شاعری

یہ قدم قدم کشاکش دل بیقرار کیا ہے

یہ قدم قدم کشاکش دل بیقرار کیا ہے جو یقیں نہ ہو عمل پر تو نشاط کار کیا ہے بخدا نسیم گلشن تری وحشتوں کے صدقے یہ مزاج نامہ بر ہے تو مزاج یار کیا ہے وہ کرم نہ ہو ستم ہو کوئی بات کم سے کم ہو یہ ادائے بے نیازی مرے غم گسار کیا ہے یہ ہم اہل غم کی منزل ہے دبے قدم گزر جا کہ اجل یہاں کے فتنوں ...

مزید پڑھیے

قضا جو دے تو الٰہی ذرا بدل کے مجھے

قضا جو دے تو الٰہی ذرا بدل کے مجھے ملے یہ جام انہی انکھڑیوں میں ڈھل کے مجھے میں اپنے دل کے سمندر سے تشنہ کام آیا پکارتی رہیں موجیں اچھل اچھل کے مجھے نگاہ جس کے لیے بے قرار رہتی تھی سزا ملی ہے اسی روشنی سے جل کے مجھے میں رہزنوں کو کہیں اور دیکھتا ہی رہا کسی نے لوٹ لیا پاس سے نکل ...

مزید پڑھیے

بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا

بتوں کا ساتھ دیا بت شکن کا ساتھ دیا فریب عشق نے ہر حسن ظن کا ساتھ دیا مرے سکوت نے کب انجمن کا ساتھ دیا تمہاری چشم سخن در سخن کا ساتھ دیا تمہارے گیسوئے پر خم پہ مرنے والوں نے جب آیا وقت تو دار و رسن کا ساتھ دیا بہار آئی تو محروم‌ رنگ و بو ہیں وہی جنوں نے دور خزاں میں چمن کا ساتھ ...

مزید پڑھیے

ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں

ان کی نگہ ناز کے ٹھکرائے ہوئے ہیں ہم جرم محبت کی سزا پائے ہوئے ہیں یہ سایہ نشینان گزر گاہ تمنا کچھ عشق کے کچھ عقل کے بہکائے ہوئے ہیں اب ان کو نئی صبح کے پیغام سنا دو جو تیرگی وقت سے گھبرائے ہوئے ہیں مے چھلکے گی مے ابلے گی مے برسے گی رندو مے خانے میں خود شیخ حرم آئے ہوئے ہیں توبہ ...

مزید پڑھیے

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر وفاؔ کو آ ہی گئی نیند رات ڈھلنے پر جو سب کا دوست تھا ہر انجمن کی رونق تھا کل اس کی لاش ملی اس کے گھر کے ملبے پر ہر ایک دوست کے چہرے کو غور سے دیکھا فقط خلوص کا غازہ تھا سب کے چہرے پر وہ ذوق فن ہو کہ شاخ چمن کہ خاک وطن ہر اک کا حق ہے مرے خوں کے قطرے ...

مزید پڑھیے

سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہیں

سوز غم سے جگر جل رہا ہے مگر مرا درد نہاں آشکارا نہیں گھٹ کے مرنا گوارا ہے اے چارہ گر راز الفت عیاں ہو گوارا نہیں شمع جلتی رہی رات ڈھلتی رہی نبض بیمار رک رک کے چلتی رہی آ کے دم بھر کے مہماں کو اب دیکھ لو اس کے بچنے کا کوئی سہارا نہیں بچ کے طوفاں کی زد سے کہاں جائے گا اب کہاں تک ...

مزید پڑھیے

عشق نے برباد کر دی زندگی ہائے رے عشق

عشق نے برباد کر دی زندگی ہائے رے عشق کم ہوئی پھر بھی نہ اس کی دل کشی ہائے رے عشق تیرتا غم کے سمندر میں ہو جیسے کوئی شخص اور مٹھی میں ہو اس کی ہر خوشی ہائے رے عشق ایک دل عاشق کا ہے اور طنز کے سو تیر ہیں پھر بھی ہونٹوں پر ہے اس کی اک ہنسی ہائے رے عشق دھوپ خوشیوں کی ہے بے شک ہر طرف ...

مزید پڑھیے

راہ الفت کی آن باقی ہے

راہ الفت کی آن باقی ہے کچھ مٹی کچھ تکان باقی ہے آہ سوزاں نے سب کو پھونک دیا کس طرح آسمان باقی ہے زخم دل مندمل ہوا لیکن ایک دھندلا نشان باقی ہے نہ جگر ہے نہ دل ہے پہلو میں سانس چلتی ہے جان باقی ہے جان دے دو وفاؔ محبت میں آخری امتحان باقی ہے

مزید پڑھیے

ممکن نہیں ہے اپنے کو رسوا وفا کرے

ممکن نہیں ہے اپنے کو رسوا وفا کرے دنیائے بے ثبات کی خاطر دعا کرے نور وجود اور اگر حوصلہ کرے شمع حیات جل کے بھی کچھ لو دیا کرے مر مر کے کوئی کب تلک آخر جیا کرے کیوں ہر نفس سے زیست کے طعنے سنا کرے جب کوشش تمام بھی رہ جائے ناتمام اے حاصل حیات بتا کوئی کیا کرے جو غم نصیب‌ یار ہو خود ...

مزید پڑھیے

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر

تمام رات وہ جاگا کسی کے وعدے پر وفا کو آ ہی گئی نیند رات ڈھلنے پر جو سب کا دوست تھا ہر انجمن کی رونق تھا کل اس کی لاش ملی اس کے گھر کے ملبے پر وہ ذوق فن ہو کہ شاخ چمن کہ خاک وطن ہر اک کا حق ہے مرے خوں کے قطرے قطرے پر حقیقتیں نظر آئیں تو کس طرح ان کو تعصبات کی عینک ہے جن کے چہرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 357 سے 4657