محفل غم میں ضیا تو ہوگی

محفل غم میں ضیا تو ہوگی
دل جلیں گے تو جلا تو ہوگی


کرۂ ارض کو ہی لوٹ چلو
سانس لینے کو ہوا تو ہوگی


کوئی سمجھے کہ نہ سمجھے لیکن
بات ہونٹوں سے جدا تو ہوگی


میں تو اس شہر سے ناواقف ہوں
اس میں سچ بات روا تو ہوگی


لب تو خاموش ہیں حسب ارشاد
دل دھڑکنے کی صدا تو ہوگی