ہوگا کم اپنا فاصلہ یوں ہی

ہوگا کم اپنا فاصلہ یوں ہی
کٹ ہی جائے گا راستہ یوں ہی


شوخیاں تیری یاد آتی ہیں
پھر سے آ کر مجھے ستا یوں ہی


میں جلاتی رہی وفا کے چراغ
اور بجھاتی رہی ہوا یوں ہی


جب کہ قسمت میں روشنی ہی نہیں
کیوں یہ خورشید بھی اگا یوں ہی


اس کی آنکھیں تو مے کا ساگر ہیں
اے مرے دل تو ڈوب جا یوں ہی


پھول جھڑتے ہیں اس کی باتوں سے
وہ نہیں ہوتا لب کشا یوں ہی


میں نے سورج کا ساتھ پایا ہے
ہے منورؔ نہیں ضیا یوں ہی