کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہوگا
کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہوگا کبھی نام خدا تو بھی تو اے کم سن جواں ہوگا نہیں معلوم ان کی جلوہ گہ میں کیا سماں ہوگا نظر جب کامراں ہوگی تو اے دل تو کہاں ہوگا وہی اک سانس مدہوش حیات جاوداں ہوگا جو آہ سرد بن کر سوز غم کا ترجماں ہوگا لرز جائیں گے یہ مظلومی دل کے تماشائی اگر ...