شاعری

کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیا

کیا بتاؤں کیسا خود کو در بدر میں نے کیا عمر بھر کس کس کے حصے کا سفر میں نے کیا تو تو نفرت بھی نہ کر پائے گا اس شدت کے ساتھ جس بلا کا پیار تجھ سے بے خبر میں نے کیا کیسے بچوں کو بتاؤں راستوں کے پیچ و خم زندگی بھر تو کتابوں کا سفر میں نے کیا کس کو فرصت تھی کہ بتلاتا تجھے اتنی سی ...

مزید پڑھیے

بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے

بھلا غموں سے کہاں ہار جانے والے تھے ہم آنسوؤں کی طرح مسکرانے والے تھے ہمیں نے کر دیا اعلان گمرہی ورنہ ہمارے پیچھے بہت لوگ آنے والے تھے انہیں تو خاک میں ملنا ہی تھا کہ میرے تھے یہ اشک کون سے اونچے گھرانے والے تھے انہیں قریب نہ ہونے دیا کبھی میں نے جو دوستی میں حدیں بھول جانے ...

مزید پڑھیے

دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہے

دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہے ڈوب کے دیکھو کتنا پیاسا لگتا ہے تنہا ہو تو گھبرایا سا لگتا ہے بھیڑ میں اس کو دیکھ کے اچھا لگتا ہے آج یہ ہے کل اور یہاں ہوگا کوئی سوچو تو سب کھیل تماشا لگتا ہے میں ہی نہ مانوں میرے بکھرنے میں ورنہ دنیا بھر کو ہاتھ تمہارا لگتا ہے ذہن سے کاغذ پر ...

مزید پڑھیے

کتنے بھی غم زدہ ہوں مگر مسکرائیں گے

کتنے بھی غم زدہ ہوں مگر مسکرائیں گے وعدہ جو کر لیا ہے کہ آنسو نہ آئیں گے وہ ہیں وہاں جہاں سے پلٹنا محال ہے پھر بھی یہ لگ رہا ہے کہ وہ لوٹ آئیں گے کتنے دنوں کے بعد ہمیں نیند آئی ہے آہستہ بات کیجیے ہم جاگ جائیں گے

مزید پڑھیے

بس وہی وہ دکھائی دیتے ہیں

بس وہی وہ دکھائی دیتے ہیں ایک کے دو دکھائی دیتے ہیں جتنے ہرجائی ہم نے دیکھے ہیں اتنے کس کو دکھائی دیتے ہیں وہ یہاں ہیں نہیں پتہ ہے ہمیں پھر بھی ہم کو دکھائی دیتے ہیں دل کو بہلانا ہی تو مقصد ہے فرض کر لو دکھائی دیتے ہیں جیسے ہم تم کو صاف دیکھتے ہیں ویسے تم کو دکھائی دیتے ...

مزید پڑھیے

اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے

اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے وہ جتنی دور ہو اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے مگر جب پاس آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر مرے اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر ...

مزید پڑھیے

اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا

اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا اس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گا تم گرانے میں لگے تھے تم نے سوچا ہی نہیں میں گرا تو مسئلہ بن کر کھڑا ہو جاؤں گا مجھ کو چلنے دو اکیلا ہے ابھی میرا سفر راستہ روکا گیا تو قافلہ ہو جاؤں گا ساری دنیا کی نظر میں ہے مرا عہد وفا اک ترے کہنے ...

مزید پڑھیے

عدم میں کیا عجب رعنائیاں ہیں

عدم میں کیا عجب رعنائیاں ہیں مگر سب دہر کی پرچھائیاں ہیں بھلی لگتی نہیں تکرار اتنی بظاہر بے ضرر سچائیاں ہیں وہ خود شعلے سے اب دامن بچائے بہت رسوا مری تنہائیاں ہیں میں اپنے وار کھا کر اور بپھروں غضب کی معرکہ آرائیاں ہیں ہے عالم ایک جیسا ہر خوشی کا الم کی ان گنت پہنائیاں ...

مزید پڑھیے

خاک دل کہکشاں سے ملتی ہے

خاک دل کہکشاں سے ملتی ہے یہ زمیں آسماں سے ملتی ہے ہاتھ آتی نہیں کبھی دنیا اور کبھی ہر دکاں سے ملتی ہے ہم کو اکثر گناہ کی توفیق حجت قدسیاں سے ملتی ہے دل کو ایمان جاننے والے دولت دل کہاں سے ملتی ہے ماورائے سخن ہے جو توقیر اک کڑے امتحاں سے ملتی ہے انتہا یہ کہ میری حد سفر منزل ...

مزید پڑھیے

یوں الجھ کر رہ گئی ہے تار پیراہن میں رات

یوں الجھ کر رہ گئی ہے تار پیراہن میں رات بے دلی کے ساتھ اب اترے گی جان و تن میں رات کھول کر بادل کے دروازے نکل آیا ہے چاند گر پڑی ہے رقص کرتے کرتے پھر آنگن میں رات بات کیا ہے کشتیاں کھلتی نہیں ساحل سے کیوں خوار و آوارہ سی ہے اپنے ادھورے پن میں رات کام اتنے ہیں کہ اب یہ سوچنا بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 312 سے 4657