شاعری

ہم سفر تھم تو سہی دل کو سنبھالوں تو چلوں

ہم سفر تھم تو سہی دل کو سنبھالوں تو چلوں منزل دوست پہ دو اشک بہا لوں تو چلوں ہر قدم پر ہیں مرے دل کو ہزاروں الجھاؤ دامن صبر کو کانٹوں سے چھڑا لوں تو چلوں مجھ سا کون آئے گا تجدید مکارم کے لیے دشت امکاں کی ذرا خاک اڑا لوں تو چلوں بس غنیمت ہے یہ شیرازۂ لمحات بہار دھوم سے جشن خرابات ...

مزید پڑھیے

نہیں معلوم کتنے ہو چکے ہیں امتحاں اب تک

نہیں معلوم کتنے ہو چکے ہیں امتحاں اب تک مگر تیرے وفاداروں کی ہمت ہے جواں اب تک یہ طوفان حوادث اور تلاطم باد و باراں کے محبت کے سہارے کشتئ دل ہے رواں اب تک کہاں چھوڑا ہے دل کو کاروان آہ و نالہ نے کہ ہے آوارہ منزل یوسف بے کارواں اب تک تلاش بحر میں قطرے نے کتنی ٹھوکریں کھائیں سمجھ ...

مزید پڑھیے

قدم یوں بے خطر ہو کر نہ مے خانے میں رکھ دینا

قدم یوں بے خطر ہو کر نہ مے خانے میں رکھ دینا بہت مشکل ہے جان و دل کو نذرانے میں رکھ دینا سنا ہے حضرت واعظ ادھر تشریف لائیں گے ذرا اس کاسۂ گردوں کو مے خانے میں رکھ دینا بتوں کے دل میں یوں شاید خدا کا خوف پیدا ہو یہ میرے دل کے ٹکڑے جا کے بت خانے میں رکھ دینا یہاں اے دل فرشتوں کا بھی ...

مزید پڑھیے

حریم ناز کو ہم غیر کی محفل نہیں کہتے

حریم ناز کو ہم غیر کی محفل نہیں کہتے رقیبوں پر مگر وہ کون تھا مائل نہیں کہتے جو رنج عشق سے فارغ ہو اس کو دل نہیں کہتے جو موجوں سے نہ ٹکرائے اسے ساحل نہیں کہتے اشارہ شمع کا سمجھا نہ پروانہ تو کیا سمجھا منار راہ کو اہل نظر منزل نہیں کہتے برنگ رشتۂ تسبیح دل سے راہ ہے دل کو بھٹک ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں سر راہ مناسب نہیں ملنا (ردیف .. ت)

کہتے ہیں سر راہ مناسب نہیں ملنا کیا خوب کہ اب ہوگی کہیں اور ملاقات ہلکی سی خلش دل میں نگاہوں میں اداسی شاید یوں ہی ہوتی ہے محبت کی شروعات ٹوٹے ہوئے تارے میں نہیں کوئی تجلی پلکوں سے گرا اشک تو کیا رہ گئی اوقات ہم نے بھی اٹھائی ہے بہت آج خرابی واصفؔ کو بلاؤ کہ چلیں سوئے خرابات

مزید پڑھیے

کسی کے عشق کا یہ مستقل آزار کیا کہنا

کسی کے عشق کا یہ مستقل آزار کیا کہنا مبارک ہو دل محزوں ترا ایثار کیا کہنا نہ کرتے التجا دیدار کی موسیٰ تو کیا کرتے چلا آتا ہے کب سے وعدۂ دیدار کیا کہنا وہی کرتا ہوں جو کچھ لکھ چکے میرے مقدر میں مگر پھر بھی ہوں اپنے فعل کا مختار کیا کہنا قدم اٹھتے ہی دل پر اک قیامت بیت جاتی ہے دم ...

مزید پڑھیے

بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم

بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم تم آؤگے تو جشن چراغاں کریں گے ہم باقی ہے خاک کوئے محبت کی تشنگی اپنے لہو کو اور بھی ارزاں کریں گے ہم بیچارگی کے ہو گئے یہ چارہ گر شکار اب خود ہی اپنے درد کا درماں کریں گے ہم جوش جنوں سے جامۂ ہستی ہے تار تار کیونکر علاج تنگی داماں کریں گے ہم اے ...

مزید پڑھیے

وہ جن کی لو سے ہزاروں چراغ جلتے تھے (ردیف .. ا)

وہ جن کی لو سے ہزاروں چراغ جلتے تھے چراغ باد فنا نے بجھائے ہیں کیا کیا نہ تاب دید نہ بے دیکھے چین ہی آئے ہمارے حال پہ وہ مسکرائے ہیں کیا کیا رضا و صبر و قناعت تواضع و تسلیم فلک نے ہم کو خصائل سکھائے ہیں کیا کیا لرز گیا ہے جہاں دست کاتب تقدیر ہماری زیست میں لمحات آئے ہیں کیا ...

مزید پڑھیے

میرے ہونٹوں کا ابھی زہر ترے جسم میں ہے (ردیف .. ا)

میرے ہونٹوں کا ابھی زہر ترے جسم میں ہے تو اگر بچھڑا تو کیا چین سے رہ پائے گا اے سخن فہم مرے شعر سے کیا لگتا ہے کیا مرے بعد مجھے یاد رکھا جائے گا میں تو اس شوق میں ہوتا ہوں کہ کچھ بولیں لوگ بولنا اپنا کبھی رنگ تو دکھلائے گا تو جو اب ساتھ نہیں ہے تو یہی لگتا ہے اب خدا بھی تو مرے کام ...

مزید پڑھیے

رات بھر تم نہ جاگتے رہیو

رات بھر تم نہ جاگتے رہیو خواب آنکھوں میں پالتے رہیو ایک لمحہ میں فیصلہ کرنا عمر بھر یاں نہ سوچتے رہیو جو کسی کی سنا نہیں اب تک اس خدا کو نہ پوجتے رہیو وقت کے ساتھ ساتھ چلنا تم اک جگہ تو نہ بیٹھ کے رہیو بھول کر بھی نہ لو یہاں احساں اس بلا سے تو بھاگتے رہیو اپنی ہستی ہی کیا سو تم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 292 سے 4657