جلوہ افروز ہے کعبہ کے اجالوں کی طرح
جلوہ افروز ہے کعبہ کے اجالوں کی طرح دل کی تعمیر کہ کل تک تھی شوالوں کی طرح عقل وارفتہ کے بے نور بیابانوں میں ہم بھٹکتے رہے آوارہ خیالوں کی طرح ہم کہ اس بزم میں ہیں سایۂ غم کی صورت کون دیکھے گا ہمیں زہرہ جمالوں کی طرح ہاتھ بڑھتا نہیں رندوں کا ہماری جانب ہم خرابات میں ہیں خالی ...