محبت کا جہاں میں گر محبت ہی صلہ ہوتا
محبت کا جہاں میں گر محبت ہی صلہ ہوتا نہ آنکھوں سے کسی کی درد کا آنسو گرا ہوتا یہ تیری دل نشیں دنیا بھی جنت کی طرح ہوتی سرشت آدمی کو بس نہ اتنا شر دیا ہوتا
محبت کا جہاں میں گر محبت ہی صلہ ہوتا نہ آنکھوں سے کسی کی درد کا آنسو گرا ہوتا یہ تیری دل نشیں دنیا بھی جنت کی طرح ہوتی سرشت آدمی کو بس نہ اتنا شر دیا ہوتا
اس واسطے وہ قابل دستار نہیں تھا وہ شخص کسی شہر کا سردار نہیں تھا منظر یہ مری آنکھ نے دیکھے ہیں لگاتار دیوار تو تھی سایۂ دیوار نہیں تھا پتھر تھا محبت کو نہیں جان سکا وہ وہ شخص تو ہرگز مرا دل دار نہیں تھا جانا ہے ہمیں لوٹ کے ہرگز نہیں رکنا کیا ہم نے بتایا تمہیں سو بار نہیں ...
اجڑے مکاں کا کھا گئی جلتا ہوا دیا ملنا پڑے گا تجھ سے مجھے سر پھری ہوا اپنے تعلقات تو کب کے ہوئے تمام کہنے کو رہ گیا ہے بتاؤ اب اور کیا تو چاہتا یہی تھا کہ ملنے نہ پائیں ہم آخر کو ہو گئی ہے تری سرخ رو دعا پھر کیوں نہ آج سے ہی رہیں دور دور ہم آخر کبھی تو ہونا پڑے گا ہمیں جدا محفل ...
بتاؤ کس طرح پہنچے ہو شب کو تم ٹھکانے پر مجھے تو کچھ بھروسا بھی نہیں ہے اس زمانے پر بتاؤ کون تھا کس نے جلا ڈالا تمہارا گھر پرندہ بھی نظر رکھتا ہے اپنے آشیانے پر نہ جانے کس طرح ہوں گے یہاں حالات بہتر اب یہاں تو سانپ بیٹھے ہیں جدھر دیکھو خزانے پر مجھے معلوم ہے مجھ کو دیا ہے زہر تو ...
خوف آتا ہی نہیں اب تو مجھے پانی سے اس لیے جھیل میں اتری ہوں میں آسانی سے کون تھا کس کی جدائی کا تجھے صدمہ ہے آج پوچھوں گی یہی شہر کی ویرانی سے تو بھی رہتا ہے مرے سامنے شرمندہ سا میں بھی نادم ہوں تری روز کی نادانی سے موت بھی ڈوب کے ہونی ہے ہماری شاید ڈر جو لگتا ہی نہیں ہے ہمیں ...
اپنا حق ہی مانگ رہے ہیں تم سے ہم ہم نے تم سے مانگی کچھ خیرات نہیں تبدیلی تو ہم میں بھی آئی ہے ذرا تم میں بھی اب پہلے جیسی بات نہیں
ترا خیال ہے اب چشم تر کا زاویہ دیکھ ترے بغیر بھی زندہ ہوں میرا حوصلہ دیکھ ادھر ستم کی ہوا حوصلوں کے دیپ ادھر میان باطل و حق ہے بپا جو معرکہ دیکھ دلوں کے کھیل میں رسوائی بھی ہے غم بھی ہیں یہ پہلے سوچ لے پھر کر کوئی معاہدہ دیکھ دل و نگاہ میں رکھ صرف منزل مقصود کیا ہے عزم سفر کا تو ...
ہمارا پھر کبھی پیچھا کرو گے ہمیں چھپ چھپ کے پھر دیکھا کرو گے اگر کچھ دن نظر آئے نہ تم کو ہمارا تم کبھی پوچھا کرو گے ہمیں تم ڈھونڈھنے گھر سے اکیلے ہماری کھوج میں نکلا کرو گے بچھڑ جائیں اگر ہم تم اچانک ہمارے بعد کیا تنہا کرو گے اگر یہ سوچ بھی ہو جائے پوری تو اس کے بعد کیا سوچا ...
ہم نے سوچا تھا بہاروں میں کھلے گا گلشن زندگانی کی کڑی دھوپ ہے آنگن آنگن پھول مرجھائے ہیں منہ بند ہیں ساری کلیاں خالی خالی ہے یہاں آج بھی دامن دامن کتنا روکش تھا یہ سپنوں کا حسین تاج محل نیند ٹوٹی ہے تو دھندلایا ہے درپن درپن کتنے بے باک ارادوں سے اٹھائے تھے قدم کتنا افسردہ سا ...
کائنات حسن میں اک برہمی پاتی ہوں میں زندگی میں زندگی ہی کی کمی پاتی ہوں میں دیکھیے یوں چھو نہ لیجے دل کے تاروں کو مرے آپ کی الجھی نگاہوں سے بھی گھبراتی ہوں میں زخم دل زخم جگر کی بات پھر سے چھیڑئیے ساز کے دل کش سروں پر اب غزل گاتی ہوں میں یہ گراں باریٔ منزل یہ تمنائے حسیں آپ کی ...