چشم بینا ہو تو ہر جا ترا جلوہ دیکھے

چشم بینا ہو تو ہر جا ترا جلوہ دیکھے
قطرے قطرے میں نہاں وسعت دریا دیکھے


جب تلک چشم سویدا میں نہ ہو طاقت دید
نہیں ممکن کہ کوئی جلوہ تمہارا دیکھے


طور پر جانے کی تکلیف سہے کیوں وہ کلیم
جلوۂ یار کو جو دل میں ہویدا دیکھے


حسرت دید میں آنکھیں ہیں کھلی بعد فنا
کوئی اے کاش مرا آن کے نقشا دیکھے


کہیں حسرت کا مرقع ہے کہیں حرماں کا
کہتے ہیں آن کے گھر کوئی ترے کیا دیکھے


مجھ کو مرنے نہیں دیتا ہے تصور اس کا
کوئی آ کر مرے جینے کا سہارا دیکھے


صاف ہو جائے گی دنیا کی حقیقت روشن
چشم آفاقؔ سے آفاق کا نقشا دیکھے