شاعری

کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہوگا

کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہوگا کبھی نام خدا تو بھی تو اے کم سن جواں ہوگا نہیں معلوم ان کی جلوہ گہ میں کیا سماں ہوگا نظر جب کامراں ہوگی تو اے دل تو کہاں ہوگا وہی اک سانس مدہوش حیات جاوداں ہوگا جو آہ سرد بن کر سوز غم کا ترجماں ہوگا لرز جائیں گے یہ مظلومی دل کے تماشائی اگر ...

مزید پڑھیے

وہ جلوہ طور پر جو دکھایا نہ جا سکا

وہ جلوہ طور پر جو دکھایا نہ جا سکا آخر یہی ہوا کہ چھپایا نہ جا سکا آتے ہی ان کے دشت و جبل مسکرا اٹھے ایسے میں اپنا حال سنایا نہ جا سکا گردوں بھی اضطراب عزیزاں سے ہل گیا سوئے کچھ ایسے ہم کہ جگایا نہ جا سکا دامن کے داغ اشک ندامت نے دھو دئیے لیکن یہ دل کا داغ مٹایا نہ جا سکا کتنی ...

مزید پڑھیے

تری الفت میں جتنی میری ذلت بڑھتی جاتی ہے

تری الفت میں جتنی میری ذلت بڑھتی جاتی ہے قسم ہے رب عزت کی کہ عزت بڑھتی جاتی ہے خدایا خیر ہو معمور ہائے ربع مسکیں کی کہ اب دل کھول کر رونے کی عادت بڑھتی جاتی ہے کسی کو یاد کر کے ایک دن خلوت میں رویا تھا نہیں معلوم کیوں جب سے ندامت بڑھتی جاتی ہے کہاں طاقت سنانے کی کسے فرصت ہے سننے ...

مزید پڑھیے

ذرہ حریف مہر درخشاں ہے آج کل

ذرہ حریف مہر درخشاں ہے آج کل قطرے کے دل میں شورش طوفاں ہے آج کل صد جلوہ بے حجاب خراماں ہے آج کل سہما ہوا سا گنبد گرداں ہے آج کل آنسو میں عکس نقشۂ دوراں ہے آج کل سمٹا ہوا سا عالم امکاں ہے آج کل برہم مزاج فطرت انساں ہے آج کل کس مخمصے میں غیرت یزداں ہے آج کل قسمت کی تیرگی کی کہانی ...

مزید پڑھیے

اگر خوئے تحمل ہو تو کوئی غم نہیں ہوتا

اگر خوئے تحمل ہو تو کوئی غم نہیں ہوتا گلے شکوے سے رنج زندگی کچھ کم نہیں ہوتا بجھی جاتی ہیں شمعیں رہ گزار زندگانی کی چراغ آرزو لیکن کبھی مدھم نہیں ہوتا خدا کے سامنے جو سر یقیں کے ساتھ جھک جائے کسی طاقت کے آگے پھر کبھی وہ خم نہیں ہوتا عطا کی ہے خدا نے علم کی دولت اگر تجھ کو سخاوت ...

مزید پڑھیے

خیال دل کو ہے اس گل سے آشنائی کا

خیال دل کو ہے اس گل سے آشنائی کا نہیں صبا کو ہے دعویٰ جہاں رسائی کا کہیں وہ کثرت‌ عشاق سے گھمنڈ میں آ ڈروں ہوں میں کہ نہ دعویٰ کرے خدائی کا مجھے تو ڈھو کے تھا زاہد پر اک نگاہ سے آج غرور کیا ہوا وہ تیری پارسائی کا جہاں میں دل نہ لگانے کا لیوے پھر کوئی نام بیاں کروں میں اگر تیری ...

مزید پڑھیے

وہ جس کی جستجوئے دید میں پتھرا گئیں آنکھیں (ردیف .. ا)

وہ جس کی جستجوئے دید میں پتھرا گئیں آنکھیں نظر کے سامنے اک دن سر محفل بھی آئے گا یہ کیا شکوہ کہ کوئی چاہنے والا نہیں ملتا کرم پر تم جو ہو مائل کوئی سائل بھی آئے گا یہ طوفاں خیز موجیں یہ تھپیڑے باد و باراں کے سفینے کو یوں ہی کہتے رہو ساحل بھی آئے گا نہ ہو مایوس ہمدم پاؤں میں لغزش ...

مزید پڑھیے

نسیم صبح یوں لے کر ترا پیغام آتی ہے

نسیم صبح یوں لے کر ترا پیغام آتی ہے پری جیسے کوئی ہاتھوں میں لے کر جام آتی ہے وہ منظر بھی کبھی دیکھا ہے اہل کارواں تم نے امنڈ کر جب کسی بچھڑے ہوئے پر شام آتی ہے یہاں اب ناتوانی سے قدم بھی اٹھ نہیں سکتے ادھر محفل سے ساقی کی صلائے عام آتی ہے کسی کا خون دل کھنچ کر ٹپک جاتا ہے آنکھوں ...

مزید پڑھیے

عزت انہیں ملی وہی آخر بڑے رہے

عزت انہیں ملی وہی آخر بڑے رہے جو خاک ہو کے آپ کے در پر پڑے رہے اے دوست مغتنم ہیں وہ مردان با وقار عسرت میں بھی جو آن پہ اپنی اڑے رہے پایاب ہو کے سیل نے ان کے قدم لیے منجدھار میں جو پاؤں جمائے کھڑے رہے پڑتی نہیں ہر ایک پہ اس کی نگاہ ناز ساقی کے آستاں پہ ہزاروں پڑے رہے اپنوں کی تلخ ...

مزید پڑھیے

کھلنے ہی لگے ان پر اسرار شباب آخر

کھلنے ہی لگے ان پر اسرار شباب آخر آنے ہی لگا ہم سے اب ان کو حجاب آخر تعمیل کتاب اول تاویل کتاب آخر تدبیر و عمل اول تقریر و خطاب آخر اس خاک کے پتلے کی کیا خوب کہانی ہے مسجود ملک اول رسوا و خراب آخر گو خود وہ نہیں کرتے بخشش میں حساب اول دینا ہے مگر ہم کو اک روز حساب آخر دیدار سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 291 سے 4657