آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے
آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے تو نے کیسے موڑ پہ چھوڑ دیا مجھ کو دل کی بات چھپاؤں تو رسوائی ہے تیرے بعد بچا ہے کیا جیون میں مرے میں ہوں بھیگی شام ہے اور تنہائی ہے آج مری آنکھوں میں ساون اترے گا آج بہت دن بعد تری یاد آئی ہے آج کی رات بہت بھاری ہے ...