شاعری

موسم ہے سازگار غزل کہہ رہے ہیں ہم

موسم ہے سازگار غزل کہہ رہے ہیں ہم دل پر ہے اختیار غزل کہہ رہے ہیں ہم ذوق جنوں مآل خرد کچھ نہ پوچھئے دامن ہے تار تار غزل کہہ رہے ہیں ہم اپنی غزل ہے شاہد معنی بہار کی پروردۂ بہار غزل کہہ رہے ہیں ہم کہتے ہیں چشم نم سے غزل میں ہے زندگی شاید ہی دل فگار غزل کہہ رہے ہیں ہم گلشن میں اب ...

مزید پڑھیے

گلشن میں ابھی جشن کا ہنگام نہیں ہے

گلشن میں ابھی جشن کا ہنگام نہیں ہے گردش میں ابھی گردش ایام نہیں ہے پھینکی تو ہیں ہم نے بھی ستاروں پہ کمندیں پرواز ابھی اپنی لب بام نہیں ہے ہر گوشہ چمن کا مجھے مقتل سا لگا ہے ڈھونڈے سے بھی قاتل کا کہیں نام نہیں ہے کلیوں کے لبوں پر ابھی پھیکا ہے تبسم پھولوں میں ابھی نامہ و پیغام ...

مزید پڑھیے

ساحل سے طبیعت گھبرائی موجوں میں سفینہ چھوڑ دیا

ساحل سے طبیعت گھبرائی موجوں میں سفینہ چھوڑ دیا جینے کی لگن میں ہم ہی نے جینے کا قرینہ چھوڑ دیا دامن میں لگائی آگ ادھر اب ان کے کرم کو کیا کہئے طوفان کا رخ تھا جس رخ پر کشتی کا ادھر رخ موڑ دیا تھے ساتھ اسیر فصل جنوں راہوں میں نہ جانے کیا گزری کیا کہئے کہ کس نے ساتھ دیا کیا کہئے کہ ...

مزید پڑھیے

ایسا ہے کون جو مجھے حق تک رسائی دے

ایسا ہے کون جو مجھے حق تک رسائی دے دیکھوں جسے بھی خوف زدہ سا دکھائی دے اپنے ہیں شہر بھر میں پرایا کوئی نہیں پھر بھی ہمارا دل ہے جو تنہا دکھائی دے تخصیص کوئی ظالم و مظلوم کی نہیں کوئی دہائی دے بھی تو کس کی دہائی دے ہمدرد ہوں غیور ہوں اور پرخلوص ہوں اے کارساز بہنوں کو اب ایسے ...

مزید پڑھیے

کوچے سے نکلواتے ہو عبث ہم ایسے وطن آواروں کو

کوچے سے نکلواتے ہو عبث ہم ایسے وطن آواروں کو رہنے دو پڑے ہیں ایک طرف دکھ دیتے ہو کیوں بے چاروں کو روگی جو تمہارے عشق کے ہیں جیتے ہیں تمہاری آس پہ وہ دو چار دنوں پہ خدا کے لیے دیکھا تو کرو بیماروں کو ہم شکل کسی مژگاں کے جو تھے تو دل میں ہمارے چبھنا تھا افسوس کہ اے صحرائے جنوں ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات ہے تاروں کا جہاں ہے اے دوست

چاندنی رات ہے تاروں کا جہاں ہے اے دوست زندگی ساحل دریا پہ رواں ہے اے دوست اشک شوئی کے لئے اب بھی ہیں دامن لرزاں زندگی آج بھی اک خواب گراں ہے اے دوست اب بھی مایوس ہیں وابستۂ تقدیر ہیں دل اب بھی اٹھتا ہوا سینے سے دھواں ہے اے دوست کتنے بے رنگ سے خاکوں میں لہو بھرتی ہوں دل کی دھڑکن ...

مزید پڑھیے

طغیانی سے ڈر جاتا ہوں

طغیانی سے ڈر جاتا ہوں جسم کے پار اتر جاتا ہوں آوازوں میں بہتے بہتے خاموشی سے مر جاتا ہوں بند ہی ملتا ہے دروازہ رات گئے جب گھر جاتا ہوں نیند ادھوری رہ جاتی ہے سوتے سوتے ڈر جاتا ہوں چاہے بعد میں مان بھی جاؤں پہلی بار مکر جاتا ہوں تھوڑی سی بارش ہوتی ہے کتنی جلدی بھر جاتا ...

مزید پڑھیے

پھر اسی دھن میں اسی دھیان میں آ جاتا ہوں

پھر اسی دھن میں اسی دھیان میں آ جاتا ہوں تجھے ملتا ہوں تو اوسان میں آ جاتا ہوں بے نشاں ہو رہوں جب تک تری آواز کے ساتھ پھر کسی لفظ سا امکان میں آ جاتا ہوں جسم سے جیسے تعلق نہیں رہتا کوئی بیشتر دیدۂ حیران میں آ جاتا ہوں شاخ گل سے جو ہوا ہاتھ ملاتی ہے کہیں اسی اثنا اسی دوران میں آ ...

مزید پڑھیے

کسی سفر کسی اسباب سے علاقہ نہیں

کسی سفر کسی اسباب سے علاقہ نہیں تمہارے بعد کسی خواب سے علاقہ نہیں ہمارے عہد کی دیوانگی ہمیں سے ہے ہمارے عصر کو مہتاب سے علاقہ نہیں مگر یہ خواب اگر خواب ہیں تو کیسے ہیں کہ جن کو دیدۂ بے خواب سے علاقہ نہیں ہر ایک ساز کو سازندگاں نہیں درکار بدن کو ضربت مضراب سے علاقہ نہیں

مزید پڑھیے

ان آنکھوں کی حیرت اور دبیز کروں

ان آنکھوں کی حیرت اور دبیز کروں کیوں نہ تجھے بھی آئینہ تجویز کروں حرف نگفتہ بیچ میں حائل ہے کب سے باب سخن میں خاموشی تقریظ کروں فرصت شب میں تیرا دھیان آ جاتا ہے کنج چمن کیونکر گھر کی دہلیز کروں آنکھیں مند جائیں گی منظر بجھنے تک اس اثنا میں خواب کسے تفویض کروں

مزید پڑھیے
صفحہ 139 سے 4657