شاعری

سخن کا اس سے یارا بھی نہیں ہے

سخن کا اس سے یارا بھی نہیں ہے سخن کے بن گزارا بھی نہیں ہے بیاں شعروں میں ہم کرتے ہیں جتنا وہ اس درجہ تو پیارا بھی نہیں ہے بہت شکوے ہیں اس کو زندگی سے مگر مرنا گوارا بھی نہیں ہے نظر میں جتنی حیرانی ہے اتنا انوکھا تو نظارہ بھی نہیں ہے لباس جاں تجھے واپس تو دے دوں مگر اک قرض اتارا ...

مزید پڑھیے

شام غم یاد نہیں صبح طرب یاد نہیں

شام غم یاد نہیں صبح طرب یاد نہیں زندگی گزری ہے کس طرح یہ اب یاد نہیں یاد ہے اتنا کہ میں ڈوب گیا پستی میں کتنی اونچی ہوئی دیوار‌ ادب یاد نہیں میں نے تخلیق کئے شعر و سخن کے موتی میری تخلیق کا تھا کون سبب یاد نہیں جن کے جلووں سے تھا آباد جہان دل و جاں میری نظروں سے نہاں ہو گئے کب ...

مزید پڑھیے

زینت ہوں انگوٹھی کی نہ لاکٹ میں جڑا ہوں

زینت ہوں انگوٹھی کی نہ لاکٹ میں جڑا ہوں میں ایک نگینہ ہوں پہ مٹی میں پڑا ہوں کیوں ذات کے گنبد میں ہر اک شخص ہوا قید کب سے انہیں سوچوں کے دوراہے پہ کھڑا ہوں تم ساتھ مرا آ کے جہاں چھوڑ گئے تھے میں آج بھی تنہا اسی سنگم پہ کھڑا ہوں موقف سے میں ہٹ جاؤں یہ ممکن نہیں ہرگز پتھر کی طرح ...

مزید پڑھیے

اک سایہ سا ہے ساتھ مگر آشنا نہیں

اک سایہ سا ہے ساتھ مگر آشنا نہیں میں اس کو اور وہ مجھے پہچانتا نہیں اک واقعہ ہے یہ کہ وہ دل میں ہے جاگزیں اک حادثہ ہے یہ میں اسے جانتا نہیں یہ اور بات ہے کہ زمانہ ہے معترف میں خود تو اپنے آپ کو بھی مانتا نہیں کوئی ٹھکانہ میرا نہ میری کوئی زمیں ہوں میں بھی لا مکاں پہ کوئی مانتا ...

مزید پڑھیے

بادہ کش ہوں نہ پارسا ہوں میں

بادہ کش ہوں نہ پارسا ہوں میں کوئی سمجھائے مجھ کو کیا ہوں میں رات بکھرے ہوئے ستاروں کو دن کی باتیں سنا رہا ہوں میں میرے دل میں ہیں غم زمانے کے ساری دنیا کا ماجرا ہوں میں شعر اچھے برے ہوں میرے ہیں ذہن سے اپنے سوچتا ہوں میں کوئی منزل نہیں مری منزل کس دوراہے پہ آ گیا ہوں میں یوں ...

مزید پڑھیے

جینے کی ہے امید نہ مرنے کی آس ہے

جینے کی ہے امید نہ مرنے کی آس ہے جس شخص کو بھی دیکھیے تصویر یاس ہے جب سے مسرتوں کی ہوئی جستجو مجھے میں بھی اداس ہوں مرا دل بھی اداس ہے لاشوں کا ایک ڈھیر ہے گھیرے ہوئے مجھے آباد ایک شہر مرے آس پاس ہے مجھ سے چھپا سکے گی نہ اپنے بدن کا کوڑھ دنیا مری نگاہ میں یوں بے لباس ہے یاران مے ...

مزید پڑھیے

دل میں رکھا تھا شرار غم کو آنسو جان کے

دل میں رکھا تھا شرار غم کو آنسو جان کے ہاں مگر دیکھے عجب انداز اس طوفان کے اپنی مجبوری کے آئینے میں پہچانا تجھے یوں تو کتنے ہی وسیلے تھے تری پہچان کے زخم خوں آلود ہیں آنسو دھواں دیتے ہوئے یہ سہانے سے نمونے ہیں ترے احسان کے درد و غم کے تپتے صحرا کی کڑکتی دھوپ میں سو گیا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

مشرب حسن کے عنوان بدل جاتے ہیں

مشرب حسن کے عنوان بدل جاتے ہیں مذہب عشق میں ایمان بدل جاتے ہیں رخ جاں سے ترے پیکان بدل جاتے ہیں خانۂ قلب کے مہمان بدل جاتے ہیں عشق میں پیار کے بدل جاتے ہیں حسن کے فیض سے رومان بدل جاتے ہیں انقلابات تمدن سے جہاں میں اکثر میں نے دیکھا ہے کہ انسان بدل جاتے ہیں اک سفینے کے تصادم ...

مزید پڑھیے

نیاز و ناز کے ساغر کھنک جائیں تو اچھا ہے

نیاز و ناز کے ساغر کھنک جائیں تو اچھا ہے ترے میکش ترے در پر بھٹک جائیں تو اچھا ہے شرارے سوز پیہم کے بھڑک جائیں تو اچھا ہے محبت کی حسیں راہیں چمک جائیں تو اچھا ہے شراب شوق کے ساغر چھلک جائیں تو اچھا ہے فضائیں بادہ خانے کی مہک جائیں تو اچھا ہے ترے ہنسنے سے کلیوں کے حسیں رنگ تبسم ...

مزید پڑھیے

عشق کی منزل میں اب تک رسم مر جانے کی ہے

عشق کی منزل میں اب تک رسم مر جانے کی ہے حسن کی محفل میں اب بھی خاک پروانے کی ہے آرزوئے شوق کیف مستقل پانے کی ہے دل کی ہر تخریب میں تعمیر ویرانے کی ہے مہر قبل شام کی رفتار مستانے کی ہے مطلع رنگ شفق میں شان میخانے کی ہے شمع محفل بھی نہیں اور اہل محفل بھی نہیں نازش محفل سحر تک خاک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 164 سے 4657