دن چھوٹا ہے رات بڑی ہے
دن چھوٹا ہے رات بڑی ہے مہلت کم اور شرط کڑی ہے اس کا اشارہ پا کر مر جا جینے کو اک عمر پڑی ہے بند نہیں سارے دروازے خیر سے بستی بہت بڑی ہے خوش ہیں مکیں اب دونوں طرف کے بیچ میں اک دیوار کھڑی ہے جاگ رہی ہے ساری بستی اور گلی سنسان پڑی ہے ہر پل چھوٹی ہوتی دنیا پہلے سے اب بہت بڑی ہے دل ...