جب طبیعت ہی نہ حاضر ہو حضوری کیا ہے

جب طبیعت ہی نہ حاضر ہو حضوری کیا ہے
زہد ہو وجہ تفاخر تو ضروری کیا ہے


خلق کے ڈر سے جو سجدہ بھی ہے ایقان بھی ہے
نام طوری ہو قصوری ہو فتوری کیا ہے


رکعتیں دل سے پڑھو آٹھ ہوں بارہ ہوں یا بیس
شرط اخلاص ہے آدھی ہوں یا پوری کیا ہے


یہ تو ورزش ہے قواعد ہیں نہ رسم اور رواج
دل سے نکلے گی تو واں جانے میں دوری کیا ہے


اس کے دربار میں بس عجز ہے سکہ رائج
ہو بشر خاکی کہ ناری ہو کہ نوری کیا ہے