شاعری

اپنے چہرے پر بھی چپ کی راکھ مل جائیں گے ہم

اپنے چہرے پر بھی چپ کی راکھ مل جائیں گے ہم اب تری مانند سوچا ہے بدل جائیں گے ہم آگ جو ہم نے جلائی ہے تحفظ کے لئے اس کے شعلوں کی لپٹ میں گھر کے جل جائیں گے ہم ختم ہے عہد زمستاں دھوپ میں حدت سی ہے ایک انجانے سفر پر اب نکل جائیں گے ہم زندگی اپنی اساسی یا قیاسی جو بھی ہو خواب بن کر آئے ...

مزید پڑھیے

احوال چھپاتے ہیں کیا جانئے کیا جی کا

احوال چھپاتے ہیں کیا جانئے کیا جی کا چہرے سے بڑی عینک ماتھے سے بڑا ٹپکا اب عمر کے خیمے میں پیوند ہی لگنے ہیں صحرائے عرب ہو یا بازی گہ امریکہ شرمندۂ ہستی ہیں پہچان ہماری کیا کاسہ ہی تو ہوتا ہے چہرہ بھی سوالی کا میری ہی کہانی ہے میرا ہی حوالہ ہے یا تان ہو میراؔ کی یا شعر ہو سعدیؔ ...

مزید پڑھیے

پلکوں سے اپنے بھولے ہوئے خواب باندھ لیں

پلکوں سے اپنے بھولے ہوئے خواب باندھ لیں جب ٹھان لی سفر کی تو اسباب باندھ لیں ساحل پہ کوئی غول نہ اس پر جھپٹ پڑے ڈھونڈا ہے جو خزینہ تہہ آب باندھ لیں اس آخری نظارے کو گر اپنا بس چلے ہر شے کی دوڑ سے دل بے تاب باندھ لیں جینا تو ہے ضرور مگر اپنے ارد گرد کیوں اک حصار گنبد و محراب باندھ ...

مزید پڑھیے

یوں بھی جینے کے بہانے نکلے

یوں بھی جینے کے بہانے نکلے کھوج خود اپنا لگانے نکلے پیٹھ پر بوجھ شکم کا لے کر ہم تری یاد جگانے نکلے آنکھ لگ جائے تو وحشت کم ہو چاند کس وقت نہ جانے نکلے وہی لمحے جو تھے لمحوں سے بھی کم اپنی وسعت میں زمانے نکلے اک تبسم پہ ٹلے گی ہر بات داغ دل کش کو دکھانے نکلے قحط آباد سخن میں ...

مزید پڑھیے

سچ کا لمحہ جب بھی نازل ہوتا ہے

سچ کا لمحہ جب بھی نازل ہوتا ہے کتنی الجھن میں اپنا دل ہوتا ہے میری خوشی کا بھید ہے بس یہ سب کا دکھ میرے اپنے دکھ میں شامل ہوتا ہے علم کی میرے یار سند پہچان نہیں بہت پڑھا لکھا بھی جاہل ہوتا ہے سیدزادے دل مانگو یا داد ہنر سائل تو ہر حال میں سائل ہوتا ہے بیت گئی جب عمر تو یہ معلوم ...

مزید پڑھیے

قبول ہے غم دنیا ترے حوالے سے

قبول ہے غم دنیا ترے حوالے سے یہ بوجھ ورنہ سنبھلتا نہیں سنبھالے سے سراغ اپنا ادھر ہی کہیں ملے شاید تنے ہوئے ہیں جدھر مکڑیوں کے جالے سے میں ایک ذرۂ آوارہ اور مری خاطر سمندروں سی یہ راتیں یہ دن ہمالے سے کھلی تو رکھتا ہوں میں گھر کی کھڑکیاں لیکن وہی تمام نظارے ہیں دیکھے بھالے ...

مزید پڑھیے

خود اپنے زہر کو پینا بڑا کرشمہ ہے

خود اپنے زہر کو پینا بڑا کرشمہ ہے جو ہو خلوص تو جینا بڑا کرشمہ ہے یہاں تو آب و سراب ایک ہے جدھر جائیں تمہارے ہاتھ ہے مینا بڑا کرشمہ ہے تمہارا دور کرشموں کا دور ہے سچ ہے تمہارے دور میں جینا بڑا کرشمہ ہے جہاں نصیب ہو عیش دوام بے تگ و دو جبیں پہ گرم پسینہ بڑا کرشمہ ہے غم معاش کی ...

مزید پڑھیے

میری چاہت پہ نہ الزام لگاؤ لوگو (ردیف .. ن)

میری چاہت پہ نہ الزام لگاؤ لوگو کچھ سمجھ کر ہی اٹھاتا ہے کوئی بار گراں پہلے ذرات زمیں بوس کا ہم راز تو بن پھر سمجھنا بہت آساں ہے ستاروں کی زباں راز دار‌ گل و نسریں تو ہزاروں تھے مگر کوئی سمجھا ہی نہیں برگ پریشاں کی زباں پھینکتی ہے ترے شاہینؔ پہ دنیا پتھر ناگہاں چور نہ ہو جائے ...

مزید پڑھیے

شہر خوباں سے جو ہم اب بھی گزر آتے ہیں

شہر خوباں سے جو ہم اب بھی گزر آتے ہیں کتنے دھندلائے ہوئے نقش ابھر آتے ہیں رات جا چھپتی ہے سنسان جزیروں میں کہیں رات کے خواب مری روح میں در آتے ہیں سحر‌ انداز ہے کیا نیم نگاہی تیری ایک سے کافر و دیں دار نظر آتے ہیں کس کو سچ کہیے گا کس روپ کو جھٹلائیے گا آئنے میں تو کئی عکس اتر ...

مزید پڑھیے

ہر ایک سمت جب اس کو پکارنا ٹھہرا

ہر ایک سمت جب اس کو پکارنا ٹھہرا وہ پھر مری رگ جاں سے قریب کیا ٹھہرا فریب خوردہ نظر کو فریب دوں کب تک وہ ایک ابر تھا کیا آیا اور کیا ٹھہرا جدھر سے جائیے رستے ادھر ہی جاتے تھے مگر وہاں سے نکلنا تو معجزہ ٹھہرا وہ سیل تھا کہ مسافر عدم کی راہ گئے جہاز دور مگر خشکیوں پہ جا ٹھہرا جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 313 سے 4657