شاعری

برق کے سائے میں کیف آشیاں سمجھا تھا میں

برق کے سائے میں کیف آشیاں سمجھا تھا میں ہر مآل رنگ و بو کو گلستاں سمجھا تھا میں ہر نمود عشق میں سوز نہاں سمجھا تھا میں شاہکار حسن کو آتش بجاں سمجھا تھا میں رنج و غم سے ارتباط جسم و جاں سمجھا تھا میں ہستئ ناکام کو خواب گراں سمجھتا تھا میں عشق فانی کو نشاط جاوداں سمجھا تھا ...

مزید پڑھیے

نہ بھولا جائے گا تم سے غم بے انتہا میرا

نہ بھولا جائے گا تم سے غم بے انتہا میرا رہے گا درد بن کر دل میں احساس وفا میرا سلامت ہے یہ جب تک جذبۂ ذوق رسا میرا بگاڑے گی بھلا کیا یہ زمانے کی ہوا میرا تجلی حسن زیبا کی بہاریں روئے روشن کی انہیں رنگینیوں میں دل بھی شاید کھو گیا میرا تمہیں پر چھوڑتا ہوں منصفی جرم محبت کی نہ راس ...

مزید پڑھیے

مری ذات کا ہیولیٰ تری ذات کی اکائی

مری ذات کا ہیولیٰ تری ذات کی اکائی کوئی ہم سفر ہے میرا کہ ہے تیری خود نمائی میں ہوں پر سکوں ازل سے میں ہوں پر سکوں ابد تک مگر آنکھ کہہ رہی ہے نہیں تجھ سے آشنائی میں تو لٹ چکا زمانے! مرے پاس کیا رہا ہے مرے ہونٹ سل چکے ہیں میں بھلا دوں کیا دہائی یہ فرار کا ہے لمحہ کہ قرار کی ہے ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسے حال و ماضی تیرے افسانے بھی ہوتے ہیں

کچھ ایسے حال و ماضی تیرے افسانے بھی ہوتے ہیں جو ہر ماحول مستقبل کو دہرانے بھی ہوتے ہیں جو احساس جوانی کی حسیں خلوت میں پلتے ہیں وہ جلوے منظر جذبات پر لانے بھی ہوتے ہیں خموشی داستاں ہے عصمت عنوان ہستی کی خموشی میں نہاں عصمت کے افسانے بھی ہوتے ہیں حریم دل میں تجھ کو کاوش غم ہم ...

مزید پڑھیے

وہ نالہ ہی نہیں جو پر افشاں نہیں ہوا

وہ نالہ ہی نہیں جو پر افشاں نہیں ہوا وہ داغ دل ہی کیا جو نمایاں نہیں ہوا کب وحشتوں سے دست و گریباں نہیں ہوا کب دل جنوں کے ہاتھ پریشاں نہیں ہوا بے کیفیوں کے کیف میں ہم ایسے مست تھے احساس لذت غم دوراں نہیں ہوا نوک مژہ پہ قطرۂ اشک آ کے جم گیا افسوس وہ بھی رونق داماں نہیں ہوا میری ...

مزید پڑھیے

گلا نہیں کہ کناروں نے ساتھ چھوڑ دیا

گلا نہیں کہ کناروں نے ساتھ چھوڑ دیا مرے سفینے کا دھاروں نے ساتھ چھوڑ دیا رہ حیات میں منزل کا آسرا کیسا قدم قدم پہ غباروں نے ساتھ چھوڑ دیا ہر ایک رخ سے سجا ہوتا زندگی کو مگر میں کیا کروں کہ بہاروں نے ساتھ چھوڑ دیا اداس دل نے اگر گیت گنگنایا بھی شکستہ ساز کے تاروں نے ساتھ چھوڑ ...

مزید پڑھیے

شب غم ضبط کوشی سے ہم اتنا کام لیتے ہیں

شب غم ضبط کوشی سے ہم اتنا کام لیتے ہیں جو دل میں ہوک اٹھتی ہے کلیجہ تھام لیتے ہیں نہ جانے کیوں نگاہوں سے گرے جاتے ہیں دنیا کی گنہ کرتے ہیں کوئی یا تمہارا نام لیتے ہیں اسی کو احترام حسن کہتے ہیں حقیقت میں ہم اپنے ذکر سے پہلے تمہارا نام لیتے ہیں نشاط آشیاں کا راز عرفان عقیدت ...

مزید پڑھیے

اس ادا سے عشق کا آغاز ہونا چاہئے

اس ادا سے عشق کا آغاز ہونا چاہئے سوز بھی دل میں بقدر ساز ہونا چاہئے جب محبت کو سراپا راز ہونا چاہئے کیوں شکست دل کی پھر آواز ہونا چاہئے آپ کھل جائے گا یہ باب قفس اے ہم نشیں دل میں پیدا جرأت پرواز ہونا چاہئے ہر نوائے آرزو کو اضطراب شوق میں دل کے ہر پردے سے ہم آواز ہونا چاہئے اذن ...

مزید پڑھیے

عشق میں عشق کا عنواں نہیں دیکھا جاتا

عشق میں عشق کا عنواں نہیں دیکھا جاتا درد میں درد کا درماں نہیں دیکھا جاتا عالم خواب پریشاں نہیں دیکھا جاتا دل کو احساس بہ داماں نہیں دیکھا جاتا ان سے کہہ دے کوئی وہ موند لیں آنکھیں اپنی جن سے نیرنگ گلستاں نہیں دیکھا جاتا بے خودی میری وہاں لائی جہاں پھر دل سے عالم ہوش کو گریاں ...

مزید پڑھیے

مرد میداں ہو تو کیوں کترا رہے ہو جنگ سے

مرد میداں ہو تو کیوں کترا رہے ہو جنگ سے کب تلک خر مستیاں یوں ہی رباب و چنگ سے بے حسی اوڑھے ہوئے کب تک یوں ہی ذلت سہیں کوئی تو آواز اٹھائے اک نئے آہنگ سے ہو بسیرا خاک پر دائم ترا مثل ملنگ جوڑ مت رشتہ تو اپنی ذات کا اورنگ سے ہو ترا اخلاق بر بنیاد عجز و انکسار آدمیت رکھ بچا کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 165 سے 4657