شاعری

ٹھنڈی ہے یا گرم ہوا ہے

ٹھنڈی ہے یا گرم ہوا ہے اس کو کیا اس کی پروا ہے کتنی گہری خاموشی ہے کتنا گہرا سناٹا ہے ہے درپیش مسافت کیسی ایک زمانہ ہانپ رہا ہے جنگل تو طے کر آئے ہیں آگے اک صحرا پڑتا ہے اگلے پل کیا جانے کیا ہو اب تو یہی دھڑکا رہتا ہے کوئی نہیں ہے ساتھ تمہارے اپنے ہی قدموں کی صدا ہے کون ہے وہ ...

مزید پڑھیے

سو اس کو چھوڑ دیا اس نے جب وفا نہیں کی

سو اس کو چھوڑ دیا اس نے جب وفا نہیں کی پلٹ کے ہم نے کوئی اس سے التجا نہیں کی جگر فگار رہے قیس سے سوا لیکن گئے نہ دشت کو اور چاک بھی قبا نہیں کی خدا کو حاضر و ناظر سمجھ کے یہ کہہ دے کہ ہم نے تجھ سے محبت میں انتہا نہیں کی مگر تو پھر بھی گلہ مند ہے تو ہوتا رہے کہ ہم نے تجھ سے وفا کی ...

مزید پڑھیے

جب وہ تنہا کبھی ہوا ہوگا

جب وہ تنہا کبھی ہوا ہوگا یاد شاید مجھے کیا ہوگا سوچتا ہوں مری طرح وہ بھی میرے بارے میں سوچتا ہوگا آہ بھر کے ہوں مطمئن ایسے جیسے اس نے بھی سن لیا ہوگا ایسے مڑ مڑ کے دیکھتا ہوں ادھر جیسے اب تک نہ دیکھتا ہوگا پھر سنا ہے وہ یاد کرتا ہے آپ نے بھی تو کچھ سنا ہوگا ہم بھی کیا کیا نہیں ...

مزید پڑھیے

اپنی زمیں سے دور زمان و مکاں سے دور

اپنی زمیں سے دور زمان و مکاں سے دور ہم نے سجا لیا ہے قفس آشیاں سے دور مانا کہ ہم وطن سے عزیزوں سے دور ہیں تہذیب سے جدا ہیں نہ اردو زباں سے دور محصور تنگنائے مسالک میں ہم نہیں دیر و حرم سے دور ہیں کوئے بتاں سے دور محسوس کر رہے ہیں ولایت میں آج کل ہندوستاں میں رہتے ہیں ہندوستاں سے ...

مزید پڑھیے

میں خزاں کو بہار کرتا ہوں

میں خزاں کو بہار کرتا ہوں جبر کو اختیار کرتا ہوں موت کی طرح کاش برحق ہو جس کا میں انتظار کرتا ہوں عہد و پیمان پر نہیں لیکن آپ پر اعتبار کرتا ہوں جو کرے یاد دشمنی میں بھی ایسے دشمن کو پیار کرتا ہوں اپنے ذرات کو خیالوں کے گوہر آب دار کرتا ہوں دل نشیں مختصر سلیس آساں شاعری با ...

مزید پڑھیے

مٹا کر پھر بنایا جا رہا ہے

مٹا کر پھر بنایا جا رہا ہے ہمیں کوزہ بتایا جا رہا ہے وہی کچھ تو کریں گے اپنے بچے انہیں جو کچھ سکھایا جا رہا ہے وہی پانی پہ لکھتے جا رہے ہیں ہمیں جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے ہتھیلی کی لکیریں ہیں کہ جن میں کوئی دریا بہایا جا رہا ہے ہمیں ڈرنا نہیں آتا ہے جاذبؔ ہمیں پھر بھی ڈرایا جا ...

مزید پڑھیے

برسوں کا شناسا بھی شناسا نہیں لگتا

برسوں کا شناسا بھی شناسا نہیں لگتا کچھ بھی دم ہجراں مجھے اچھا نہیں لگتا کر لوں میں یقیں کیسے کہ بدلہ نہیں کچھ بھی لہجہ ہی اگر آپ کا لہجہ نہیں لگتا اک تیرے نہ ہونے سے ہوا حال یہ دل کا بستی میں کوئی شخص بھی اپنا نہیں لگتا کاغذ سے وہ مانوس سی خوشبو نہیں آئی یہ خط بھی ترے ہاتھ کا ...

مزید پڑھیے

احوال دل زار سنایا نہیں جاتا

احوال دل زار سنایا نہیں جاتا جو راز عیاں ہو وہ بتایا نہیں جاتا اپنا تو دل زار ہے دانائی سے خالی نادان سے نادان منایا نہیں جاتا تم ہی یہ بتاؤ میں بھلاؤں تمہیں کیسے اس دل سے کوئی نقش مٹایا نہیں جاتا سر پھوڑنا مشکل نہیں ہوتا ہے جنوں میں دیوار سے عاشق کو لگایا نہیں جاتا تعبیر ملے ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پہ جو تیرے ہے یہ مسکان مری جان

ہونٹوں پہ جو تیرے ہے یہ مسکان مری جان لے جائے گی اک روز مری جان مری جان سب ہوش گنوا بیٹھے ترے چاہنے والے اس بات پہ ہونا نہیں حیران مری جان اپنوں سے کبھی ترک تعلق نہیں کرتے اپنوں کو نہیں کرتے پریشان مری جان اس ہنسنے ہنسانے سے نہیں جائے گا کچھ بھی اس میں تو نہیں کوئی بھی نقصان ...

مزید پڑھیے

حقیقت بھی لگنے لگی ہے کہانی

حقیقت بھی لگنے لگی ہے کہانی مجھے کھا گئی ہے مری خوش بیانی نہیں یاد مجھ سے ملا تھا کبھی وہ وگرنہ اسے یاد ہے ہر کہانی کوئی یار بیری نہ اپنا اگر ہو تو یہ زندگی ہے فقط رائیگانی بس اک کال پر ہی چلے آئے ہو تم نوازش کرم شکریہ مہربانی یہاں دور و نزدیک شہر بتاں ہے کسی کو نہیں دل کی حالت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 105 سے 4657