ہوئی ہے سایہ فگن صبر کی قبا مجھ پر
ہوئی ہے سایہ فگن صبر کی قبا مجھ پر
چلائے تیر کہو آ کے حر ملا مجھ پر
کھنچا ہوا ہے مرے گرد مامتا کا حصار
اثر کہاں سے کرے کوئی بد دعا مجھ پر
مٹا سکی نہ مرے پاؤں کی لکیریں تک
ہزار ریت اڑاتی رہی ہوا مجھ پر
مرے وجود سے آگے نہ تھی کوئی منزل
اداسیوں کا سفر ختم ہو گیا مجھ پر
اسی کو سارے زمانے نے مل کے بانٹ لیا
جو رہ گیا تھا گزرنے سے سانحا مجھ پر
مرے بدن پہ ریا کا نہیں کوئی دھبا
بھلی کہاں سے لگے گی تری قبا مجھ پر
قبول ہوتیں اگر پستیاں مجھے کاظمؔ
یہ آسمان مسائل نہ ٹوٹتا مجھ پر