شاعری

یاد آئی وہ زلف پریشاں

یاد آئی وہ زلف پریشاں کٹ جائے گی اب شب ہجراں میرے بعد اے جلوۂ جاناں کون کرے گا دعوت مژگاں تیرا گلہ کیا گیسوئے جاناں میں بھی پریشاں تو بھی پریشاں کس نے دیکھا زخم گلوں کا کرتے رہے سب سیر گلستاں دیکھ قفس میں آگ لگی ہے ابر بہاراں ابر بہاراں اپنی جفا پر اپنی وفا پر وہ بھی پشیماں ...

مزید پڑھیے

نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہے

نئی سحر ہے یہ لوگو نیا سویرا ہے طلوع ہو چکا سورج مگر اندھیرا ہے خدا ہی جانے یہ دل کب خدا کا گھر ہوگا ابھی تو اس میں بتان ہوس کا ڈیرا ہے ابھی نہ دے مجھے آواز اے غم جاناں ابھی تو شہر وفا میں بڑا اندھیرا ہے نہ سائبان نہ آنگن نہ چھت نہ روشندان اور اس پہ سب سے لڑائی کہ گھر یہ میرا ...

مزید پڑھیے

حقیقت سے جو آشنا ہو گیا

حقیقت سے جو آشنا ہو گیا قیود ہوس سے رہا ہو گیا نقوش عمل کو مٹا کر کوئی امیر‌ طلسم دعا ہو گیا وہ قید تصور سے آزاد ہے لطافت کا جو آئنہ ہو گیا تہی دامنی سے پشیماں تھے ہم وہ تر دامنی پر خفا ہو گیا ہے چہروں پہ کیوں چھائی پژمردگی شگفتہ دلوں کو یہ کیا ہو گیا جو خود خالق مدعا تھا ...

مزید پڑھیے

وہی حادثوں کے قصے وہی موت کی کہانی

وہی حادثوں کے قصے وہی موت کی کہانی ابھی دسترس سے باہر ہے شعور زندگانی جو مٹا کے اپنی ہستی بنا غم گسار صحرا اسے راس کیسے آتی ترے در کی پاسبانی وہی شخص لاابالی ہوا منکر حقیقت جسے چلمنوں کی سازش سے ملی تھی بد گمانی نہ غبار کارواں ہے نہ نشان راہ منزل کوئی عکس ماورا کی کرے کیسے ...

مزید پڑھیے

نہ جانے نکلے بڑے لوگ ہیں کہاں کی طرف

نہ جانے نکلے بڑے لوگ ہیں کہاں کی طرف زمیں کی بات ہے اور آنکھ آسماں کی طرف جہان والے سبھی تھک گئے فلک تکتے خدا کبھی تو بھی تو دیکھا کر جہاں کی طرف مرے بغیر مرا بے بسی سے مرنا ہو جائے چلا ہے تیر کسی کا مری کماں کی طرف تجھے حساب دے دوں تو نے کتنا قتل کیا فرشتہ بن کے چلے آ کبھی یہاں ...

مزید پڑھیے

ظلم پر بھی جو صنم ہر دم ہو

ظلم پر بھی جو صنم ہر دم ہو کیوں نہ پھر اس کا ستم ہر دم ہو درد برپا کرے مجھ پر ہر وقت بس مرا ہاتھ قلم ہر دم ہو اس سے ہر وقت میں خوش رہتا ہوں یہ بھرم ہے تو بھرم ہر دم ہو راہ پتھریلی سہی بس کوئی یاں ملانے کو قدم ہر دم ہو رہتا ہر پل ہے کسی بت کا خیال دل محبت میں بے دم ہر دم ہو

مزید پڑھیے

حسن اور پیار ترے پاس میں لے آئی ہوں

حسن اور پیار ترے پاس میں لے آئی ہوں اے مرے یار ترے پاس میں لے آئی ہوں اپنی سیرت کے جواہر میں لئے مٹھی میں میرے سردار ترے پاس میں لے آئی ہوں دل یہ چاہے کہ تری قید میں رکھ دوں اپنی روح بیزار ترے پاس میں لے آئی ہوں میرے جذبات حسیں دل میں چھپا لو اپنے پھر سے اک بار ترے پاس میں لے آئی ...

مزید پڑھیے

کچھ لوگ دل کی آڑ میں روپوش ہو گئے

کچھ لوگ دل کی آڑ میں روپوش ہو گئے آنکھوں میں خواب آئے تو خاموش ہو گئے ساقی نے پھر پلائی ہے کچھ خاص آنکھ سے یوں ہم بھی پیتے پیتے ہی مدہوش ہو گئے ہم کتنے خوش نصیب ہیں جو آپ مل گئے دیکھا جو جلوہ آپ کا بے ہوش ہو گئے جتنے کئے تھے پیار میں عہد وفا یہاں ان سے وہ عہد سارے فراموش ہو گئے

مزید پڑھیے

مری میان میں میرا بیان رہتا ہے

مری میان میں میرا بیان رہتا ہے مرے جگر میں تو ہندوستان رہتا ہے اس ایک بات پہ میں فخر کرتا آیا ہوں مری زمیں پہ کوئی آسمان رہتا ہے ڈٹی نظر جھکی گردن مزاج بت کی طرح یہ کس جہان میں سارا جہان رہتا ہے کیاریاں نہیں پر پھول خوب ہیں وتسلؔ کہ جنگلوں میں بھی اک گلستاں رہتا ہے

مزید پڑھیے

شب کی تاریکی بڑھتی ہی جائے

شب کی تاریکی بڑھتی ہی جائے کون آتا ہے زلف بکھرائے جھلملائے ستاروں کے جھرمٹ کس کی پلکوں پہ اشک تھرائے اس کی جو بات ہے نرالی ہے دل ناداں کو کون سمجھائے ان کو بھولے زمانہ ہوتا ہے اشک آنکھوں میں پھر بھی بھر آئے دم بخود ساری کائنات ہوئی ہم نے وہ گیت پیار کے گائے

مزید پڑھیے
صفحہ 358 سے 4657