جب بھی قصہ اپنا پڑھنا
جب بھی قصہ اپنا پڑھنا
پہلے چہرہ چہرا پڑھنا
تنہائی کی دھوپ میں تم بھی
بیٹھ کے اپنا سایا پڑھنا
آوازوں کے شہر میں رہ کر
سیکھ گیا ہوں لہجہ پڑھنا
ہر کونپل کا حال لکھا ہے
شاخ کا پیلا پتا پڑھنا
بھیج کے نامہ یاد دلا دو
بھول گیا ہوں لکھنا پڑھنا
لوگو میری پیاس کا قصہ
صدیوں دریا دریا پڑھنا
دیواروں پر کچھ لکھا ہے
تم بھی اپنا کوچہ پڑھنا
ماضی کا آئینہ رکھ کر
خود کو تھوڑا تھوڑا پڑھنا
میں ہوں سنگ میل کی صورت
مجھ سے میرا رستا پڑھنا
زیست کا مطلب کیا ہے کاظمؔ
اپنا اپنا لکھنا پڑنا