہے شیشہ بزم ساقی میں جو آواز نہیں قلقل کی اس قدر آج یہ کیوں پنبہ دہاں ہے شیشہ محتسب سنگ لیے ہاتھ میں اور سوئے فلک دم بہ دم چشم دہن سے نگراں ہے شیشہ پانو رکھتا ہی نہیں ناز سے بالائے زمیں کف بہ کف بزم میں ساقی کی رواں ہے ...

مزید پڑھیے

سیر میں تیری ہے بلبل بوستاں بے کار ہے

سیر میں تیری ہے بلبل بوستاں بے کار ہے بوستاں غیرت سے خود اجڑا خزاں بے کار ہے چھوڑ کر آنسو کو لخت دل گیا ہمراہ آہ ناؤ خشکی میں چلی آب رواں بے کار ہے گہہ زمیں سے بام پر ہوں بام سے گہہ بر زمیں اس تپش سے اپنے گھر کی نردباں بے کار ہے آئی اب فصل گل اور مجھ عندلیب زار کا ہے نشیمن شاخ گل ...

مزید پڑھیے

سیکھا جو قلم سے نئے خالی کا بجانا

سیکھا جو قلم سے نئے خالی کا بجانا کر نغمہ بقاؔ فکرت عالی کا بجانا تسمہ مرے مت دل پہ دوالی کا بجانا یہ لٹ جو ہے چابک اسی کالی کا بجانا مارا کیے مطرب بہ چگاں دل پہ تھپیڑے سیکھے اسی طبلے پہ وہ تالی کا بجانا الفت میں تری اے بت بے مہر و محبت آیا ہمیں اک ہاتھ سے تالی کا بجانا لے مول ...

مزید پڑھیے

سپاہ عشرت پہ فوج غم نے جو مل کے مرکب بہم اٹھائے

سپاہ عشرت پہ فوج غم نے جو مل کے مرکب بہم اٹھائے ادھر تو نالے کا تاشا کڑکا ادھر فغاں نے علم اٹھائے اس اشک و لخت جگر سے اک ہی فقط نہ مردم کو فائدہ ہے جو در کے رولے عدد کسی نے تو لعل کے بھی رقم اٹھائے سبب رقیبوں کے بزم میں اب گئی وہ آپس کی ہم نشینی ہم آن بیٹھے تو اٹھ گیا وہ وہ آن بیٹھا ...

مزید پڑھیے

رہ رواں کہتے ہیں جس کو جرس محمل ہے

رہ رواں کہتے ہیں جس کو جرس محمل ہے محنت‌ راہ سے نالاں وہ ہمارا دل ہے موج سے بیش نہیں ہستیٔ وہمی کی نمود صفحۂ دہر پہ گویا یہ خط باطل ہے کچھ تعین نہیں اس راہ میں جوں ریگ رواں جس جگہ بیٹھ گئے اپنی وہی منزل ہے آستیں حشر کے دن خون سے تر ہو جس کی یہ یقیں جانیو اس کو کہ مرا قاتل ہے کھول ...

مزید پڑھیے

کل مے کدے کی جانب آہنگ محتسب ہے

کل مے کدے کی جانب آہنگ محتسب ہے درپیش مے کشوں کو پھر جنگ محتسب ہے ہوتا ہے شیشۂ دل چور اس کی گفتگو سے یا رب یہ پند ناصح یا سنگ محتسب ہے منہ سرخ ہو رہا ہے بیم مغاں سے اس کا جو کچھ ہے رنگ مینا سو رنگ محتسب ہے از بس گراں ہے اس پر مینا سے مے کی قلقل پڑھنا بھی چار قل کا اب ننگ محتسب ...

مزید پڑھیے

جو چشم و دل سے چڑھا دوں نالے بہ آب اول دوم بہ آتش

جو چشم و دل سے چڑھا دوں نالے بہ آب اول دوم بہ آتش تو ماہ و خور کے بھروں پیالے بہ آب اول دوم بہ آتش جو چشم رووے تو دل بھی آہوں میں میری لخت جگر پرووے جپے وہ سمرن تری یہ مالے بہ آب اول دوم بہ آتش جو کوئی تربت پہ میری گزرے تو تاب اشک و تب فغاں سے پڑیں دو ہر ہر قدم پہ چھالے بہ آب اول دوم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3751 سے 4657