پھرتی ہے یوں دعا مری شمع اثر کے آس پاس

پھرتی ہے یوں دعا مری شمع اثر کے آس پاس
جیسے چکور ہو کوئی شب کو قمر کے آس پاس


ترچھی نظر کے کھائے ہیں سینہ پہ تیر اس قدر
نام کو بھی جگہ نہیں قلب و جگر کے آس پاس


تیری نگاہ اٹھتے ہی صاف تھے دم میں کل پرے
رہتی ہے کیا قضا لگی تیغ نظر کے آس پاس


اس کے حریم ناز میں بار ملے تو کیا ملے
تیر نظر کے پاس ہے تیغ کمر کے آس پاس


مجھ کو ملا کے خاک میں خاک بھی کیا اڑاؤ گے
کرتے ہو دفن کس لئے راہ گزر کے آس پاس


تم ہی کہو وفا پرست ہوتے ہیں بوالہوس کہیں
ہوتے ہیں خار مثل غیر ہر گل تر کے آس پاس


محفل حسن میں وہ بت آتا ہے یوں نظر الگ
بیٹھے ہوں زہرہ مشتری جیسے قمر کے آس پاس