کون ہے جو درد بانٹے رات کے اس پہر میں
کون ہے جو درد بانٹے رات کے اس پہر میں
ہے کوئی جو جاگتا ہو اس سمے بھی شہر میں
بیعت ثانی پہ مائل ہے مرا رنجور دل
گر میسر دوسرا کوئی خدا ہو دہر میں
شوق سے پیتے ہیں اور رہتے ہیں پھر احسان مند
دشمنوں نے کیا ملایا ہے ہمارے زہر میں
قطرہ قطرہ یوں ملایا اس کو دریا کر دیا
تیری یادوں نے برس کر میرے غم کی نہر میں
ہجر میں روئیں بھلا کاہے جہاں آباد ہے
تیری اپنی موج ہے اور ہم ہیں اپنی لہر میں
میری خاموشی فقط میری وضع داری نہیں
سانس آ پائے تو بولوں جبر میں اور قہر میں
خوں مرے لفظوں سے ٹپکا اور مصرعہ بن گیا
گو ہے ممکن مسئلہ ہو وزن میں اور بحر میں