شاعری

غیرت گل ہے تو اور چاک گریباں ہم ہیں

غیرت گل ہے تو اور چاک گریباں ہم ہیں رشک سنبل ہے تری زلف پریشاں ہم ہیں ناتواں چشم تری ہم ہیں عصا کے محتاج نت کی بیمار وہ اور طالب درماں ہم ہیں رشک طوطی ہے خط سبز ترا ہم گویا دونوں عارض ہیں ترے آئنہ حیراں ہم ہیں آج کل ہائے ترے ناز کے ہاتھوں اے یار صدمہ پہنچے ہے ترے قلب کو نالاں ہم ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے ٹھہر جانا ہے

کون کہتا ہے ٹھہر جانا ہے رنگ چڑھنا ہے اتر جانا ہے زندگی سے رہی صحبت برسوں جاتے جاتے ہی اثر جانا ہے ٹوٹنے کو ہیں صدائیں میری خامشی تجھ کو بکھر جانا ہے خواب ندی سا گزر جائے گا دشت آنکھوں میں ٹھہر جانا ہے کوئی دن ہم بھی نہ یاد آئیں گے آخرش تو بھی بسر جانا ہے کوئی دریا نہ سمندر نہ ...

مزید پڑھیے

ترا لحظہ وہی تلوار جیسا تھا

ترا لحظہ وہی تلوار جیسا تھا مری گردن میں خم ہر بار جیسا تھا اتر جاتا تو رسوائی بہت ہوتی کہ سر کا بوجھ بھی دستار جیسا تھا تراشی ہیں غم دوراں نے تقدیریں یہ خنجر بھی کسی اوزار جیسا تھا ہنسی بھی اشتہاروں سی چمکتی تھی وہ چہرہ تو کسی اخبار جیسا تھا بہت رشتے تھے سب کی قیمتیں طے ...

مزید پڑھیے

خال لب آفت جاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

خال لب آفت جاں تھا مجھے معلوم نہ تھا دام دانے میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا خواہش سود تھی سودے میں محبت کے ولے سر بہ سر اس میں زیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا باتوں باتوں میں مرے سر کو کٹا دے گا رقیب اس قدر سیف زباں تھا مجھے معلوم نہ تھا میں تو آیا تھا بقاؔ باغ میں سن جوش بہار پر یہ ...

مزید پڑھیے

قضا نے حال گل جب صفحۂ تقدیر پر لکھا

قضا نے حال گل جب صفحۂ تقدیر پر لکھا مری دیوانگی کا ماجرا زنجیر پر لکھا ضعیفی سے نہیں پیروں کے چیں پیشانی و رو پر یہ خط ناامیدی ہے کہ روے پیر پر لکھا نہیں تجھ سے ہمیں دعوئ خوں گر شمع نے قاتل اب اپنے خوں کا محضر گردن گلگیر پر لکھا یہ سب مضموں ہے شیریں کوہ کن کی رو سپیدی کا جہاں تک ...

مزید پڑھیے

نرگس مست تری جائے جو تل برسر گل

نرگس مست تری جائے جو تل برسر گل تیغ ابرو سے گراوے سر گل برسر گل موجزن دیکھ ترے حسن کا دریائے بہار باندھ دے باد صبا خاک کے پل برسر گل اپنی نازک بدنی سے جو ہو ساقی کو خبر پھر تو ہرگز نہ پیے بیٹھ کے مل برسر گل کھول کر باغ میں تیرا جز مجموعۂ حسن آج لائی ہے صبا آفت کل برسر گل گر بقاؔ ...

مزید پڑھیے

عشق میں بو ہے کبریائی کی

عشق میں بو ہے کبریائی کی عاشقی جس نے کی خدائی کی ہم سری مت صبا سے کر اے آہ تو نے بھی کچھ گرہ کشائی کی لے چلے ہم قفس سے اے صیاد خاک میں آرزو رہائی کی روز محشر تلک نہ آخر ہوں داستانیں شب جدائی کی شیخ جیو سے ہوئی نہ سرزد باو چول بولی ہے چارپائی کی جس میں یاران بزم ہوں محظوظ یوں ...

مزید پڑھیے

جب میرے دل جگر کی طلسمیں بنائیاں

جب میرے دل جگر کی طلسمیں بنائیاں لبریز آب اشک کیں آنکھوں کی کھائیاں دست حنا سے پھوٹ بہا آخرش کو خوں کیں پنجہ کر کے تجھ سے جو زور آزمائیاں اس آنکھ سے جب آنکھ ملائی تو بحر نے چشم صدف میں موج کی پھیریں سلائیاں کس فتنۂ زمیں سے یہ رہتا ہے شب دو چار اڑتیں ہیں آسماں کے جو منہ پر ...

مزید پڑھیے

رکھتا ہے یوں وہ زلف سیہ فام دوش پر

رکھتا ہے یوں وہ زلف سیہ فام دوش پر صیاد جس طرح سے دھرے دام دوش پر شانے تلک چڑھے بن اب آنسو کو کب ہے چین سچ ہے کہ ہووے طفل کو آرام دوش پر اک دن ملا جو شیخ تو پھر میکشوں کے ساتھ سر پر لیے پھرے گا سبو جام دوش پر ملنا تو آج بھی نہ ہوا شب کو اور اٹھا ایفائے وعدہ اے بت خود کام دوش پر ہے ...

مزید پڑھیے

رنگ میں ہم مس سے بتر ہو چکے

رنگ میں ہم مس سے بتر ہو چکے لیک اسی مس سے کہ زر ہو چکے رخ کو ترے شب سے میں تشبیہ دوں پر اسی شب سے کہ سحر ہو چکے چہرہ ترا ہے مہ نو اے صنم پر وہ مہ نو کہ قمر ہو چکے رشک گل سیب ہے تیرا زنخ لیک وہی گل کہ ثمر ہو چکے قطرۂ نیساں ہیں وہ دنداں بقاؔ پر وہی قطرہ کہ گہر ہو چکے

مزید پڑھیے
صفحہ 3752 سے 4657