شاعری

جلوہ افروز ہے کعبہ کے اجالوں کی طرح

جلوہ افروز ہے کعبہ کے اجالوں کی طرح دل کی تعمیر کہ کل تک تھی شوالوں کی طرح عقل وارفتہ کے بے نور بیابانوں میں ہم بھٹکتے رہے آوارہ خیالوں کی طرح ہم کہ اس بزم میں ہیں سایۂ غم کی صورت کون دیکھے گا ہمیں زہرہ جمالوں کی طرح ہاتھ بڑھتا نہیں رندوں کا ہماری جانب ہم خرابات میں ہیں خالی ...

مزید پڑھیے

لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا

لبوں تک آیا زباں سے مگر کہا نہ گیا فسانہ درد کا المختصر کہا نہ گیا حریم ناز میں کیا بات تھی جو راز رہی وہ حرف کیا تھا جو بار دگر کہا نہ گیا یہ حادثہ بھی عجب ہے کہ تیرے غم کے سوا کسی بھی غم کو غم معتبر کہا نہ گیا نفس نفس میں تھا احساس خانہ ویرانی خرابۂ غم ہستی کو گھر کہا نہ ...

مزید پڑھیے

اک خوشی کے لیے ہیں کتنے غم

اک خوشی کے لیے ہیں کتنے غم مبتلائے صد آرزو ہیں ہم دل بھی لوح و قلم کا ہمسر ہے داستانیں ہیں کتنی دل پہ رقم عظمت رفتگاں ہے نظروں میں اپنے ماضی کو ڈھونڈتے ہیں ہم پارہ پارہ ہے خود جنوں لیکن فکر انساں اسی سے ہے محکم بھیگی بھیگی ہے ہر کرن ان کی ہے ستاروں کی آنکھ بھی پر نم یوں نہ ...

مزید پڑھیے

ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو

ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو چلے تھے گھر سے دریا دیکھنے کو چلو اپنا ہی منظر آپ دیکھیں کہاں جائیں تماشا دیکھنے کو سر مقتل کسے لایا گیا ہے چلی آتی ہے دنیا دیکھنے کو فسردہ پھول اڑتے زرد پتے چمن میں رہ گیا کیا دیکھنے کو ملی ہے مختصر سی فرصت دید تماشا گاہ دنیا دیکھنے کو چراغ رہ گزر ...

مزید پڑھیے

مشاہدہ نہ کوئی تجربہ نہ خواب کوئی

مشاہدہ نہ کوئی تجربہ نہ خواب کوئی تمام شعر و سخن حرف اجتناب کوئی اک انتظار مسلسل میں دن گزرتے ہیں کہ آتے آتے نہ آ جائے انقلاب کوئی تمام اہل زمانہ شکار حرص و ہوس کرے تو کیسے کرے اپنا احتساب کوئی نہ اس قدر غم و غصہ کو پی کے رہ جانا کہ صبر و ضبط کی عادت بنے عذاب کوئی تمام عمر ...

مزید پڑھیے

زندگی دشت بلا ہو جیسے

زندگی دشت بلا ہو جیسے تجھ کو پانے کی سزا ہو جیسے تیرے چہرے کا سمٹ کر کھلنا میری آنکھوں کی دعا ہو جیسے ایک دشمن سا ترا تن جانا مظہر خوے وفا ہو جیسے سب تری مدح پہ مجبور ہوئے حرف حق گوئی خطا ہو جیسے

مزید پڑھیے

ہوائے صبح نمو دشمن چمن کیسے

ہوائے صبح نمو دشمن چمن کیسے شکار‌ رشک و رقابت گل و سمن کیسے حصار شام و سحر اور ضبط اہل نفس نظام جبر میں بے بس یہ مرد و زن کیسے نہ کوئی بات ہوئی اور نہ کوئی دل ہی دکھا بجھے بجھے سے یہ شرکائے انجمن کیسے نہ کوئی ہاتھ اٹھا اور نہ کوئی زیر ہوا تو پھر بتاؤ کہ یہ چاک پیرہن کیسے کھلے تو ...

مزید پڑھیے

خود پہ الزام کیوں دھرو بابا

خود پہ الزام کیوں دھرو بابا زندگی موت ہے مرو بابا ریت خوابوں کی ہو کہ درد کے پھول اپنی جھولی میں کچھ بھرو بابا خوف کی دھند گھیر لے گی تمہیں کیا ضروری ہے تم ڈرو بابا جنگ جب ان سے لازمی ٹھہرے ان سے پھر جنگ ہی کرو بابا

مزید پڑھیے

جاگے ضمیر ذہن کھلے تازگی ملے

جاگے ضمیر ذہن کھلے تازگی ملے چھوٹے گہن کہ مجھ کو مری روشنی ملے کیوں ضبط و احتیاط میں گزرے تمام عمر اس منتشر دماغ کو بس برہمی ملے ہر اجنبی سے شہر میں ڈھونڈو خلوص دل ہر آشنائے‌ شہر سے بے گانگی ملے جہلائے بد زبان بنیں رہبران قوم علمائے خوش کلام کو بس گم رہی ملے اے جذبۂ سپردگی ...

مزید پڑھیے

خون کی ایک ندی اور بہے گی شاید

خون کی ایک ندی اور بہے گی شاید جنگ جاری ہے تو جاری ہی رہے گی شاید حاکم وقت سے بیزار یہ جاگی مخلوق جبر و بیداد کو اب کے نہ سہے گی شاید بڑھ کے اس دھند سے ٹکراتی ہوئی تیز ہوا تیرے ملنے کی کوئی بات کہے گی شاید

مزید پڑھیے
صفحہ 236 سے 4657