دل ان کو دے چکے ہیں مگر بات بھی تو ہو
دل ان کو دے چکے ہیں مگر بات بھی تو ہو
ان سے کبھی ہماری ملاقات بھی تو ہو
مانا کہ قلب و جاں میں وہ رہتے ہیں ضو فشاں
ظاہر میں ان کے نور کی برسات بھی تو ہو
ان کے سوا نہ چاند ستارے دکھائی دیں
ایسی ہمیں نصیب کوئی رات بھی تو ہو
دیکھے بغیر سجدہ ادا کس طرح کریں
پیش نظر ہمارے تری ذات بھی تو ہو
ان کو ولیٔ عہد جہاں کیسے مان لیں
تیرہ شبی میں نور کرامات بھی تو ہو
مشکورؔ معذرت کا کوئی مسئلہ نہیں
کس بات پر خفا ہیں کوئی بات بھی تو ہو