شاعری

آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے

آج ہمیں یہ بات سمجھ میں آئی ہے تم موسم ہو اور موسم ہرجائی ہے تو نے کیسے موڑ پہ چھوڑ دیا مجھ کو دل کی بات چھپاؤں تو رسوائی ہے تیرے بعد بچا ہے کیا جیون میں مرے میں ہوں بھیگی شام ہے اور تنہائی ہے آج مری آنکھوں میں ساون اترے گا آج بہت دن بعد تری یاد آئی ہے آج کی رات بہت بھاری ہے ...

مزید پڑھیے

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی

گلی میں درد کے پرزے تلاش کرتی تھی مرے خطوط کے ٹکڑے تلاش کرتی تھی کہاں گئی وہ کنواری اداس بی آپا جو گاؤں گاؤں میں رشتے تلاش کرتی تھی بھلائے کون اذیت پسندیاں اس کی خوشی کے ڈھیر میں صدمے تلاش کرتی تھی عجیب ہجر پرستی تھی اس کی فطرت میں شجر کے ٹوٹتے پتے تلاش کرتی تھی قیام کرتی تھی ...

مزید پڑھیے

دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا

دکھ درد کے ماروں سے مرا ذکر نہ کرنا گھر جاؤ تو یاروں سے مرا ذکر نہ کرنا وہ ضبط نہ کر پائیں گی آنکھوں کے سمندر تم راہ گزاروں سے مرا ذکر نہ کرنا پھولوں کے نشیمن میں رہا ہوں میں سدا سے دیکھو کبھی خاروں سے مرا ذکر نہ کرنا شاید یہ اندھیرے ہی مجھے راہ دکھائیں اب چاند ستاروں سے مرا ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی

آنکھوں سے مری اس لیے لالی نہیں جاتی یادوں سے کوئی رات جو خالی نہیں جاتی اب عمر نہ موسم نہ وہ رستے کہ وہ پلٹے اس دل کی مگر خام خیالی نہیں جاتی مانگے تو اگر جان بھی ہنس کے تجھے دے دیں تیری تو کوئی بات بھی ٹالی نہیں جاتی آئے کوئی آ کر یہ ترے درد سنبھالے ہم سے تو یہ جاگیر سنبھالی ...

مزید پڑھیے

بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا

بارہا تجھ سے کہا تھا مجھے اپنا نہ بنا اب مجھے چھوڑ کے دنیا میں تماشہ نہ بنا اک یہی دکھ مرے مرنے کے لیے کافی ہے جیسا تو چاہتا تھا مجھ کو میں ویسا نہ بنا ایک بات اور پتے کی میں بتاؤں تجھ کو آخرت بنتی چلی جائے گی دنیا نہ بنا جان سے جائیں گے ہم دونوں ہی تو بھی میں بھی میں تو کہتا تھا ...

مزید پڑھیے

کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا

کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا ہماری سوچ کی پرواز کو روکے نہیں کوئی نئے افلاک پہ پہرے بٹھا کر کچھ نہیں ملتا کوئی اک آدھ سپنا ہو تو پھر اچھا بھی لگتا ہے ہزاروں خواب آنکھوں میں سجا کر کچھ نہیں ملتا سکوں ان کو نہیں ملتا کبھی ...

مزید پڑھیے

دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط

دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط اور مل گئی خوشی تو اچھالے تمہارے خط سب چوڑیاں تمہاری سمندر کو سونپ دیں اور کر دیے ہوا کے حوالے تمہارے خط میرے لہو میں گونج رہا ہے ہر ایک لفظ میں نے رگوں کے دشت میں پالے تمہارے خط یوں تو ہیں بے شمار وفا کی نشانیاں لیکن ہر ایک شے سے نرالے تمہارے ...

مزید پڑھیے

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں

ترے گلے میں جو بانہوں کو ڈال رکھتے ہیں تجھے منانے کا کیسا کمال رکھتے ہیں تجھے خبر ہے تجھے سوچنے کی خاطر ہم بہت سے کام مقدر پہ ٹال رکھتے ہیں کوئی بھی فیصلہ ہم سوچ کر نہیں کرتے تمہارے نام کا سکہ اچھال رکھتے ہیں تمہارے بعد یہ عادت سی ہو گئی اپنی بکھرتے سوکھتے پتے سنبھال رکھتے ...

مزید پڑھیے

کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر

کتنی زلفیں اڑیں کتنے آنچل اڑے چاند کو کیا خبر کتنا ماتم ہوا کتنے آنسو بہے چاند کو کیا خبر مدتوں اس کی خواہش سے چلتے رہے ہاتھ آتا نہیں چاہ میں اس کی پیروں میں ہیں آبلے چاند کو کیا خبر وہ جو نکلا نہیں تو بھٹکتے رہے ہیں مسافر کئی اور لٹتے رہے ہیں کئی قافلے چاند کو کیا خبر اس کو ...

مزید پڑھیے

جھک گئی جب یہ انا تیرے در‌‌ سفاک پر

جھک گئی جب یہ انا تیرے در‌‌ سفاک پر مجھ سے مت پوچھو کہ کیا گزری دل بے باک پر اس زمیں سے آسماں تک میں بکھرتی ہی گئی اب نہ سمٹی تو گروں گی ایک دن میں چاک پر میں رہی اک ہجر میں اور ایک اب ملنے کو ہے جان سے میں یوں گئی تو خاک ڈالو خاک پر اب وہاں پھوٹیں گے پھر سے لالہ و گل دیکھنا ہو رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 322 سے 4657