اپنے چہرے پر بھی چپ کی راکھ مل جائیں گے ہم
اپنے چہرے پر بھی چپ کی راکھ مل جائیں گے ہم اب تری مانند سوچا ہے بدل جائیں گے ہم آگ جو ہم نے جلائی ہے تحفظ کے لئے اس کے شعلوں کی لپٹ میں گھر کے جل جائیں گے ہم ختم ہے عہد زمستاں دھوپ میں حدت سی ہے ایک انجانے سفر پر اب نکل جائیں گے ہم زندگی اپنی اساسی یا قیاسی جو بھی ہو خواب بن کر آئے ...