شاعری

اب تو آتے ہیں سبھی دل کو دکھانے والے

اب تو آتے ہیں سبھی دل کو دکھانے والے جانے کس راہ گئے ناز اٹھانے والے عشق میں پہلے تو بیمار بنا دیتے ہیں پھر پلٹتے ہی نہیں روگ لگانے والے کیا گزرتی ہے کسی پر یہ کہاں سوچتے ہیں کتنے بے درد ہیں یہ روٹھ کے جانے والے کرب ان کا کہ جو فٹ پاتھ پہ کرتے ہیں بسر کیا سمجھ پائیں گے یہ راج ...

مزید پڑھیے

زندگی سے تھکی تھکی ہو کیا

زندگی سے تھکی تھکی ہو کیا تم بھی بے وجہ جی رہی ہو کیا دیکھ کر تم کو کھلنے لگتے ہیں تم گلوں سے بھی بولتی ہو کیا اس قدر جو سجی ہوئی ہو تم میری خاطر سجی ہوئی ہو کیا میں تو مرجھا گیا ہوں اب کے برس تم کہیں اب بھی کھل رہی ہو کیا آج یہ شام بھیگتی کیوں ہے تم کہیں چھپ کے رو رہی ہو کیا اس ...

مزید پڑھیے

یہ جو ہر لمحہ نہ راحت نہ سکوں ہے یوں ہے

یہ جو ہر لمحہ نہ راحت نہ سکوں ہے یوں ہے اس کو پانے کا عجب دل میں جنوں ہے یوں ہے عادتاً کرتا ہے وہ وعدہ خلافی پہلے پھر بناتا ہے بہانے بھی کہ یوں ہے یوں ہے مجھ کو معلوم ہے لوٹ آئے گا میری جانب اس کے جانے پہ بھی اس دل میں سکوں ہے یوں ہے دل کا کھنچنا جو یہ جاری ہے فقط اس کی طرف اس کی ...

مزید پڑھیے

زرد پتے تھے ہمیں اور کیا کر جانا تھا

زرد پتے تھے ہمیں اور کیا کر جانا تھا تیز آندھی تھی مقابل سو بکھر جانا تھا وہ نہ تھا ترک تعلق پہ پشیمان تو پھر تم کو بھی چاہئے یہ تھا کہ مکر جانا تھا کیوں بھلا کچے مکانوں کا تمہیں آیا خیال تم تو دریا تھے تمہیں تیز گزر جانا تھا عشق میں سوچ سمجھ کر نہیں چلتے سائیں جس طرف اس نے ...

مزید پڑھیے

خاک تھے کہکشاں کے تھے ہی نہیں

خاک تھے کہکشاں کے تھے ہی نہیں ہم کسی آسماں کے تھے ہی نہیں اس نے ایسا کیا نظر انداز جیسے ہم داستاں کے تھے ہی نہیں تم نے جو بھی سوال ہم سے کئے وہ سوال امتحاں کے تھے ہی نہیں چھوڑ کر جو چلے گئے اس کو ہاں وہ ہندوستاں کے تھے ہی نہیں اتنی جلدی جو بھر گئے ہیں زخم جسم کے تھے یہ جاں کے تھے ...

مزید پڑھیے

ہنستے ہنستے بھی سوگوار ہیں ہم

ہنستے ہنستے بھی سوگوار ہیں ہم زندگی کس کے قرض دار ہیں ہم روح پر جسم کا لبادہ ہے اس لئے ہی تو سایہ دار ہیں ہم اس نے دیکھا کچھ اس ادا سے ہمیں ہم یہ سمجھے کہ شاہکار ہیں ہم ہم کو اتنا گرا پڑا نہ سمجھ اے زمانے کسی کا پیار ہیں ہم آج تک یہ سمجھ نہیں آیا جیت ہیں کس کی کس کی ہار ہیں ہم ہو ...

مزید پڑھیے

عشق جب تجھ سے ہوا ذہن کے جگنو جاگے

عشق جب تجھ سے ہوا ذہن کے جگنو جاگے لفظ پیکر میں ڈھلے سوچ کے پہلو جاگے دیکھیے کھلتا ہے اب کون سے احساس کا پھول دیکھیے روح میں اب کون سی خوشبو جاگے جانے کب میرے تھکے جسم کی جاگے قسمت جانے کب یار ترے لمس کا جادو جاگے جاگتے تنہا یہی سوچتا رہتا ہوں میں رتجگا کیسا ہو گر ساتھ مرے تو ...

مزید پڑھیے

جو رشتوں کی عجب سی ذمہ داری سر پہ رکھی ہے

جو رشتوں کی عجب سی ذمہ داری سر پہ رکھی ہے تو اب دستار جیسی چیز بھی ٹھوکر پہ رکھی ہے تری یادوں کی پائل سی کھنکتی ہے مرے گھر میں مرے کمرے کے اندر گونجتی ہے در پہ رکھی ہے تمہارے جسم نے پہلو بہ پہلو جس کو لکھا تھا وہ سلوٹ جیوں کی تیوں اب بھی مرے بستر پہ رکھی ہے تمہارے لمس کی خوشبو ...

مزید پڑھیے

اک درد کا صحرا ہے سمٹتا ہی نہیں ہے

اک درد کا صحرا ہے سمٹتا ہی نہیں ہے اک غم کا سمندر ہے جو گھٹتا ہی نہیں ہے کیا تیرا بدن جان گیا تیری انا کو پہلے کی طرح مجھ سے لپٹتا ہی نہیں ہے اسکولی کتابو ذرا فرصت اسے دے دو بچہ مرا تتلی پہ جھپٹتا ہی نہیں ہے کیا کیا نہیں کرتا ہے زمانہ اسے بد دل دل ہے کہ تری اور سے ہٹتا ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

بہت جمود ہے طاری کوئی خیال ذرا

بہت جمود ہے طاری کوئی خیال ذرا نیا سا لفظ مری خاک پر اچھال ذرا وہ تو ہی ہے کہ میں بکھرا ہوں سامنے جس کے تو کم نصیب نہیں ہے مجھے سنبھال ذرا بچھڑتے وقت یہ خواہش کہاں تھی ناجائز اسے بھی ہوتا ہماری طرح ملال ذرا نہیں جو مانتا خود کو کہ بے مثال ہے تو تو اپنے جیسی دکھا دے کوئی مثال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 155 سے 4657