شاعری

کوئی بادل تپش غم سے پگھلتا ہی نہیں

کوئی بادل تپش غم سے پگھلتا ہی نہیں اور دل ہے کہ کسی طرح بہلتا ہی نہیں سب یہاں بیٹھے ہیں ٹھٹھرے ہوئے جموں کو لئے دھوپ کی کھوج میں اب کوئی نکلتا ہی نہیں صرف اک میں ہوں جو ہر روز نیا لگتا ہوں ورنہ اس شہر میں تو کوئی بدلتا ہی نہیں

مزید پڑھیے

درد اس کا ابھر رہا ہوگا

درد اس کا ابھر رہا ہوگا سارا نشہ اتر رہا ہوگا بند آنکھوں کی سرد جھیلوں میں عکس اس کا سنور رہا ہوگا رات سے صلح ہو رہی ہوگی اس کا احساس مر رہا ہوگا

مزید پڑھیے

فکر بالیدہ کی ندرت سے نکھرتے ہیں خیال

فکر بالیدہ کی ندرت سے نکھرتے ہیں خیال اور اگر ذہن رسا ہو تو سنورتے ہیں خیال عقل کب کرتی ہے فرسودہ خیالوں کو قبول فکر بیدار اگر ہو تو ابھرتے ہیں خیال جدت فکر سے افکار کو ملتی ہے نمو حسن کردار کی راہوں سے گزرتے ہیں خیال ذہن خالق ہے خیالات کا تسلیم مگر ذہن پر صورت الہام اترتے ہیں ...

مزید پڑھیے

دیار غیر میں اپنے دیار کی باتیں

دیار غیر میں اپنے دیار کی باتیں ہوں جیسے عہد خزاں میں بہار کی باتیں جہان عشق میں اہل دماغ مت ڈھونڈیں سکون قلب کی باتیں قرار کی باتیں ہزار فتنوں کا مسکن ہے سینۂ آدم رموز اہرمن و کردگار کی باتیں کشاکش غم دنیا سے جب ملے گی نجات کریں گے گیسو و رخسار یار کی باتیں مرا دماغ بھی ...

مزید پڑھیے

سرخ لاوے کی طرح تپ کے نکھرنا سیکھو

سرخ لاوے کی طرح تپ کے نکھرنا سیکھو سوکھی دھرتی کی دراروں سے ابھرنا سیکھو سینۂ دشت میں رہ رہ کے اترتے جاؤ یا پھر آندھی کی طرح کھل کے گزرنا سیکھو کوہساروں پہ چڑھو ابر رواں کی صورت آبشاروں کی طرح گر کے بکھرنا سیکھو مقتل شہر میں جب حرف وفا کھو جائے تم کسی چیخ کی مانند ابھرنا ...

مزید پڑھیے

کوئی بے نام خلش اکسائے

کوئی بے نام خلش اکسائے کیا ضروری ہے تری یاد آئے تیری آنکھوں کے بلاوے کی کرن کیوں مری راہ گزر بن جائے زندگی دشت سفر دھوپ ہی دھوپ تیرے بن کیسے کہاں کے سائے

مزید پڑھیے

یوں باغ کوئی ہم نے اجڑتا نہیں دیکھا

یوں باغ کوئی ہم نے اجڑتا نہیں دیکھا مدت سے کسی پھول کا چہرہ نہیں دیکھا اس شہر میں شاید کوئی دل والا نہیں ہے جو حسن کہیں بنتا سنورتا نہیں دیکھا صیاد سے گل کرتے رہے جان کا سودا مالی نے لہو کا کوئی دریا نہیں دیکھا جو سکھ کے اجالے میں تھا پرچھائیں ہماری اب دکھ کے اندھیرے میں وہ ...

مزید پڑھیے

محبت کا کوئی تو پیمان ہوتا

محبت کا کوئی تو پیمان ہوتا کہ جن پہ ہمیں بھی بہت مان ہوتا کبھی اتنے ارزاں نہ ہوتے جہاں میں ہمیں زندگی کا جو عرفان ہوتا تجھے کاش رکھتے تصور میں اپنے کہ ان کے بہلنے کا سامان ہوتا رہ زندگی میں کبھی نہ کبھی تو تجھے ڈھونڈ لیتے جو امکان ہوتا کسی سے تعلق بناتے نہ اتنا کسی سے نہ ملنے ...

مزید پڑھیے

بھیگی پلکیں شوق کا عالم وقت کا دھارا کیا نہیں دیکھا

بھیگی پلکیں شوق کا عالم وقت کا دھارا کیا نہیں دیکھا ہنستے آنسو تلخ تبسم میٹھا غصہ کیا نہیں دیکھا چھلنی سینے روشن چہرے خونیں آنکھیں رنگیں دامن ٹھنڈی آہیں ویراں نظریں حشر تمنا کیا نہیں دیکھا راہ پہ پہرے نطق پہ قدغن شوق کی یورش دل کی دھڑکن بولتی نظریں بوجھل پلکیں غمگیں چہرہ کیا ...

مزید پڑھیے

سہنے کو تو سہہ جائیں غم کون و مکاں تک

سہنے کو تو سہہ جائیں غم کون و مکاں تک اے خالق ہر درد مگر پھر بھی کہاں تک پہنچے نہ کہیں دیدۂ خوننابہ فشاں تک وہ حرف شکایت نہیں آیا جو زباں تک یہ میری نگاہوں کے بنائے ہوئے منظر کمبخت وہیں تک ہیں نظر جائے جہاں تک اک رسم وفا تھی وہ زمانے نے اٹھا دی اک زحمت بیکار تھی اٹھتی بھی کہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 237 سے 4657