شاعری

دن چھوٹا ہے رات بڑی ہے

دن چھوٹا ہے رات بڑی ہے مہلت کم اور شرط کڑی ہے اس کا اشارہ پا کر مر جا جینے کو اک عمر پڑی ہے بند نہیں سارے دروازے خیر سے بستی بہت بڑی ہے خوش ہیں مکیں اب دونوں طرف کے بیچ میں اک دیوار کھڑی ہے جاگ رہی ہے ساری بستی اور گلی سنسان پڑی ہے ہر پل چھوٹی ہوتی دنیا پہلے سے اب بہت بڑی ہے دل ...

مزید پڑھیے

حسن پر بوجھ ہوئے اس کے ہی وعدے اب تو

حسن پر بوجھ ہوئے اس کے ہی وعدے اب تو ترک کر اے غم دل اپنے ارادے اب تو اس قدر عام ہوئی شہر میں خوں پیرہنی نظر آتے نہیں بے داغ لبادے اب تو تو ٹھہرتا نہیں میرے لیے پھر ضد کیسی قید اس ہم سفری کی بھی اٹھا دے اب تو پیڑ نے سائے کے حرفوں میں لکھا تھا جس کو ڈوبتے چاند وہ تحریر مٹا دے اب ...

مزید پڑھیے

نکل کے گھر سے پھر اس طرح گھر گئے ہم تم

نکل کے گھر سے پھر اس طرح گھر گئے ہم تم خود اپنی راکھ اڑاتے بکھر گئے ہم تم زمانہ اپنی ادا کاریوں پہ نازاں تھا اور اپنے آپ پہ الزام دھر گئے ہم تم اسے کہو غم تاراجیٔ چمن ہو اسے حد بہار و خزاں سے گزر گئے ہم تم کبھی جہاں کے مقابل رہے تن تنہا کبھی خود اپنی ہی آہٹ سے ڈر گئے ہم تم

مزید پڑھیے

دنیا نے بس تھکا ہی دیا کام کم ہوئے

دنیا نے بس تھکا ہی دیا کام کم ہوئے تیری گلی میں آئے تو کچھ تازہ دم ہوئے عقدہ کھلا تو درد کے رشتے بہم ہوئے دامن کے ساتھ اب کے گریباں بھی نم ہوئے جب سے اسیر سلسلۂ بیش و کم ہوئے ہم کو صلیب اپنے ہی نقش قدم ہوئے بدلی ذرا جو طرز خرام ستار گاں نقطوں میں آنکھ بیچ صحیفے رقم ہوئے تھے ...

مزید پڑھیے

یہ بھی شاید ترا اعجاز نظر ہے اے دوست

یہ بھی شاید ترا اعجاز نظر ہے اے دوست شعلۂ درد مجھے اک گل تر ہے اے دوست تیری آواز تو صحرا میں بھٹک جاتی ہے کس طرف جاؤں میں تو جانے کدھر ہے اے دوست ہائے یہ بے‌‌ سر و سامانی و بے ترتیبی زندگی کیا کسی مے خوار کا گھر ہے اے دوست کتنے طوفانوں کو سر کرتی ہے اک شمع وفا اور وہ شمع وفا درد ...

مزید پڑھیے

پرائی آگ میں یوں جل بجھے شرر میرے

پرائی آگ میں یوں جل بجھے شرر میرے کھلے نہ مجھ پہ بھی احوال بیشتر میرے ہے زرد رینگتے سایوں کی زد میں شاخ گلاب تم آئے ہو بھی تو کس رت میں آج گھر میرے سزا وجود سے بھی قبل ہو چکی مقسوم خبر نہ رکھ مری اس درجہ بے خبر میرے چھتوں پہ سایہ کناں بیل جل گئی ہوگی سلگ اٹھے ہیں کچھ اس طور بام و ...

مزید پڑھیے

مزاج گردش دوراں وہی سمجھتے ہیں

مزاج گردش دوراں وہی سمجھتے ہیں جو رسم و راہ غم عاشقی سمجھتے ہیں وہ کون لوگ تھے راس آئی جن کو غربت بھی ہمیں تو اہل وطن اجنبی سمجھتے ہیں شکست دل کا یہ اک لازمی نتیجہ ہے حضور آپ جسے سادگی سمجھتے ہیں بڑی لطیف ہے یہ لذت طلب لیکن کچھ اس کو تیرے گنہ گار ہی سمجھتے ہیں چھپاؤ ہم سے نہ ...

مزید پڑھیے

ہم پہ جس طور بھی تم چاہو نظر کر دیکھو

ہم پہ جس طور بھی تم چاہو نظر کر دیکھو ہاں مگر بام کی رفعت سے اتر کر دیکھو آبلہ پائی کی لذت بھی عجب لذت ہے ساکنو دشت میں اک بار سفر کر دیکھو پھول ہی پھول دمکتے ہیں کراں تا بہ کراں شعلہ زار غم ہستی سے گزر کر دیکھو یہ تو معلوم ہے آئے گا نہ کوئی لیکن آج کی رات بھی شاہینؔ سحر کر ...

مزید پڑھیے

ہمارے حال زبوں پر ملال ہے کتنا

ہمارے حال زبوں پر ملال ہے کتنا اسے بھی یارو ہمارا خیال ہے کتنا بچایئے دل زندہ کو خون ہونے سے نہ دیکھیے کہ غم ماہ و سال ہے کتنا ہوئی خوشی جو میسر تو یہ ہوا معلوم خوشی کا بوجھ اٹھانا محال ہے کتنا نباہ زیست سے کرتا ہوں عاشقانہ میں یہ جانتا ہوں کہ جینا محال ہے کتنا

مزید پڑھیے

میں خامشی کے جزیرے میں ایک پتھر تھا

میں خامشی کے جزیرے میں ایک پتھر تھا مگر صداؤں کا ریلا مرا مقدر تھا نہ جانے کون تھا کس اجنبی سفر پر تھا وہ قافلے سے الگ قافلے کے اندر تھا تمام شہر کو اس کا پتہ ملا مجھ سے وہ آئنے میں تھا پر آئنے سے باہر تھا وہ جا رہا تھا سمندر کو جھیلنے کے لئے عرق عرق سر ساحل تمام منظر تھا کھلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 314 سے 4657