جو جہاں کے آئنہ ہیں دل انہوں کے سادہ ہیں
جو جہاں کے آئنہ ہیں دل انہوں کے سادہ ہیں دل میں جا دینے کو وہ ہر ایک کے آمادہ ہیں قتل سے عاشق کے تو نے اب تو کھائی ہے قسم آخر اے قاتل یہ باتیں پیش پا افتادہ ہیں کل کے دن جو گرد مے خانے کے پھرتے تھے خراب آج مسجد میں جو دیکھا صاحب سجادہ ہیں بند میں مطلق جو مجھ کو خطرۂ صیاد ہو ہوں ...