کہکشان غم سے پر ہے آسمان زندگی

کہکشان غم سے پر ہے آسمان زندگی
اور زمیں پر ہر قدم ہے امتحان زندگی


کیا سنائیں آپ کو ہم داستان زندگی
بن گیا چہرا ہمارا ترجمان زندگی


جب تصور میں ترا چہرہ نظر آنے لگا
ہو گئی رنگین و روشن داستان زندگی


کیا ہمیں دنیا سے شکوہ کیا شکایت آپ سے
بن گئے اپنے ہی ارماں دشمنان زندگی


جو وفا کی راہ میں قربانیاں دیتے رہے
ان سے وابستہ رہی دنیا میں شان زندگی


سر کٹا کر جینے والوں پر ہے نازاں کائنات
سر اٹھا کر کیا جئیں گے بزدلان زندگی


تھے کبھی مشکورؔ ہم بھی رونق بزم سخن
ہم بھی شامل تھے شمار شاعران زندگی