لغزش پا میں فسانے کتنے

لغزش پا میں فسانے کتنے
طے ہوئے پل میں زمانے کتنے


کوئی گاہک نہ ملا وعدوں کا
ہو گئے لوگ سیانے کتنے


میں طلب تھا سر‌‌ دربار جفا
مل گئے یار پرانے کتنے


آپ کو کام بہت دن چھوٹے
جی نہ چاہے تو بہانے کتنے


اب تو صد چاک ہیں گل کے پردے
راز کھولے ہیں صبا نے کتنے


میں نہ پہچان سکا آج انہیں
بن گئے اس پہ فسانے کتنے