گو آپ کو ہے عشق ہر اک مہ لقا کے ساتھ

گو آپ کو ہے عشق ہر اک مہ لقا کے ساتھ
عقد مبین کیجئے عقل رسا کے ساتھ


منت کی عاجزی بھی کی زاری بھی کی مگر
اپنا تو کام نکلا تھا جور و جفا کے ساتھ


یوں تو وفا کی دیویوں کی ایک تھی قطار
لیکن نبھی تو نبھ گئی اک بے وفا کے ساتھ


ہر کام میں قرینہ سلیقہ تو چاہئے
کیا ہے عجب کہ پیار ہو شرم و حیا کے ساتھ


کیوں خواہ مخواہ زیست کو زنداں بیاں کریں
گزری ہے عمر اپنی تو اک دل ربا کے ساتھ


گو زندگی کے اپنے ہی انداز ہیں مگر
منصف ہے موت ایک سی شاہ و گدا کے ساتھ